You are here: طنز و مزاح مضامین مضامین طنز و مزح کیا ہے ؟ Home

طنز و مزح کیا ہے ؟

برقیہ چھاپیے

پروفیسر رفعت مظہر
طنز و مزاح کو اکثر ساتھ ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور عام طور پر دونوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے طنز اور مزاح بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔
اسٹیفن لی کاک Stephen Leacockاپنی کتاب Humour and Humanity (1937)کے صفحہ 11 پر لکھتے ہیں :-
طنزمزاح کیا ہے؟یہ زندگی کی نا ہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فن کارانہ اظہار ہو جائے لیکن جب زندگی کی نا ہمواریوں کے اس ’ہمدردانہ شعور ‘کی جگہ تیز اورتلخ شعور لے لیتا یے اور فنکارانہ اظیار میں دھیمے پن اور نرمی کی بجائے کرختگی اور تیکھا پن آ جاتا ہے تو ، مزح نہیں رہتا بلکہ طنز بن جاتا ہے۔ رونالڈ ناکس Ronald Knox اپنی کتاب Esseys In Stireکے صفحہ 31 پر لکھتے ہیں:مزح نگار خرگوش کے ساتھ بھاگتا ہے جبکہ طنز نگار کتّوں کے ساتھ شکار کھیلتا ہے۔ " رسالہ ادب لطیف " میں " طنز و مزح " کو یوں واضح کیا گیا ہے :’قبل از طعام طنز ، بعد از طعام مزح ‘۔طنز ایک شدید ، تیز اور بے دردانہ قسم کی تنقید ہے جس میں کسی چیز کے برے پہلو کو اس قدر نمایاں کر دیا جاتا ہے کہ یا تو اس چیز کے اچھے پہلو خود بخود نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں ےیا پھر پہلو اس قدر چمکا کر پیش کئے جاتے ہیں کہ اچھے پہلو ماند پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ طنز کی شدّت ، تیزی اور تلخی کسی اچھے اور بڑے مقصد کے لئے ہوتی ہے ، اسی لئے گوارہ کر لی جاتی ہے۔ طنز براہ راست نہیں کی جاتی بلکہ اسے مزح کے پردے میں چھپا کر پیش کیا جاتا ہے۔ علی گڑھ میگزین کے طنز و مزاح نمبر کے صفحہ نمبر 34 پر درج ہے کہ :’ مزاح طنز کے عمل جراحی کے لئے غش آوردوا کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔‘
گویا اس لحاظ سے ہم یہ تو کہ سکتے ہیں کہ طنز و مزاح کا آپس میں گہرا رشتہ ہے لیکن یہ نہیں کہ سکتے کہ طنز و مزاح ایک ہی چیز ہے کیونکہ وہ ہنسی جس کے پیش نظر محض انفرادی یا اجتماہی اصلاح ہوتی ہے اسے ہم مزاح کا نام دیتے ہیں۔ جیسے اردو ادب کا مزاحیہ کردار چچا چھکن جو اپنی مزاحیہ حرکات سے ہنسی کی تحریک کرتا ہے۔ اس کے بر عکس جب معاشرہ مجموعی طور پر بگڑنے لگتا ہے اور مزاح نگار کا یہ احساس شدّت اختیار کر جاتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں تو اس وقت وہ انسانیت سے متنفر ہو جاتا ہے اور طنز پر اتر آتا ہے اور یہی طنز جب شدّت اختیار کر لیتی ہے تو اپنی قوت کھو دیتی ہے اور مذمّت بن جاتی ہے۔
مزاح نگار کے دل میں فرد اور معاشرے کے لئے رحم اور محبّت کا جذبہ ہوتا ہے جبکہ طنز نگار کے دل میں نفرت اور دشمنی کا۔ مزاح نگار کا مقصد لوگوں کو ہنسانا اور خوش کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ طنز نگار جس پر ہنستا ہے اس سے نفرت بھی کرتا ہے اور اسے تبدیل کرنے کا خواہاں بھی ہوتا ہے۔
http://sachiidosti.com/forum/urdu-adab-mazah/39341-a.html

Read In English