خوشونت سنگھ
98سال کی عمر میں بھی آج جو میری انکم ہے وہ میری جوانی کے دور میں ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔ جسے دیکھ کر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے کر لیتا ہوں وہ مجھے لمبی عمر کا ماہر مانتے ہیں۔ میں نے اس بارے میں پہلے بھی اپنی بات کہی ہے جسے میں اپنے پچھلے دو برسوں کے تجربات کے بنیاد پر مناسب ترامیم کے ساتھ دو ہراتا ہوں۔
پہلے میں نے لکھا تھا کہ لمبی عمر پانا موروثی ہوتا ہے۔ لمبی عمر والے والدین کے بچے ان لوگوں سے زیادہ عمر پاتے ہیں جن کے والدین کی عمر چھوٹی ہوتی ہے۔ میرے اپنے گھر میں ایسا نہیں ہوا میرے والدین کی موت 90اور 94کی عمر میں ہوئی تھی اور ان کے پانچ بچے تھے۔ چار بیٹے اور ایک بیٹی ۔
سب سے پہلے جانے والوں میں ان کی سب سے چھوٹی اولاد تھی اس کے بعد میری بہن جو چوتھے نمبر پر تھی۔ میرے بڑے بھائی جو مجھ سے تین سال بڑے تھے مجھ سے کچھ برس پہلے چلے گئے۔ ہم دو بچے ہیں میں جلد ہی 98کا ہو جاو¿ں گا اور میرا چھوٹا بھائی جو کہ ریٹائر ڈبریگیڈیئر ہے وہ مجھ سے تین سال چھوٹا ہے اور صحت مند ہے وہ ہماری پشتینی جائیداد کی دیکھ بھا ل کرتا ہے میں ابھی بھی مانتا ہوں کہ کسی کی زندگی کی مدت طے کر نے میں جین سب سے زیادہ اہم جزو ہے۔
زیادہ عمر ہونے پر جائزہ لینے کی بجائے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بڑھاپے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اسے جینے لائق بنایا جائے جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے ہیں ہمارے اعضاءکی کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے ہمیں انہیں متحرک اور کارآمدکھنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ میں 85سال کی عمر میں میں ہر صبح ٹینس کھیلتا تھا سردیوں میں لودھی گارڈن کے چکر لگاتا تھا۔ گرمیوں میں ایک گھنٹہ سوئمنگ پول میں گزارتا تھا۔
میں اب یہ سب نہیں کر پاتا اس کمی کو دور کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے ریگولر طور پر مالش کرائی جائے۔ میں نے الگ الگ طرح کی مالش آزمائش ہے اور پورے جسم پر تیل ملنے اور ٹپکا نے سے مجھے مایوسی ہوئی ہے۔ اچھی مالش کے لئے ضروری ہے کہ تگڑے ہاتھوں سے سر سے لیکر پاو¿ں تک پورے جسم کی مالش ہو۔ میں اسے دن میں کم از کم ایک بار کرتا رہا ہوں۔ اور کبھی کبھی دن میں دو بار ۔ میں مانتا ہوں کہ اس سے مجھے لمبی عمر حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ ہم اپنے کھانے پینے کی مقدار میں زبردست کٹوتی کریں۔ میری صبح ایک گلاس امرود کے رس سے شروع ہوتی ہے یہ لذیذہوتا ہے اور سنگترہ یا کسی دوسرے پھل کے رس سے زیادہ صحت افزاءہے ۔میں ناشتے میں ایک انڈہ اور ایک ٹوسٹ لیتا ہوں لنچ میں عام طور پر دہی یا سبزی کے ساتھ پتلی کھچڑی کا ہوتا ہے میں سہ پہر کو چائے نہیں پتیا۔شام کو میں سنگل مالٹ وہسکی کا ایک پیگ لیتا ہوں اس سے مجھے بھوک لگنے کا احساس ہوتا ہے۔ رات کا کھانا کھانے سے پہلے میں اپنے آپ سے کہتا ہوں زیادہ مت کھاو¿ ۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کھانے میں صرف ایک سبزی یا گوشت ہونا چاہئے اور اس کے بعد چورن کی ایک چٹکی لینی چاہئے اکیلے اور تنہائی میں کھانا سب سے اچھا ہوتا ہے بات کرتے کرتے کھانا کھانے کے ساتھ نا انصافی ہے اور آپ زیادہ نگل جاتے ہیں مجھے پنجابی یا مغلئی کھانا قطعی نہیں بھاتامجھے ساو¿تھ انڈین اڈلی، سانبھر اور ناریل زود ہضم اور مقوی لگتا ہے۔ کبھی بھی قبض نہ ہونے دیں ۔پیٹ سبھی طرح کی بیماریوں کاگھر ہے۔سستی و کاہلی کی زندگیسے ہمیں قبض کا مرض ہو جاتا ہے۔اپنا پیٹ صاف رکھنا چاہئے ۔کسی بھی طریقے سے دست آور دوائی، انیما، گلیسرین جو کچھ بھی باپو گاندھی نے پیٹ صاف کرنے کے لئے ضروری بتایا ہو۔ ہر روز انیما لینے کے علاوہ وہ اپنی خاتون مداحوں کو بھی انیما دیتے تھے۔ اپنے روز مرہ کے کام پر سخت ڈسپلن لاگو کرو۔ اگر ضروری ہو تو اسٹاپ واچ کا استعمال کرو میں صبح ٹھیک ساڑھے 6 بجے ناشتہ کر لیتا ہوں۔ 12بجے لنچ شام کو سات بجے ڈرنک اور رات کو کھانا آٹھ بجے ۔
دل و دماغ کو پر سکون رکھنے کی کوشش کریں۔اس کے لئے آپ کے پاس بنک میں کافی پیسہ ہونا چاہئے ۔ پیسے کی کمی حوصلہ کو بہت گراتی ہے۔ پیسوں کا کروڑوں میں ہونا ضروری نہیں ہے لیکن اتنا ہو کہ ہمارے مستقبل کی ضروریات اور بیمار پڑنے کی حالت میں کم نہ پڑے۔ کبھی بھی غصہ مت کرو۔ اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے اور اس سے نسیں اکڑ جاتی ہیں۔
کبھی جھوٹ مت بولو ہمیشہ سچ کا استعمال کرو۔
کھلے دل سے دوسروں کو دو۔یاد رکھو کہ آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتے آپ اسے اپنے بچوں، ملازموں یا عطیات میں دے سکتے ہیں آپ کو اچھا لگے گا۔ دینے میں ہی مزہ ہے۔ اپنے سے بہت زیادہ خوشحال اور دولتمند لوگوں سے حسد کرنا چھوڑ دو۔ ایک پنجابی کہاوت ہے:
روکھی سوکھی کھائے کے ٹھنڈا پانی پی
نہ ویکھ پرائی چوپڑیاں نہ تر سائیں جی
پوجا پاٹ میں زیادہ وقت گذارنے یا عبادت گاہوں میں کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہنے کی بوڑھے لوگوں کی روایت پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے یہ شکست تسلیم کرلینے جیسا ہے۔ اس کی بجائے باغبانی ، بونجائی اگانے ، اپنے پڑوس کے بچوں کا ہوم ورک کرنے میں مدد کرنے جیسی ہابی اپنائیں۔
ایک کام جو مجھے بہت موثر لگتا ہے وہ موم بتی کی لوپر دھیان لگا کر اپنے دماغ سے ہر بات کو جھٹک دینا ہے۔لیکن میرے جیسے اوم شانتی اوم شانتی کہہ سکتے ہیں یہ کار گر ہے مجھے دنیا وی شانتی ملتی ہے ہم سبھی فوجا سنگھ نہیں بن سکتے۔ جو 100سال کی عمر میں بھی میراتھن ریس دوڑ رہے ہیں ۔لیکن ہم ان کی برابری لمبی عمر اور تعمیری کاموں سے کر سکتے ہیں میں اپنے سبھی قارئین کو لمبی اور خوشگوار صحت مند زندگی کی دعا دیتا ہوں۔
کرسمس ٹری
جب میں نے اس سال کرسمس کا تہوار منایاتو میرے پاس پلاسٹک کا بنا ایک چینی کرسمس ٹری تھا۔ یورپ کینڈا اور لاطینی امریکہ میں ان کے یہاں الگ الگ شکل کے اصلی فرکے پیٹر ہوتے ہیں انہیں پھر دوبارہ نہیں لگانا چاہئے ۔ مجھے ایسے پودوں کا جنگل اچھا نہیں لگتا۔ لیکن پہلی بار میں نے ایک ایسا کرسمس ٹری دیکھا جو ہوٹل لا میریڈین میں رکھا تھا اور خالی بوتلوں کا بنا تھا۔ یہ 20فٹ اونچا ہے اور اس میں چار ہزار ریسائیکلڈ بوتلیں استعمال ہوئی ہیں مجھے اس بات سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ کہ کرسمس درخت لگانے کا مقصد اس دن دیے جانے والے تحائف لٹکانا ہوتا ہے۔۔ مگر خالی بوتلوں پر آپ کوئی چیز کیسے لٹکا سکتے ہیں۔


میری صحت اور طویل عمر کا راز 









