نریندر مودی سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (SIT) کے سامنے پیش ہوئے اور دو نشستوں میں ان تمام 68 سوالوں کا جواب بھی دیا جو SIT نے گلبرگ سوسائٹی میں قتل عام کے متعلق تیا رکےے تھے۔ مودی نوازوں نے بجا طور پر یہ دعویٰ کیا کہ نریندر مودی تو قانون کے پاسدار ہیں، انھوں نے کبھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، اس لیے انھیں SIT کے سامنے پیش ہونے میں کوئی مشکل نہیں تھی۔
سچائی تو یہ ہے کہ جب اخبارات میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر SIT نے گجرات کے چیف منسٹر نریندر مودی کوسمن جاری کیا ہے تو ہمیں اسی وقت یہ شبہہ ہوا تھا کہ شاید یہ نریندر مودی کو کوئی نئی چال ہے۔ اسی ہفتہ”نیو ایج“ کے اداریہ میں ہم نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ SIT میں جو IPS آفیسرز شامل ہیں ان کی اکثریت کا تعلق گجرات سے ہے اور وہ اب بھی گجرات میں ”برسرروزگار ہیں۔“ ہم نے یاد دلایاتھا کہ SIT کی کنوینر گیتا جوہری ہیں جنھیں شیخ سہرا ب الدین انکاﺅنٹر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کافی لتاڑا ہے۔ اس انکاﺅنٹر کے بارے میں سپریم کورٹ نے بھی مان لیا ہے کہ یہ فرضی تھا۔ گیتا جوہری اس وقت راجکوٹ سورت کی پولس کمشنر ہیںSIT کے دوسرے رکن شیوانند جھا ہیں جو اس وقت سورت کے پولس کمشنر ہیں اور ان کے دورِ کمشنر ی میں نہ صرف ”دہشت گردوں سے انکاﺅنٹر“ کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ایک اعلیٰ پولس عہدیدار جس کا تعلق اقلیتی طبقہ سے تھا، دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ریہرسل میں مارا گیا۔ موصوف مابعد گودھرا فرقہ وارانہ فسادات کے دوران احمد آباد کے پولس کمشنر تھے اور ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھیں مبینہ طور پر مرحوم احسان جعفری نے حفاظت کا بندوبست کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ تیسرے رکن احمد آباد کے موجود ہ آئی جی پی پیس آشیش بھاٹیہ ہیں۔ موصوف گواہوں سے من مانے بیان دلوانے کے ماہر ہیں اور اس سلسلے میں کئی مرتبہ عدالت کی پھٹکار سن چکے ہیں۔
ان حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ہم نے ”نیوایج“ کے اداریہ میں کہا تھا کہ ان IPS آفیسروں کی موجودگی میں نریندر مودی سے پوچھ تاچھ ایک ناٹک ہی ثابت ہوگی۔ یہ ناٹک اس لیے رچا جارہا ہے کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی SIT کے سامنے حاضر ہو کر (بعد میں ”کلین چٹ“ پاکر) نریندر مودی نے ثابت کردیا کہ ان کا دامن صاف ہے۔ اور بی جے پی کے نئے صدر نتن گڈکری کا یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ ”نریندر مودی میں وزیر اعظم بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔“
27 مارچ 2010 کو پہلی حاضری کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے نریندر مودی نے خاص طور سے یہ جتانے کی کوشش کی کہ پوچھ تاچھ ’ملہوترا نامی ایک ریٹائرڈ IPS نے کی ہے جن کا گجرات سے کوئی تعلق نہیںہے اس وقت SIT کے وہ تین رکن موجود نہیں تھے جن کا تعلق گجرات سے ہے۔
بات درست ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ نریندر مودی کے لیے 68 سوالوں کو ان ہی تین IPS آفیسروں نے تشکیل دیاتھا اور عین ممکن ہے کہ نریندر مودی کے لیے جواب بھی انھوں نے ہی تیار کیے تھے۔ گجرات کے مسلم قتل عام کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر صرف ےہی شعر یاد آتا ہے
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
٭٭٭
23فروری سے 23مارچ تک کا پورا مہینہ کوویت میں گزرا۔ دل کے آپریش کے بعد ”مکمل آرام“ کی صلاح کے تحت ہم نے یہ پورا مہینہ اپنی بیٹی داماد روبینہ اور آصف جمال اور نواسی امل کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیاتھا۔ سیاسی طور پر سرگرم کسی فرد کے لیے ”مکمل آرام“ ممکن ہے یا نہیں، اس پر مختلف رائے ہوسکتی ہے۔ پھر بھی کوویت میں قیام کے دوران ہم ”نیو ایج“ کے لیے ادارےے لکھتے رہے اور انٹرنیٹ کی مدد سے بھارت کے اخبارات کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔ ویسے صبح صبح ہم کوویت کے کثیرالاشاعت انگریزی روزنامہ ”عرب ٹائمز“ کی کاپی خرید لاتے تھے۔ اس کی فی کاپی قیمت 150 فلس (25روپئے ہندستانی) ہے۔ یہ روزنامہ روز56جہازی صفحات کا ہوتا ہے۔ (جہازی صفحات ہمارے روزناموں کے سائز سے بڑے ہوتے ہیں) اس میں ابتدائی آٹھ صفحات میں کوویت کے متعلق خبریں ہوتی ہیں اور باقی ماندہ صفحات بین الاقوامی خبروں اور دیگر دلچسپیوں کے لیے وقف ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی خبروں کے حصول کا واحد ذریعہ امریکی خبررساں ایجنسیاں ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ کوویت میں صرف وہی سب کچھ چھپتا ہے جس کی اجازت امریکی دیتے ہیں۔ کوویت کے ایک جزیرہ دوحہ پر تو پوری طرح امریکیوں کا قبضہ ہے اور وہاں کی مروج کرنسی کوویتی دینا ر نہیں بلکہ امریکی ڈالر ہے۔ کوویت میں اگر کسی تقریب میں امریکی سفیر (جو ایک خاتون ہیں) شریک ہوجائیں تو اس کی ویسی ہی تشہیر کی جاتی ہے جیسے ہمارے سرکاری ذرائع ابلاغ میں ہمارے وزیر اعظم کی شمولیت کی۔ خیر اس وقت ہمارا موضوع کوویت، نہیں اس پر بعد میں اطمینان سے لکھیں گے۔
ہم تو صرف اس حقیقت کی طرف دھیان دلانا چاہتے ہیں کہ اگر ”عرب ٹائمز“ کی خبروں پر یقین کیا جائے تو آج دنیا میں کوئی خطہ ، کوئی علاقہ ، کوئی ملک اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں اگر مسلمان موجود ہیں تو وہ دہشت گردی کی زد پر نہ ہو۔ القاعدہ اور طالبان کو امریکیوں نے دنیا کے کونے کونے میں تلاش کرلیا ہے اور آج تو تمام مسلم ممالک میں جس میں عریب ممالک بھی شامل ہیں کسی بھی احتجاجی تحریک کو طالبانی تحریک قرار دینا حکمرانوں کا شیوہ بن گیا ہے۔ لاطینی امریکہ میں ابھار پانے والی سامراج دشمن تحریکات کو بھی طالبانی تحریکوں سے جوڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ہم ہندستان میں رونا رو رہے ہیں کہ کاﺅنٹر ٹیرارزم کے نام پر مسلمانوں پر ستم ڈھایا جارہا ہے ،بات درست ہے مگر یہ صرف بھارتی حکومت کا وطیرہ نہیں ہے، بلکہ اس کے احکامات واشنگٹن سے جاری ہوتے ہیں اور آج دنیا کی زیادہ تر حکومتیں جن میں ہماری منموہن سنگھ حکومت بھی شامل ہے امریکی فرمانوں کی تابع ہیں۔ اس وقت حکم ےہی ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں ”طالبان اور القاعدہ“ کو تلاش کیا جائے۔ انھیں نیست و نابود کرنے کے بجائے ان کا مناسب ”سیاسی استعمال“ کیا جائے۔
ہم مانتے ہیں کہ ہم نے بھی ا ب تک اس خطرے کی سنگینی کو اس طرح سے اُجاگر نہیں کیا جو اس کا تقاضہ ہے ۔ ”حیات“ کے آنے والے شماروں میں ، ہم ان اُمورپر خصوصی توجہ دیں گے۔
٭٭٭
حیدرآباد میں فرقہ وارانہ تصادم چار دن سے جاری ہے۔ ابتدائی دو دنوں میں پولس نے صرف دفعہ 144نافذ کی ، مگر بعد میں اسے کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ پہلے دن شام سات بجے سے صبح پانچ بجے تک کے کرفیو کا اعلان ہوا اور یہ صرف نیّا پل کے اس طرف کے پرانے شہر کے لےے تھا مگر جمعرات کے دن بجرنگ دل کے جلوسیوں کے ہنگامے کے بعد بن معیاد کے کرفیو کا اعلان ہوا اور اسے تقریباً آدھے شہر تک وسعت دے دی گئی۔
اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان سے صاف ہے کہ فسادات اچانک نہیں پھوٹ پڑے بلکہ یہ باقاعدہ سازش کا حصہ ہیں۔ جس طرح سے واقعات ہورہے ہیں ان سے پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی کے واقعات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ وہ دہائی ہے جب حیدرآباد میں ”خنجر فرقہ پرستی“ کی اختراع ہوئی۔
حیدرآباد کسی زمانے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولر روایتوں کے لیے مشہور تھا، حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی یادیں مخدوم سے وابستہ تھیں۔ چار مینار، قطب شاہی کے سیکولر نوازی کی علامت تھا ۔ نظام کے خلاف جدوجہد میں حیدرآباد کے مسلمانوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 1972 تک حیدرآباد میں بعض تاریخی وجوہات سے مسلم مجلس اتحاد المسلمین کو ایک اسمبلی سیٹ پر کامیابی نہیںملتی تھی اور وہ کارپوریشن میں بعض نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پیش رو جن سنگھ تو کارپوریشن کی سیٹ بھی جیتنے کے موقف میں نہیں تھی۔ 1977 میں شکست کے بعد اندرا گاندھی نے مجلس اتحاد االمسلمین سے روابطہ بڑھائے اور مجلس نے ”ریاستی“ سرپرستی کا استعمال پرانے شہر میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا۔ فرقہ وارانہ فسادات، اس کا موثر ہتھیار ثابت ہوئے۔ ایک طرف مجلس قائد امان اللہ خان تھے تو دوسری طرف جن سنگھ کے اے نریندر ۔ 1977 سے 80 کی دہائی کے خاتمے تک کوئی ہندو-مسلم تہوار ایسا نہیں گزرا جب شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہ ہوا ہو اور شہریوں کو ہفتے دو ہفتے تک لگاتار کرفیو کا عذاب نہ جھیلنا پڑا ہو۔ رام پوری چاقو اور حجام کے استرے ”خنجر فرقہ پرستی“ کے بنیادی ہتھیار ثابت ہوئے۔ ان لگاتار فسادات کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر ، ہندو مسلم میں بٹ گیا۔ نہ صرف مجلس اتحادالمسلمین شہر کی زیادہ تر سیٹوں پر کامیاب ہونے لگی بلکہ بی جے پی نے بھی ایک سیٹ پر قبضہ جمانا شروع کردیا۔ شہرکی فرقہ وارانہ صف بندی کے نتیجہ میں حیدرآباد کی پارلیمانی نشست پر بھی مجلس کا قبضہ ہوگیا۔ کارپوریشن پر بھی اس کا قبضہ ہوگیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
مگر پچھلے چند برسوں کے دوران ”انصاف“ اور ایسی ہی دیگر سیکولر تنظیموں کی بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے سبب، پرانے شہر میں مجلس کمزور ہوئی ہے۔ مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار ہونے لگا ہے ، اس میں حیدرآباد کے اردو روزناموں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پیر تلے زمین کھسکتے دیکھ کر مجلس نے نہ صرف ایک روزنامہ (اعتماد) جاری کیا ہے بلکہ وہ ایک بار پھر بدترین فرقہ وارانہ حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ اب تک اس کے قائدین اور پرچارک محض زبانی طور پر فرقہ وارانہ زہر پھیلا رہے تھے، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر 1977 کے بعد کی اسی حکمت عملی کو نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے پہلے حیدرآباد ایک بار پھر ”خنجر فرقہ واریت“ کا شکار بنے، اس فتنہ کو تمام سیکولر طاقتیں مل کر کچل دیں۔بورژوا سیاسی پارٹیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک رنگ کی فرقہ پرستی کا مقابلہ دوسرے رنگ کی فرقہ پرستی کی مدد کر کے نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔
شمیم فیضی
31 مارچ 2010









