You are here: Home

آسان اردو والی غزلوں کا انتخاب ہی میری کامیابی کا راز: جگجیت سنگھ

برقیہ چھاپیے

جگجیت سنگھ محض ایک گلو کار ہی نہیںتھے بلکہ ایک آئیکن تھے۔ غم ہو یا خوشی، اعصابی تناؤ ہو یا مایوسی، کامیابی ہو یا کوئی تقریب یہاں تک کہ اگر خوشی و شادمانی بھی ہے تو بھی ہر عمر کے لوگ جگجیت کو ہی سننے آیا کرتے تھے۔ وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی رس بھری اور دلگداز آواز آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھول رہی ہے اور وہ اپنی اس غزل سرائی کی وجہ سے ہی اس عالم آب و گل کو خیرباد کہہ دینے کے باوجود سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔
”میں اس لئے کامیاب ہوں کیونکہ میں بہت آسان اور سلیس اردو کی نظموں اور غزلوں کا انتخاب کرتا ہوں“۔ یہ وہ جواب ہے جو شہنشاہ غزل اور اپنی خوبصورت و دلفریب آواز سے جگ جیت کر غزل اور موسیقی کے شوقینوں کی رگ و پے میں سرایت ہو کر اس دنیا کو الوداع کہنے والے جگجیت سنگھ نے انگریزی روزنامہ پائنیئرکے ایڈیٹر انچیف چندن مترا کو اپنے اس انٹرویو میں کہی جو انہوں نے چند برس قبل ممبئی کے مہا لکشمی ریس کورس میں دیا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں وہ اپنے گھوڑوں کو دیکھنے کے لئے روز آتے تھے۔ ان کے انٹرویو کے کچھ اقتباسات یہ ہیں:
چندن: غزل کے صدیوں پرانی صنف ہونے کے پیش نظر غزلوں کے اس نئے دور میں جو آپ نے شروع کیا ہے اور پرانے دور میں کیا فرق ہے ؟
جگجیت: اول تو یہ کہ پرانی غزلوں میں کوئی نظم و ضبط ہی نہیںتھا۔ لوگ یہ سمجھے بغیر کہ یہ غزل ہے گانا شروع کر دیتے تھے۔لیکن آج آپ دیکھیں تو بہت سی ہندی فلموں کے جو گانے مقبول ہوئے وہ غزلوں پر ہی مبنی تھے۔اگر آپ ہیمنت کمار کے کوئی پرانے گانے سنیں جیسے کہ ”یاد کیا دل نے کہاں ہو تم“ تو یہ سب غزلیں ہی تھیں۔ مدن موہن نے بھی اپنی دھن میں کئی غزلیں کمپوز کی ہیں۔ اس کے لئے ایک ہی مثال کافی ہے۔”یوں حسرتوں کے داغ“ یا” مائی رے میں کاسے کہوں پیر “۔ جب میں نے میں نے اپنے طور پر غزل گانی شروع کی تو میں نے اسے اور بھی زیادہ نکھارنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس صنف کو جدید ذوق کے لئے اور بھی زیادہ مقبول بنایا۔ میں نے مکمل غزلیں گائیں اور اپنے ابتدائی دور میں میں نے غالب، میر، جگر، فراق اور داغ کی کلاسیکی غزلیں گائیں۔بعد میں میں نے ہم عصر شاعروں ندا فازلی، وسیم بریلوی اور بشیر بدر کی غزلیں گانی شروع کر دیں۔ چونکہ میری اردو کمزور تھی اس لئے میں آسان اور سلیس نظموں کا انتخاب کرتا تھا اور انہیں سادہ دھن میں سیٹ کیا کرتا تھا۔ غزل سرائی کو اوربھی زیادہ جاندار اور مقبول بنانے کے لئے میں نے مغربی آلات موسیقی بھی متعارف کرائے۔
چندن: آپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ آپ قدرتی طور پر ایسی صلاحیتوں کے مالک گلو کار تھے جس کی ایک دنیا منتظر تھی؟
جگجیت: بے شک، میں کافی حد تک ایسا محسوس کرتا ہوں۔ میں اپنے بچپن سے ہی موسیقی کی جانب راغب ہو گیا تھا اور کلاسیکی موسیقی سیکھنے میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔اصل میں میرے والد موسیقی کے بہت دلدادہ تھے۔ نامدھاری سکھ خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میں نے شبد گانا شروع کر دیا جو کہ راگ کی شکل میں ہوتا ہے۔ میں ریڈیو سننے کا بہت شوقین تھا ۔اور ان دنوں میں کلاسیکی موسیقی کا کافی چلن تھا۔ میں ہندی فلموں کی موسیقی سے بھی واقف ہونا چاہتا تھا لیکن وہ ممبئی فلم نگری کے ابتدائی ایام تھے اور فلمی گانے بڑے پیمانے پر نشر نہیں کیے جاتے تھے۔لیکن میری یاد داشت بہت اچھی تھی اور میں نے جتنے بھی گیت یا گانے سنے انہیں ازبر کر لیا اور گھر پر ان کا ریاض کرنے لگا۔ میرے گھر والے اور دوست احباب میرے گانوں سے بہت متاثر تھے ۔ میرے والد نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔
چندن: آپ ایک ایسے معمولی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جو شہری زندگی سے آشنا نہیں تھی۔اس لیے اس پس منظر میں کس طرح آپ میںنکھار آیا؟
جگجیت:بس مجھے یقین تھا کہ میں ایک بڑا گلوکار بنوں گا اور میں نے اپنے اس خواب کی تکمیل کے لیے تنہا جدوجہد جاری رکھی۔ میں ہوں تو پنجاب کے روپڑ ضلع کا ۔لیکن پلا بڑھا راجستھان کے شہر گنگا نگر میں ۔ جہاں اچھی خاصی سکھ آبادی ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم وہیں خالصہ ہائی اسکول میں پائی جہاں جونیئر کلاسوں میں نصاب تعلیم اردو میں تھا اور اسی دور میں میں نے جتنی بھی اردو سیکھی اس نے میرے غزل سرا بننے میں بڑی مدد کی۔ کیونکہ اردو پڑھنے کی وجہ سے میرا تلفظ اردو داں طبقہ جیسا ہو گیا۔ہمارے شہر میں ہرسال گورو پرب کے موقع پر کوی دربار ہوتا تھا اور اسی کے ذریعہ میں پہلی بار منظر عام پر آیا۔ آسا سنگھ جی مستانہ، راج کوی اندر جیت سنگھ تلسی، سریندر کور اور دیگر کئی بڑی شخصیات اس کوی دربار میں موجود تھیں ۔ ان کی موجودگی میں مجھ سے شبد کی فرمائش کی گئی۔ میں نے بھیروی راگ کی دھن پر اپنے انداز میں شبد گایا جسے سامعین نے بہت پسند کیا ۔ اور مکرر مکرر کی تکرار میں مجھ سے ایک اور شبد سنانے کو کہا۔ اس کے بعد پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ایسی بات نہیں ہے کہ میں نے کسی کی شاگردی نہیں کی ۔ میرے والد نے موسیقی کے بنیادی اصول سیکھنے کے لیے مقامی موسیقار چھگن لال شرما کے پاس بھیج دیا۔ وہ نابینا تھے لیکن زبردست صلاحیتوں کے مالک تھے انہوں نے مجھے موسیقی کے تمام ابتدائی اسرار و رموز سے واقف کر دیا۔دو سال بعد میرے والد نے میرے لیے استاد جمال خان کی خدمات حاصل کیں جن سے میں نے راگ اور خیال ترانا سیکھا ۔ وہ تان سین کے خاندان سے تھے۔ انہوں نے مجھے زمانہ قدیم کے کچھ راگ اور کچھ بندشیں سکھائیں خاص طور پر ایک سیٹ ملکونز کا اور دوسرا سیٹ بلاکشنی ٹوڈی کا سکھایا جو کہ اساوری اور ٹوڈی راگوں کا مرکب ہے۔ اگرچہ میرے والد نے موسیقی کے میدان میں مقبولیت حاصل کرنے میں میری بہت مدد کی لیکن پھر بھی وہ مجھے ایک انجینیئر بنانے پر مصر تھے۔ اس لیے میں نے بی ایس سی میں داخلہ لیا۔ لیکن دو سال بعد میری سمجھ میں آیا کہ انجینیئر بننا تو دور کی بات میں سائنس ہی نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے میں نے بی ایس سی چھوڑ کر بی اے میں داخلہ لے لیا اور بی اے کر لیا تو والد صاحب نے مجھے آئی اے ایس کرنے پر اکسایا ۔لیکن میں نہیں چاہتا تھا اس لیے میں نے انہیں اس بات پر قائل کر لیا کہ مجھے سول سروس کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے ایم اے کرنا ہوگا۔ میں نے کروکشیتر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا کیونکہ میرے پرانے کالج ڈی اے وی کے پرنسپل کروکشیتر یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن کر گئے تھے اور چونکہ میں کالج فنکشنوں میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیتا تھا اس لیے وہ گانے کے لیے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔کوروکشیتر میں میرے بہت سے ایسے دوست بنے جو میرے بہترین دوست بن گئے ان میں ایک سبھاش گھئی بھی تھے جو طلبا میں بہت مقبول تھے اور میں بھی کافی مقبول تھا۔ جلدی ہی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا کہ مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ میں تعلیم جاری رکھوں یا موسیقی کو پورا وقت دوں ۔ 19مارچ1965میری زندگی کا یادگار دن ہے اس روز میں نے پٹھان کوٹ ایکسپریس پکڑی اور ممبئی کا رخ کیا۔ میں گھر والوں کو کچھ بتائے بغیر ممبئی چلا آیا کیونکہ اگر بتا دیتا تو گھر والے بہت پریشان ہو جاتے۔میرے پاس جالندھر میں ریڈیو اور اسٹیج پر کیے گئے پروگراموں کی وجہ سے اتنی رقم تھی کہ میں کچھ ماہ ممبئی میں قیام کر سکتا تھا ۔ میرے وہاں کچھ دوست تھے اس لیے رہائش کا بندوبست ہو گیا ۔ میں اگڑی پاڑہ کے شیر پنجاب ہوسٹل میں منتقل ہوگیا جہاں ایک کمرے میں چار چارپائیاں تھیں ۔ میں وہاں سونے کے لیے ہر ماہ 35روپے کرایہ دیتا تھا۔ یہ بہت گنجان اورگندہ علاقہ تھا۔میرے دوستوں نے روزگار کے حصول میں میری کافی مدد کی ۔ میں شادی بیاہ اور مونڈن کی تقریبات میں گانے لگا پھر مجھے ریڈیو پر موقع مل گیا۔ مجھے ریسٹورینٹ اور ڈھابے والے جان گئے تھے اس لیے میں وہاں ادھار بھی کھا لیا کرتا تھا۔نا مساعد حالات کے باوجود میں مایوس نہیں ہوا اور نہ ان حالات نے میری دل شکنی کی۔ میں اسٹوڈیوز، پروڈیوسروں کے چکر کاٹتا رہا لیکن کسی نے مجھے اہمیت نہیں دی۔ لیکن میں ان دنوں کی واحد گراموفون کمپنی ایچ ایم وی میں جاتا رہا۔آ خرکار 1965میں وہ میرے گیت ریکارڈ کرنے پر تیار ہو گئی۔ انہوں نے سریش راج ونشی کے ساتھ میرا ای پی تیار کیا۔ وہ ریکارڈ کافی مقبول ہوا جس پر ایچ ایم وی نے میرا پہلا اکیلا ای پی بنانے کی پیشکش کی ۔میں نے میر اور جگر کی غزلیں گائیں اور اب تو گھبرا کے کہتے ہیں غزل ریکارڈ کی۔ اس وقت غیر فلمی گلوکار یا موسیقار کی قدر و قیمت ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں تھا۔ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کتنے ریکارڈز ب فروخت ہوئے ہیں۔ اس لیے میں نہ تو دولتمند ہو سکا اور نہ ہی مجھے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ لیکن 1968میں جیسے ہی وودھ بھارتی کمرشیل ہوا مجھے وہ کامیابی ملی جس نے میری زندگی ہی بدل ڈالی۔ ریڈیو نشریہ میں اشتہارات آنے لگے اور میں نے ریڈیو پر اشتہارات کے لیے دھنیں تیار کرنی اور گانا شروع کر دیا۔ یہی میرااچھی خاصی آمدنی کا ابتدائی دور تھا۔ اشتہارات کے لیے میرے مختصر نغمہ میری اچھی خاصی آمدنی کا ذریعہ بن گئے۔ خاص طور پر اورکے اور اومو صابن کے لیے جو میں نے مختصر گیت گائے وہ مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے۔
چندن: میرے خیال میں ان اشتہارات کے گیتوں کے دوران ہی آپ کی چترا سے ملاقات ہوئی؟
جگجیت: جی ہاں بالکل درست ہے۔ یہ دراصل اس کے پہلے شوہر دیب پرساد دتہ کے توسط سے ہوئی تھی۔وہ اشتہاری فلمیں بناتے تھے اور اشتہاری گیتوں کی ریکارڈنگ کے لیے انہوں نے اپنے گھر میں ہی ایک اسٹوڈیو بنا رکھا تھا۔ شروع شروع میں چترا کو میری آواز پسند نہیں آئی۔ لیکن ایک بار ہنگامی حالات میں اسے میرے ساتھ ایک اشتہاری نغمہ گانا پڑا۔ وہ ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اسے آوازوں کی تمیز تھی۔ اس طرح ہم پہلی بار ملے اور ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے۔اس وقت اس کی ازدواجی زندگی میں اتھل پتھل مچی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اس سے طلاق چاہتا تھا۔ اس سے میرا کوئی سروکار نہیں تھا لیکن میں اسے تسلی دلاسہ دیتا تھا اور اس کو سہارا دیا۔ جلدی ہی ہم ایک دورے کے قریب آگئے اور میں نے چترا کے ساتھ پہلا انٹرنیشنل شو اس وقت کیا جب1969میں ہم دونوں ایک ساتھ مشرقی افریقہ گئے ۔ ان دنوں میں غیر معروف تھا اور لوگ میری غزلیں سننے نہیں آتے تھے۔ اس لیے میں نے اس دور کے مقبول فلمی گانے گائے۔مشرقی افریقہ میں ہم نے ”روپ تیرا مستانہ“ اور ” او میرے سونا رے سونا رے“ گایا۔ ہمارا یہ شو زبردست کامیاب رہا۔جب ہم واپس آئے تو چترا نے کہا کہ آپ بلا وجہ الگ گھر میں رہتے ہیں۔ اس لیے میں اس کے وارڈن روڈ کے کرایہ کے فلیٹ میں آگیا جہاں وہ اپنے شوہر سے طلاق کے بعد اپنی بیٹی مونیکا کے ساتھ رہتی تھی۔میں نے اس کے پہلے ای پی کے لیے موسیقی دی۔ ہم نے کچھ گانے مل کر بھی گائے۔ اس وقت تک میں شہرت کی بلندیوں کی جانب پرواز کر رہا تھا۔1976میں ایچ ایم وی نے کہا کہ اب اس کے خیال میں ہم اپنا طویل ریکارڈ خود تیار کر سکتے ہیں۔ یہ 1976کا وہ واقعہ ہے جسے میں کبھی فرموش نہیں کر سکتا۔
چندن: آپ ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ یادگار واقعات ہی آپ کی زندگی کے ٹرننگ پوائنٹ ہیں۔ اس کے بعد پھر کیا ہوا؟
جگجیت: میری اپنی ایک شخصیت بن گئی اور مجھے دنیا بھر میں ایک غزل گو کے طور پر پکارا جانے لگا۔ جیسا کہ میں نے آپ سے ذکر کر چکا ہوں کہ اس سے پہلے میں صرف نجی محفلوں تک ہی محدود تھا اور ان محفلوں میں ہی غزلیں، بھجن اور شبدز گاتا تھا۔بیرونی دنیا مجھ سے واقف نہیں تھی۔ اسٹیج شو ہونے لگے تو اس وقت بھی لوگ مجھے غزلوں سے زیادہ اپنی طرز پرفلمی گانے سننے آتے تھے۔ لیکن ناقابل فراموش واقعات کے بعد تو ہر شخص میری اپنی دھن پر میرا گانا سننا چاہتا تھا۔ جیسے ہی البم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی چترا اور میں ایک اور بیرونی دورے پر نکل پڑے۔ اس بار ہم کویت، دوبئی، لندن اور مشرقی افریقہ بھی گئے۔ لندن میں میں نے بی بی سی پر بھی گایا۔وہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ ہم چھ ماہ تک ملک سے باہر رہے۔ یہ واقعی پہلا موقع تھا جو ہم نے ایک بڑی رقم کمائی۔ اس لیے ہم نے چترا والا کرایہ کا فلیٹ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ دریں اثنا ریکارڈوں کی رائلٹی کی شکل میں بھی آمدنی ہونے لگی۔دولت اور عزت و شہرت نے ہمارا سماجی حلقہ بہت وسیع کر دیا۔زندگی میں تبدیلیاں رو نما ہوتی رہیں لیکن میں یہ بتا دوں کہ اس کے بعد پھر میری کوئی آرزو نہیں رہی۔میرے لیے یہی کافی تھا کہ مجھے شہرت حاصل ہوئی اور میرے پاس اچھی خاصی دولت ہے نیز زندگی میں آہستہ روی سے تبدیلیوں سے میں کافی مسرور تھا۔ اس کے بعد میں اور چترا کئی غیر ملکی دوروں پر گئے۔دنیا کے سب زیادہ باوقار آڈیٹوریموں رائل البرٹ ہال، دی پلاڈیئم، کئین ایلزبتھ ہال، اور سنگا پور کے اسپلانیڈ میں بھی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہوں ۔حسن اتفاق سے میں پہلا ہندوستانی ہوں جس نے جنوبی افریقہ میں 6000کی گنجائش والے سن سٹی میں غزلیں گائیں۔یہ شو لگاتار دوروز چلا۔
چندن: کہتے ہیں کہ اپنے نوجوان بیٹے کی ایک سڑک حادثہ میں ہوئی موت سے آپ اور چترا بری طرح ٹوٹ گئے تھے۔ آپ نے اس غم کا مقابلہ کیسے کیا۔
جگجیت:یہ وہ حادثہ ہے جس کے بعدمیں شدت سے آشا کرتا ہوں کہ کبھی کسی والدین کو ایسا صدمہ نہ سہنا پڑے۔چترا گھر کی چہار دیواری تک محدود ہو گئی۔ اس نے گانا چھوڑ دیا، لوگوں سے میل جول ختم کر دیا۔ حالانکہ مونیکا اور اس کے دونوں بچے ہمارے بہت قریب تھے اور ان سے ہمیں بہت لگاو¿ اور انسیت تھی پھر بھی ببو کی موت کے ساتھ ہی چترا کی ہر خواہش نے بھی دم توڑ دیا تھا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میں نے اسی غم کو اپنیہمت اور طاقت کا ذریعہ بنایا۔ میں نے خود کو موسیقی میں غرق کر لیا اور اپنے اس غم کو میں نے اپنی دھنوں میں سمو دیا۔اس طرح میں نے اپنے غم کا اظہار کیا۔موسیقی میرے لیے اچانک ہی ایک مسلسل سوچ اور فکر بن گئی۔میں غم پر قابو نہیں پا سکا تھا۔وہ مسلسل میرے تعاقب میں رہا ۔ لیکن ہمیںیہی غم لیےندگی گذارنی تھی۔ چترا بھی صدمہ سے باہر آرہی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ اب کبھی اسٹیج پر گا سکے گی۔
چندن: یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ بیٹے کی موت کے بعد آپ اور چترا کے درمیان تعلقات میں تلخی آگئی ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ نے طلاق تک کی بابت سوچ لیا؟
جگجیت: ہم دونوں کے درمیان طلاق کے قصے تو کافی عرصہ سے چل رہے ہیںبلکہ اس حادثہ سے پہلے سے ہی یہ قصے جاری ہیں۔ لیکن جب سے چترا نے گوشہ نشینی اختیار کی اور لوگوں سے میل جول چھوڑ دیا یہ افواہیں اور بھی گرم ہو گئیں۔مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں یہ سراسر بکواس ہے۔ اگر کوئی سچائی ہے تو یہ کہ اس حادثہ کے بعد تو ہم دونوں ایک دوسرے کے اور بھی قریب آگئے۔ اور پہلے سے زیادہ مضبوط بندھن محسوس کرتے ہیں۔
چندن : آپ اتنا کچھ حاصل کر چکے ہیں ۔ اب آپ اور کیا کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
جگجیت:میری ایسی کوئی خواہشات نہیں ہیں۔ میں صرف امید اور دعا کرتا ہوں کہ میرا اگلا شو یا البم پچھلے سے اور بہتر ہو۔میں دھنیں ترتیب دینا بھی جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ در حقیقت سوائے فارگیٹ می ناٹ کے تمام البموں میں میں نے ہی دھنیں ترتیب دی ہیں۔میں ہندی فلموں کی موسیقی کا بھی بہت دلدادہ ہوں اور کسی دن میں طلعت محمود جیسے کچھ اپنے چہیتے گلوکاروں کے لیے بھی کچھ گاو¿ں گا۔
چندن: آپ ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے پھر آپ گیسو اور داڑھی ترشوا کر سہج دھار ی کیوں ہو گئے؟
جگجیت: اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ میں پہلے بھی سکھ تھا اور اب بھی سکھ ہوں۔ لیکن جب میرا پہلا ای پی بازار میںآرہا تھا تو ایچ ایم وی نے مجھ سے کہا کہ اپنا ایک فوٹو دو۔ میں کچھ روز سے اپنے بال ترشوانے کی سوچ ہی رہا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں پگڑی والا فوٹو دیتا ہوں اور بعد میں بال کٹواو¿ں تو شائد مجھے اس وقت آج سے زیادہ ہدف تنقید بننا پڑے گا۔ اس لیے میں نے بال ترشوالیے۔یہی امر واقعہ ہے۔
چندن: آپ گھوڑوں اور گھوڑ دوڑ کے بہت رسیا لگتے ہیں۔ کیا اس کا شوق دولتمند بننے کے بعد بھی باقی ہے؟
جگجیت: نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں کئی دہائیوں سے گھوڑوں کی ریس کا شوقین رہا ہوں۔میرے اکثر دوست چونکہ گھوڑ دوڑ کے شوقین تھے اس لیے مجھے بھی شوق ہو گیا۔ ہاں جب میری استطاعت گھوڑے خریدنے کی ہوگئی تو میں نے خریدے اور آج میرے پاس چار گھوڑے، رضامند، بھیروی، ہائی اسپرٹ اور ڈفرنٹ اسٹروک ، ہیں۔مجھے وہ بہت اچھےلگتےہ اور جب بھی میں ممبئی میں ہوتا ہوں میں انہیں دیکھنے روز اصطبل جاتا ہوں۔
ؓبشکریہ: پاینیئر( دہلی ۔انڈیا)

Read In English

 

All categories