٭ اشرف عابدی
ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں کہ حضرت بش کو یہ خوشگوار اطلاع فراہم کی گئی تھی کہ ہندستان کا بچہ بچہ ان سے محبت کرتا ہے اور اپنا قریب ترین دوست تصور کرتا ہے!! چلئے بُش صاحب اور ان کے والد بڑے بش تو اب ماقبل تاریخ میں گم ہوگئے ( حصہ بن گئے) گفتگو کو اصل موضوع کی طرف لاتے ہوئے ذرا اختصار سے با ت کریں تو اگلا سنگ میل یہ آیا کہ امریکہ نے یہ رواداری کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لیا کہ ایک کلوٹے کو (جو اب تک وہاں کی بھاشا میں اچھوت اور غلام تھے) صدر امریکہ کا عہدہ تفویض کردیا۔ گویا وہی سب سے بڑے سیکولر ٹھہرے۔ لیکن میں اس مہابھارت کے دوران بھی مشکوک تھا اور یہ شک اب یقین میں بدل گیا ہے کہ نیا نیا مسلمان اللہ اللہ ہی پکارتا ہے۔ سو مجھے تو اوبامہ صاحب سے کبھی کوئی توقع تھی ہی نہیں مگر دنیا بھر میں اور خصوصاً ہندستانی میڈیا نے ایسی ایسی بغلیں بجائیں گویا شری کشن دھرم کی رکھشا کے لیے پنہہ جنم لے کر آگئے ہیں اور اب سب کچھ درست ہوجائے گا۔
پالیسیوں میں تبدیلی نہیں بلکہ درستگی کے ڈھول بجائے گئے اس میں بھی دو پہلو تھے ایک داخلی اور ایک خارجی۔ داخلی امور میں بش کو نالائق اور نااہل ثابت کرنا لیکن بقیہ دنیا کو یہ باور کرانا کہ ہم تمام تر نا انصافیوں کو ختم کردیں گے۔
مگر خدارا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اب تک آنے والی خبروں (اصل خبروں) کا تجزیہ کریں کہ کیا تبدیلی آئی یا کیادرستگی ہوئی؟ ہمارے لیڈر اور ہمارا میڈیا دیوالی منارہا تھا کہ اب بر صغیر کے تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی کا جھکاﺅ پاکستان کے بجائے ہندستان کی طرف ہوجائےگا۔ اور ہوا؟ کس طرح کہ ہندستان کو استثنیٰ کے طور پر سویلین نیو کلیائی مدد دینے کامعاہدہ کیا گیا تھا۔ اور اعلان ہوا کہ یہ صرف اور صرف ہندستان کا افتخار ہے مگر اوبامہ صاحب نے پاکستان کو بھی ےہی سہولت فراہم کردی ۔ مگر ہمیں اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے وقت بھی بالی ووڈ کا وہ گانا یاد آرہا تھا ”کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ“
ہوا یہ کہ یہ کاریہ کرم صرف اور صرف ایران -پاکستان -ہندستان کی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور قدرتی طور پر ہوگیا۔
بہت کچھ بدل گیا۔ مگر کیا بدل گیا۔ کیا پاکستان کی سرپرستی میں کوئی فرق آیا ہے؟ آتا کیسے!! وہ تو چین کی دم پر پیر رکھنے کا مورچہ ہے۔ ہم کو کون بے وقوف بنارہا ہے یا ہم خود بیوقوف بن رہے ہیں؟
اچھا ذرا اس سلسلے کے ایک ذیلی موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ یعنی امریکہ کی خارجہ پالیسی ! میرا جو بھی مطالعہ ہے وہ یہ کہتا ہے کہ کسی بھی پارٹی کی حکومت آئے کوئی بھی صدر آئے امریکی داخلہ پالیسی بدل سکتی ہے خارجہ پالیسی میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ علی گڑھ کی زبان میں یہ ایک سینہ گزٹ ہے۔ سو وہی ہوا۔ بش گئے۔ بلا شبہہ گئے۔ اوبامہ آئے۔ مگر بے چارے کو خارجہ پالیسی کے لیے ایک گوری عورت درکار ہوئی اور اس گوری عورت نے اوبامہ کی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ بش کی خارجہ پالیسی کا اجراءکردیا جس پر بے چارے اوبامہ کچھ بھی اعتراض نہ کرسکے۔ اس کے برابر کا ہی ایک اور پچھلا واقعہ ملاحظہ فرمائیں کہ بش گورے اور ان کی وزیر خارجہ کلوٹی کو نڈولیزا رائس۔ دونوں میں تقابل کرلیجئے۔
کیا آپ کو سوچ میں کوئی فرق نظر آتا ہے۔ مطلب یہ کہ امریکہ کالایا گورا بمقابل بقیہ کا ئنات۔
سو آپ نے کبھی امریکی خارجہ پالیسی کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کا کوشش کی ہے۔ جہاں تک میرے محدود مطالعہ اور تجزیے کا سوال ہے تو میرے خیال میں اس پالیسی کو صرف اس فقرے میں سمجھایا جاسکتا ہے۔
Use And Throw
جس کا اردو ترجمہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ تو مشکل ہے لیکن اتنا کہا جاسکتا ہے کہ کام نکلنے کے بعد نظریں پھیر لو۔
امریکی خارجہ پالیسی کا میرا تجزیہ ذرا دھماکہ خیز ضر ور ہے۔ آپ اتفاق کریں یا نہ کریں۔ آپ میںسے جن لوگوں نے مرحوم سوویت یونین کا دور دیکھا ہو غالباً وہی یہ بات پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔ وہ دو قطبی دنیاتھی۔ اور ہم دو فریق ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے تھے۔ خواہ وہ معمولی سا شطرنج کا میدان ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ تاریخی اعتبار سے سوویت یونین (اب روس ) کو شطرنج میں ہمیشہ پوری دنیا میں برترمانا گیا ہے اور تھا مگر میدان میں بھی اسے نیچا دکھانے کے لیے کئی برسوں کی محنت کے بعد ایک شخص بالی فشر ایجاد کیاگیا اور اسے تربیت دی گئی۔ دنیا کی شطرنج کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سوویت عالمی چمپئن بورس اسپیسکی کو ایک امریکی بابی فشر نے شکست دے دی ۔ پوری دنیا میں ہنگامہ ہوگیا۔ بلا شبہ اچھی شکست دی مگر اس کے بعد!! وہی بابی فشر صرف اس بنیاد پر امریکی خارجہ پالیسی کا معتوب ٹھہرا کہ مبینہ طور پر اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور ایک زمانے کا ےہی امریکی ہیرو پوری دنیا میں کبھی جاپان اور کبھی آئس لینڈ میں دھکے کھاتا رہا اور آخر پچھلے سال غریب الوطنی کے عالم میں اس دنیا سے سدھار گیا۔
چلئے یہ تو ایک مثال ہوئی۔ قبلہ اوسامہ بن لادن کے بارے میں کیا فرمائیں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں یہ شخص نہایت محترم اور معزز مانا جاتا تھا اور امریکی اور پورا مغربی میڈیا ان کے قصیدے پڑھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ مگر پھر ! کیا ہوا بھائی۔ تمھارا قریبی دست راست اچانک دشمن کیمپ کا آدمی شمار کیا جانے لگا۔ قبلہ پیسہ، تربیت اور اسلحہ تو سب آپ کا تھا۔
قارئین کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتا۔ مختصر یہ کہ ہانگ کانگ کا کیا ہوا؟ بیوپار کے چکر میں جن کے آگے سپر ڈال دی تو ان کا کیا ہوا؟ ڈر گئے چین سے۔ اس لیے کہ پیسہ چین سے کمانا ہے اور یہ جانتے ہوکہ چین اور سوویت یونین میں بہت فرق ہے۔
پھر آتے ہیں اصل معاملے پر کہ ہم سویلین نیو کلیائی معاہدے پر بہت بغلیں بجا چکے اور اس تخصیص کے ساتھ کہ یہ امتیاز صرف ہمارے ساتھ برتا گیا۔ مگر خوش فہمی کی یہ مدت زیادہ طول حاصل نہ کرسکی اور اپنے دستور کے مطابق قبلہ سیم نے اپنے سابقہ دست نگر (بلکہ موجودہ) پاکستان کو بھی وہی نیوکلیائی سہولت فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ۔ اب میں ہندستان کے کس ارباب اقتدار سے سوال کروں! یہ سب کچھ کیا ہوا؟ شاید آپ میں بہت سے لوگوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ ہندستان اور امریکہ کے درمیان مطلوبہ افراد کی حوالگی کا معاہدہ پہلے سے موجود ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو ممبئی بم دھماکوں کے واحد زندہ مجرم قصاب سے پوچھ تاچھ کی اجازت دی گئی مگر وہ شخص جو پاکستان اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھتا ہے یعنی ڈیوڈ ہیڈلی اور ہم اس سے پوچھ تاچھ کے لیے اس معاہدے کے تحت اجازت حاصل نہ کرسکے۔
کوئی تو ہوگا!!
٭٭









