٭ سعید حمید
یہ انکشاف قطعی حیرت انگیز نہیں ہے کہ امریکہ تا انڈیا انٹلی جینس ایجنسیاں انسداد دہشت گردی یا دہشت گردی کے تدارک یا دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر کاﺅنٹر ٹیرارزم (Counter Terrorism) کی جو سرگریاں انجام دے رہی ہیں، ان کے ذریعے بے گناہ نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے، انھیں دہشت گردی کے لیے اکسایا جاتا ہے، انھیں ہتھیار اور سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ا نھیں پوری طرح جال میں پھنسایا جاتا ہے اور پھر انھیں دہشت گرد قرار دے کر، کسی خوف ناک دہشت گردانہ حملہ کی فرضی داستانیں گڑھ کر جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔
آخر ’کاﺅنٹر ٹیرارزم‘ کی اس سرگرمی کا کیا مقصد ہے؟ بے گناہ مسلمانوں اور بے قصور مسلم نوجوانوں کو پھنسانا؟ ’کاﺅنٹر ٹیرارزم‘ کے نام پر جس طرح مسلم نوجوانوں کو پھنسایا جارہا ہے، اس گھناﺅنی حرکت کے لیے امریکی ایجنسی ایف بی آئی پیش پیش سمجھی جارہی ہے اور ہمارے ملک کی اس جنس ایجنسیوں اور اے ٹی ایس دستوں پر بھی الزام ہے کہ موساد، ایف بی ا ٓئی کا سکھایاہوا کھیل ہماری پولس اور انٹلی جنس ایجنسیاں ہمارے ملک میں کھیل رہی ہیں۔ یہ دہشت گردی کو روکنے کا طریقہ نہیں ہے ! یہ آگ سے کھیلنے کی خطرناک حرکت ہے۔
دنیا بھر میں اسلامی آتنک واد کو جس طرح بدنام کیا جارہا ہے، اس میں مسلم نوجوانوں کے حقیقی دہشت گردانہ رول کا کتنا حصہ ہے اور امریکہ، ا سرائیل، یوروپ سے لے کر ہندستان تک، مختلف ممالک کی انٹلی جنس ایجنسیوں اور پولس دستوں کے کاﺅنٹر ٹیرارزم کا کتنا عمل دخل ہے، جس میں وہ مخبروں کے ذریعے بھولے بھالے مسلم نوجوانوں کو از خود ہڑپ کرتے ہیں، انھیں ورغلاتے ہیں، انھیں خود ہی بھڑکاتے ہیںاور ان کے ا رد گرد ایسا جال پھینکتے ہیں کہ جب وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں تو پھر ا نٹلی جنس اور پولس کے گڑھے ہوئے فرضی قصے کو دہشت گردانہ منصوبے کا نام دیا جاتا ہے۔ ان بے گناہ اور معصوم مسلم نوجوانوں کو خطرناک دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔
ہمارے اپنے ملک میں اس طرح کی حرکتوں کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ لیکن فی الوقت دنیا کی نگاہیں امریکہ اور ایف بی آئی پر ہیں۔ امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے بھی امریکہ میں کاﺅنٹر ٹیرارزم کے نام پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا قابل اعتراض سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی مثال سامنے ہے۔ داﺅد گیلانی کو 2006 میں اگر ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے نام سے امریکی پاسپورٹ مل جاتا ہے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ داﺅد گیلانی عرف ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے سر پر امریکہ میں کوئی بڑا ہاتھ تھا اور اس سرپرستی کے ذریعے ڈیوڈ ہیڈلی نے امریکہ سے لے کرپاکستان اور ہندستان تک ایسا کاﺅنٹر ٹیرارزم آپریشن انجام دیا، جس کی تفصیلات اب دنیا کی کوئی بھی پولس حاصل نہیں کرسکتی اور اس کی حقیقت کبھی آشکار نہیں ہوگی۔
ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے کتنے مسلم نوجوانوں کے کیریئر تباہ کردیے، کتنے مسلم نوجوانوں کو امریکی کاﺅنٹر ٹیرارزم آپریشن کی بھینٹ چڑھا دیا۔ کسے پتہ؟ ہیڈلی صرف 26/11 حملوں میں ہی شامل تھایا اس نے اس کے علاوہ بھی بہت سارے جرائم میں ماسٹر مائنڈ کا رول ادا کیا؟ یہ کون جان سکتا ہے؟ ہاں، اگر غیر جانبدارانہ تحقیقاتی ایجنسی کو ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی حراست ملے.... اور ایف بی آئی کے تربیت یافتہ اس ڈبل ایجنٹ کا نارکوٹیسٹ کیا جائے، لائی ڈٹیکٹرٹیسٹ کیا جائے، تب بہت سے راز فاش ہوسکتے ہیں۔ اگر ہماری حکومت خوش ہے کہ امریکہ چند ہندستانی پولس افسران کو اپنی سرزمین پر بلا کر ڈیوڈ کولمین ہیڈلی سے آزادانہ پوچھ گچھ کی اجازت دے گا تو یہ غلط فہمی ہے۔ ویسے ہماری حکومت اور ہمارے پولس افسران بھی ڈیوڈ ہیڈلی کی جسارت حاصل کرنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں کہ جو حقائق کے انکشاف کے لیے درکار اور ضروری ہیں۔ ایک خانہ پری کی جارہی ہے، تاکہ عوام کی زبان اور تنقید کے سلسلے کو بند کیا جائے۔
ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کا معاملہ بھی اس قدر واضح نہیں ہے، البتہ 20مئی 2009 کو امریکی شہر نیویارک میں ایف بی آئی نے چار سیاہ فام نو مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا ایک بڑا ناٹک رچا تھا۔ امریکی عدالت میں اس ناٹک کی قلعی کھل چکی ہے۔ ایف بی آئی نے اس چار سیاہ فام نو مسلم نوجوانوں پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے امریکی فوجی جیٹ طیاروں کو اسٹنگر میزائلوں سے اڑانے اور نیویارک کے ایک علاقے کے دو یہودی عبادت گھروں کو بم دھماکہ کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان مسلم نوجوانوں کو ’جہادی آتنک وادی‘ قرار دے کر جھوٹے کیس میں پھنسانے کایہ اسٹنگ آپریشن ایف بی آئی کے ایک ایسے بدنام افسر نے کیا تھا، جس کا ماضی داغدار ہے۔ اس ایف بی آئی افسر پر 9-11 حملوں کے دوملزمین کو اطلاع کے باوجود چھوڑ دینے کا الزام ہے۔ 9/11 سے قبل اس نے مشتبہ کردار ادا کیاتھا اور 9/11 کی تحقیقات کے دوران بھی اس کا رول مشتبہ رہا ہے۔ ایف بی آئی کا ےہی مشتبہ افسر نیویارک کے چار سیاہ فام نو مسلم نوجوانوں کو القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے خطرناک جہادی آتنک وادی بناکر پیش کرنے اور ان پر 9/11 کے بعد امریکہ پر ایک دوسرے بہت بڑے حملے کی سازش رچنے کا الزام عائد کرنے میں کلیدی کردار نبھاتا رہا ہے۔
اس مشتبہ اور مشکوک ریکارڈ والے ایف بی آئی افسر نے ایک مشتبہ پاکستانی ایجنٹ اور ایف بی آئی کے ایک پیشہ ور مخبر شاہد حسین کو چارہ کے طور پر بے گناہ مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا۔ نیویارک میں جو کچھ حرکت ایف بی آئی کے افسران مسلمانوں کو دہشت گرد اور مسجدوں کو دہشت گردوں کے اڈے ثابت کرنے اور ان پر جھوٹا الزام عائد کرنے کے لیے کررہے ہیں اور جو طریقے استعمال کررہے ہیں، بالکل وہی کام ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی انٹلی جنس ایجنسیاں، اے ٹی ایس، اسپیشل ٹاسک فورس کے افسران یا اسپیشل سیل کے اہلکار ےہی حرکتیں کر رہے ہیں۔
وہ شاہد حسین جیسے مخبروں کو استعمال کررہے ہیں۔ شاہد حسین ایف بی آئی کا مخبر تھا۔ وہ ایف بی آئی کے کاﺅنٹر ٹیرارزم آپریشن کے لیے نیویارک کی ہر مسجد میں نمازی بن کر گھومتا تھا۔ شاہد حسین کے پاس بی ایم ڈبلیو اور دیگر شاندار گاڑیاں تھیں۔ اس کے پاس ڈالروں کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ وہ مسجدوں میں جاکر ایسے غریب مسلم نوجوانوں کو تلاش کیا کرتاتھا، جو انتہائی مفلس اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ جن کے گھریلو حالات بڑے خستہ ہوا کرتے تھے، جن کے گھر میں بیماری، تنگدستی اور پریشانیاں گھر کر لیتی تھیں۔ ایف بی آئی کا یہ پیشہ ور مخبر اور ایجنٹ شاہد حسین ایسے مسلم نوجوانوں سے دوستی کرلیتا تھا۔ ان کے گھر تک وہ پہنچ جایا کرتا تھا۔ ان کی تھوڑی بہت مالی امداد کردیاکرتاتھا۔
پھر ان نوجوان کے ساتھ ملاقاتوں میں عالم اسلام کی صورت حال پر بات چیت کرتا، امریکہ اور حکومت امریکہ کے خلاف بولتا، افغانستان، عراق میں امریکی حملے کے دوران مسلمانوں کے قتل عام پر مگرمچھ کے آنسو بہا تا اور ان نوجوانوں کو ورغلاتا تھا کہ امریکہ سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ امریکہ میں ہی عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لینا چاہیے۔ انھیں روپیوں کا لالچ دیتا، ان سے کہتا کہ وہ ہتھیاروں، بموں، میزائلوں کا انتظام کردے گا۔ ایف بی آئی کا ایجنٹ اور دلال اپنے آپ کو اسلام کا سپاہی بناکر پیش کرکے ہر طرح سے ان غریب، بے بس اور مایوس نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے اس طرح کے حالات پیدا کردیتا ہے کہ اس کے آقاﺅں (یعنی ایف بی آئی کے بدمعاش افسروں) کے لیے پکوان، پک کر تیار ہوجاتا ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟
نیویارک کا ےہی واقعہ مثال ہے کہ ایف بی آئی نے چاروں سیاہ فام مسلم نوجوانوں کو امریکہ میں 9/11 جیسے دوسرے حملے کی سازش میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کرکے ان بے گناہ مسلم نوجوانوں کی زندگی تباہ کردی اور ان کے خاندانوں کو بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ آج ہمارے ملک میں بھی اسی طرح کی حرکتیں ہورہی ہیں۔ ایف بی آئی کے نالائق، متعصب او رکم ظرف افسران امریکہ میں جس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں اور اس کے لیے شاہد حسین جیسے غداروں، ایجنٹوں اور مخبروں کو استعمال کررہے ہیں، ایسی ہی حرکت ہمارے ملک کے کئی پولس افسران بھی کررہے ہیں اور ان کی مدد کے لیے ہمارے ملک میں بھی درجنوں شاہد حسین پولس کے مخبر اور ایجنٹ بن کر گھوم رہے ہیں۔ اس طرح کی حرکتوں کو کاو¿نٹر ٹیرارزم آپریشن کا نام دیا جارہا ہے۔ جب کہ یہ دہشت گردی کی آگ میں مزید تیل ڈالنے والی حرکت ہے، اسے روکنا بہت ضروری ہے۔
٭٭









