You are here: Health ملک میں اچھی تعلیم اور اچھا علاج اےک خواب Home

ملک میں اچھی تعلیم اور اچھا علاج اےک خواب

برقیہ چھاپیے

نسیم احمد
اچھی تعلیم اور اچھا علاج ملک میں ایک خواب بنتا جارہا ہے۔ اس ضمن میں نئے مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ شعبوں میں کوئی رعایت تو دور بلکہ شعبہ صحت پر5%سروس ٹیکس اور ایکسائزڈیوٹی میں ایک فی صد اضافے کی تجویزکی گئی ہے جس سے نہ صرف غریبوں کے لئے بلکہ صاحب وسائل کے لئے بھی علاج مشکل ہو جائے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک میں نجی زمرے کے اسپتال بھاری منافع کمارہے ہیں لیکن حکومت کے اس فیصلے سے عوام ہی متاثر ہوں گے۔ہمارے ملک میں غرےبی کی دوسری سب سے بڑی وجہ صحت عامہ ہے ۔25-30%لوگ اپنی کم ماہانہ آمدنی کی وجہ سے علاج سے گریز کرتے ہیں جس کے سبب ان کی بیماری سنگین صورتحال اختیار کر لیتی ہے،اسپتال میں داخل ہونے والوں میں سے 40%مریضوں کو اپنے علاج اور علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے قرض لینا پڑتا ہے یا اپنی جائداد فروخت کرنا پڑتی ہے ایک اندازے کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والا ہر چوتھا مریض خط افلاس سے نیچے آجاتا ہے۔دنیا میں نجی زمرے میں صحت خدمات کے معاملے میں ہندستان سب سے آگے ہے،ملک میں صحت عامہ کی 80% خدمات نجی زمرے میں ہیں۔علاوہ ازیں ایکسائزڈیوٹی میں ایک فی صد اضافے کی تجویزکے بعد دوائیوں کی قیمتوں میں 2-3%کا اضافہ ہو جائے گاجبکہ حکومت کے 5%سروس ٹیکس سے اسپتال میں تمام طبی جانچ اوراسپتال میں داخلے کے اخراجات پر سات فی صد کا اضافہ ہو جائے گا۔ ملک میںڈاکٹروں،طبی ماہرین اور طبی اداروں نے بھی اس تجویز پر اظہار تشویش کیا ہے۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے سروس ٹیکس کو برطانوی حکومت کے ذریعے تھوپے گئے سالٹ ٹیکس سے تعبیر کیا۔صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کے ہر شہری کو بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کرے۔ہندستان میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کی شرح اموات آج بھی بہت زیادہ ہے اور ملیریا اور تپ دق کے ساتھ ساتھ دائمی امراض بھی بڑا سماجی مسئلہ اور طبی چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ملک میں 1700آبادی کے لئے صرف ایک ڈاکٹر ہے جبکہ جرمنی میں 296،امریکہ میں 350،برطانیہ میں 469،تھائی لینڈ میں500،جاپان میں606،سنگا پور میں 714،برازیل میں 944 اور کوریا میں 951کی ہر آبادی پر ایک ایک ڈاکٹر ہے۔چین میں ایک ڈاکٹر کے لئے 1063،مصر میں 1484 اور پاکستان میں1923کی آبادی ہے۔عالمی سطح پر یہ نسبت1.5:1000ہے۔ملک میں حکومت صحت عامہ کے لئے مجموعی گھریلو پیداوار کا صرف صفر اعشاریہ نو فی صد ہی خرچ کر رہی ہے جبکہ ہمارے پڑوس میں نیپال اس مد میں ایک اعشاریہ چھ،چین ایک اعشاریہ آٹھ اور سری لنکا ایک اعشاریہ نوفی صد خرچ کر رہے ہیں۔ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے سب سے بڑے ملک میں صحت عامہ کا نظام عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ہمارے ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد 330ہے جہاں سے ہر سال ڈاکٹر بننے والوں کی تعداد 35000ہے۔ملک میں بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے میڈیکل کالجوں اور میڈیکل طلبا کی تعداد دگنی کرنے کی ضرورت ہے۔پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں چھ لاکھ ڈاکٹروں، دس لاکھ نرسوں اور دو لاکھ دانتوں کے ڈاکٹروں کی کمی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً ساٹھ ہزار ہندستانی فزیشن امریکہ ،برطانیہ،کناڈااور آسٹریلیا میں کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہندستان میں طبی سہولتوں کا حصول اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ عام شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے علاج معالجے کے لیے کافی مالی وسائل دستیاب ہی نہیں ہوتے۔ اس پس منظر میں یہ سماجی حقیقت بھی بڑی تکلیف دہ ہے کہ ملک میں ہر سال نچلے متوسط طبقے کے تقریبا چار کروڑ شہری غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔ہمیں اپنی صحت پر اپنی آمدنی کا 78فی صد خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ نیپال میں یہ شرح 71.9فی صد،چین میں 61.2فی صد اور سری لنکا میں 53.8فی صد ہے۔ ہندستان میں ہر سال بہت سے مریض صرف غربت کی وجہ سے اسپتال کا خرچ نہیں اٹھا پاتے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔صحت کے شعبے کا یہ حال ہے کہ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کی بڑی تعداد عملے اور دواو¿ں سے محروم ہے۔ شہروں میں بھی چند سرکاری اسپتالوں کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت غیرتسلی بخش ہے۔ غریبوں کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر معمولی مکسچر حاصل ہوتا ہے۔ بیشتر دوائیں باہر سے خریدنی پڑتی ہیں۔ کئی خیراتی اداروں کی طرف سے اسپتالوں میں داخل مریضوں کے لئے خوراک کی فراہمی کا بندوبست نہ ہو تو خدا جانے ان پر کیا بیتے۔
ممکن ہے کہ 5%سروس ٹیکس کی تجویزلوگوں کو ہیلتھ انشورنس کی جانب راغب کرے لیکن یہاں بھی صارفین کو اس ٹیکس سے نجات نہیں ملے گی پہلے کیش لیس پیمنٹ والے پالیسی ہولڈر کو ٹیکس کے دائرے میں رکھا گیا تھا لےکن اب علاج پر خرچ ہونے والی رقم کی واپسی کے حقدار پالیسی ہولڈر کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔علاوہ ازیں اگر کسی شخص کے دل کا آپریشن ہوگا تو اسے 5000تا 10,000روپے سروس ٹیکس بھی دینا ہوگا اور اگر کسی کوئی کینسر کے مرض میں مبتلا ہے تو کہیں بھی علاج کرائے اسے 20,000روپے سروس ٹیکس دینا پڑے گا۔ ہیلتھ انشورنس کی دنیا میں کم آمدنی والے صارف کی پہلے ہی جگہ نہیںبن پاتی اب اس تجویز کے بعد انشورنس کمپنیاں اپنے اوپر پڑنے والے بوجھ کو بلاشبہ صارفین پر ڈال دیں گی۔ ملک میں مرکزی اورریاستی حکومتوں کو اپنی جملہ کوششوں اور وسائل کو مربوط بناتے ہوئے جلد سے جلد یونیورسل ہیلتھ کیئر کا نظام متعارف کرانا چاہیے، مطلب یہ کہ موجودہ عشرے کے آخر تک ہر ہندستانی شہری کوحکومت کی طرف سے مہیا کردہ مکمل طبی سہولتوں تک رسائی ملنی چاہیے۔ ہندستان میں ہر سال ہونے والی اموات کے تین چوتھائی حصے کی وجہ امراض قلب، نظام تنفس کی بیماریاں، ذہنی امراض، ذیابیطس اور سرطان جیسی دائمی عارضے ہیں جن کے خلاف حکومت کو ایک جامع ایکشن پلان ترتیب دینا ہو گا تاکہ ملک کی پوری آبادی کی طبی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
صحیح وقت پر صحیح کھانا کھانے سے ہم صحتمند رہ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی خوراک میں سبزیوں کی مقدار اور اناج کو بڑھانا ہوگا۔ دودھ بغیر بالائی کے اور کھانے کا تیل استعمال کیا جائے نمک اور چینی کا استعمال کم رکھنا چاہئے تاکہ دل اور گردے کی بیماریوں سے بچا جا سکے۔خوراک اور طرز زندگی میں تبدیلی لاکرامراض سے بچا جاسکتاہے۔تعلیم و صحت کے میدانوں میں ترقی کے لئے فنڈز مہیا کرنے، جامع منصوبہ بنانے اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
مضمون نگار سے موبائل نمبر9873709977یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے پر رابطہ قایم کیا جاسکتا ہے۔)

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories