نسیم احمد
دہلی کی وزیر اعلی محترمہ شیلا دکشت نے راجدھانی دہلی میں دستیاب پینے کے پانی میں کسی طرح کے بیکٹیریاکے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا ہے تاہم دہلی کے باشندوں کو کلورائن کی گولیاں مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے دہلی میں پینے کے لئے سپلائی ہونے والے پانی کو پوری طرح صاف اور جراثیم سے پاک قرار دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ محترمہ شیلا دکشت نے سپر بگ کے معاملے میں دشمن سے بچنے کے لئے شتر مرغ کی پالیسی اختیار کر لی ہے ۔ملک میں سیاسی اور طبی قیادت عام لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔بالفر©ض راجدھانی اور ملک کا پانی سپر بگ سے پاک ہے اس کے لئے حکومت نے کوئی ٹھوس جانچ کی ہے یا صرف اس معاملے میں ہوا میںتیر چلائے جارہے ہیں۔اس سے قبل ایک ہندستانی طبی مجلے جرنل آف ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈیا(JAPI)میں چنئی کے اپولو اسپتال کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر عبدالغفور نے ایک سال قبل لینسیٹ کی تحقیق سے پہلے سپر بگ پر اداریہ تحریر کیا تھا۔اس وقت انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(ICMR)،وزارت صحت،کارپوریٹ اسپتالوں اور میڈیا کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی تھی۔حقیقت تو یہ ہے کہ کسی کو بھی ہندستانی محققین یا ہندستانی طبی مجلوں میں شائع تحقیقی رپورٹ کی کوئی پرواہ نہیںہے۔اگر پرواہ ہوتی تو یہ تمام ذمہ دار ادارے لینسیٹ کی رپورٹ تک خواب غفلت میں نہ رہتے ۔حکومت نے لینسیٹ کی رپورٹ عام ہونے کے بعد احتیاتی اقدامات کرنے کے بجائے عادت کے مطابق معاملے پر پردہ ڈالنے کی تیاری کرلی ۔اسی عادت کی وجہ سے وزیر اعلی آج بھی راجدھانی میں سپر بگ کا کوئی خطرہ نہ ہونے پر مصر ہیں۔اس کے علاوہ سپر بگ کی تحقیق میں معاونت کرنے والے ہندستانی محققین بشمول کارتکھیان کے کمار سوامی کو زبانی احکامات اور تادیبی کارروائی کی دھمکی دی گئیں۔لینسیٹ نے اسی وجہ سے سپر بگ کی اپنی تحقیق کے دوسرے مرحلے میں ہندستانی محققین کو شامل نہیں کیا۔حکومت کے ذریعے طبی شعبے میں غیر ملکی تحقیقات کو مسترد کرنے کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے اس سے قبل حیدر آباد کی دوا ساز یونٹ سے خارج ہونے والی سطح سے متعلق سویڈن کے محققین کی رپورٹ کو مسترد کردیا گیا تھا۔ جبکہ ملک میں سپر بگ کے انکشاف سے قبل گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 30موذی بیماریوں کا سامنا ہوچکا ہے جو مختلف 21بیکٹیریا کے سبب منظر عام پر آئیں۔جن میں نےپاہ(2001)،ایس اے آر ایس(2003)،ایچ5این 1(2006-09)،H1N1(¾2009)اور سی سی ایچ ایف شامل ہیں ۔
متعدی بیماریوں کے تحقیقی ادارے لینسینٹ (Lencet)نے ستمبر 2010کے اپنے شمارے کے صفحہ597سے صفحہ 602پر ہندستان،پاکستان اور برطانیہ میں پینے کے پانی میں خطرناک بیکٹیریا ’ ’سپر بگ “ کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔ جریدے میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں پینے کے پانی کے مجموعی طور 171 نمونے لیے گئے، جن میں سے 51 میں یہ خطرناک بیکٹیریا پایا گیا۔ یہ آبی نمونے پانی فراہم کرنے والے نلکوں اور گندے پانی کے تالابوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ نئی دہلی میں تمام اقسام کی جراثیم ک±ش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کو بے اثر کر دینے والے بیکٹیریا ’سپر بگ‘ کے خلاف فوری طور پر عالمی سطح پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ سپر بگ بیکٹیریا کو ” نیودہلی میٹالوبِیٹا لیک ٹامیز۔1“( NDM-1)کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق نئی دہلی میں پینے کے پانی میں ایسے بیکٹیریا پائے گئے ہیں، جو تمام اقسام کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں اور جنہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس بیکٹیریا میں این ڈی ایم ون نامی جین ملا ہے،جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ محققین نے اس بیکٹیریا کے پانی میں پائے جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پینے کے پانی میں گندگی یا آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کے ملنے سے وجود میں آتا ہے۔یہ بیکٹیریا اسہال اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس رپورٹ کے بعد عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں اس بیکٹیریا کے باعث انفیکشن کے واقعات کی نگرانی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی دہلی میں رہائش پذیر افراد اس بیکٹیریا سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں محتاط رہنا چاہیے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مزید تحقیق کی پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی اشد ضرورت ہے۔دوران تحقیق انہوں نے مختلف اسپتالوں میں ایسے افراد کے ٹیسٹ کئے جن میں اس طرح کی علامات موجود تھیں۔ ہریانہ میں جن افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ان کے ڈیڑھ فیصد میں یہ بیکٹیریا پائے گئے اور ان کی تعدد 44 تھی جبکہ چنئی میں NDM-1 بیکٹیریا کے حامل 26 مریض ملے۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی 37 افراد میں یہ بیکٹیریا پایا گیا۔ یہ وہ افراد تھے جنہوں نے حال ہی میں ہندستان یا پاکستان سے کاسمیٹک سرجری کروائی تھی۔ اس تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندستان یورپی اور امریکی باشندوں کو کاسمیٹک سرجری کی سہولیات مہیا کرتا ہے، اس لئے NDM-1 کے پوری دنیا میں پھیل جانے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، "خطرناک بات یہ ہے کہ NDM-1 دراصل ڈی این اے کے ایسے ڈھانچوں پر پایا گیا ہے جسے پلاسمِڈز کہا جاتا ہے اور یہ آسانی سے ایک قسم کے بیکٹیریا سے دوسری قسم کے بیکٹیریا میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کے پھیلاو¿ کے امکانات بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔"محققین کے اس خدشے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصوں میں روزانہ لاکھوں افراد کے فضائی سفر کے دوران کسی قسم کی بیماری کی کوئی جانچ یا ٹیسٹ نہیں کئے جاتے لہذا NDM-1 کا تیزی سے ایک ملک سے دوسرے اور ایک براعظم سے دوسرے میں منتقلی نہایت آسان ہے۔ NDM-1 نامی جین کو دراصل گزشتہ برس پہلی مرتبہ کارڈف یونیورسٹی کے محقق ٹموتھی والش اور مدراس یونیورسٹی کے محقق کارتھیکیان کمارسوامی نے مشترکہ طور پر دریافت کیا تھا۔ یہ جین دو طرح کے بیکٹیریا کلیب سیالا نمونیا(pneumoniae Klebsiella ) اور ایشریکیا کولائی ( Escherichiacoli ) میں پایا گیا۔ یہ بیکٹیریا سویڈن کے ایک ایسے باشندے میں دریافت ہوا تھا جو ہندستان کے ایک اسپتال میں زیرعلاج رہا تھا۔خطرناک بات یہ ہے کہ NDM-1 کے حامل بیکٹیریا پرایسی اینٹی بایوٹیک ادویات کا ایک گروپ کارباپینیمز(carbapenems) بھی اثرنہیں کرتا جو عام طور پرایسی بیماریوں کے علاج کے طور پر ایمرجنسی صورتحال میں استعمال کیا جاتا ہے، جن پر دیگرادویات کارگر نہ ہوں۔
حکومت نے بالآخر سپر بگ کے منظرعام کے بعد تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات پر ایک اینٹی بایوٹکس پالیسی کا اعلان کر دیا ہے ۔ دہلی حکومت نے شہریوں میں کلورین کی کی گولیاں مفت تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔تاہم کلورین کے استعمال میں بھی کافی احتیات کی ضرورت ہے ۔پانی کو بیکٹیریا سے پاک کرنے کے لئے کلورین کو آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں پانی میں کلورین کی مقدار کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے ۔ماہرین ایک لٹر پانی کے لئے کلورین کی مقدار 0.3سے 0.5ملی گرام کا مشورہ دیتے ہیں۔مزید برآںدیگر احتیاتی اقدامات بھی لازمی ہیں مثلاہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں،صاف تولیہ سے ہاتھ صاف کریں،اچھی طرح ہاتھ سکھالیں۔پانی ابلا ہوا یا فلٹر کر کے پئیں،پانی کو آدھا گھنٹے تک ابالیں۔زخم بینڈیج سے ڈھک کر رکھیں۔اب عالمی صحت ادارہ نے سپر بگ معاملے میں ہندستان کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی ہے ۔حکومت کو اپنے عوام کو اس موذی بیکٹیریا سے نجات دلانے کے لئے دیانتداری سے کام کرنا چاہئے۔
(مضمون نگار سے 09873709977یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)


سپر بگ معاملے میں حکومت کا عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ 









