You are here: Sports تنازعات کا پاکستان کا تعاقب جاری Home

تنازعات کا پاکستان کا تعاقب جاری

برقیہ چھاپیے

(نسم احمد)
انٹر نےشنل کرکٹ مےں تنازعات نے جےسے پاکستان کا پےچھا نہ چھوڑنے کی قسم کھا رکھی ہے۔گزشتہ دو برسوں مےں پاکستان کرکٹ ٹےم کو کئی نشےب و فراز سے گزرنا پڑا ہے۔انگلےنڈ کے دورے مےں اپنے کئی کھلاڑےوں کے اسپاٹ فکسنگ الزام مےں ملوث ہونے کے الزام کے بعد اب پاکستان پر اےک اور تنازع کی تیاری ہے۔ تےن مہےنے پہلے عالمی کرکٹ مےں قدم رکھنے والے وکٹ کےپر بلے باز ذوالقرنےن حےدر نے انٹرنےشنل کرکٹ سے رےٹائر مےنٹ کا اعلان کردےا ہے۔ گرچہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو پر اسرارطور پر چھوڑ کر دبئی سے انگلینڈجانے والے وکٹ کیپرذوالقرنین حیدر کی جگہ عدنان اکمل کو متحدہ عرب امارات طلب کر کے ٹیم مےں وکٹ کےپنگ کے مسئلے پر تو وقتی طور پر قابو پالےا گےا ہے تاہم ذوالقرنےن حےدر اور ان کے تعلق سے آےندہ کے انکشافات سے پےدا ہونے والے بحران پر کس طرح قابو پاےا جائے گا ےہ تو وقت ہی بتائے گا۔ عدنان اکمل وکٹ کیپر کامران اکمل اور مڈل آرڈربلے بازعمراکمل کے بھائی ہیں۔ پیر کی صبح دبئی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے لندن سے اےک ٹی وی چےنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بکنا نہیں چاہتے تھے اس لئے ٹیم چھوڑ آئے ہےں ۔انہوں نے پاکستان کو اپنی ماںقرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ماں کونہیں بیچ سکتے۔ حےدر نے انگلےنڈ مےں سےاسی پناہ کی درخواست کی ہے امیگریشن حکام نے انہےںوکیل کی خدمات حاصل کرنے کا مشور ہ دیا ہے۔انہوں نے اپنے صرف تےن مہےنے کے کےرےر کے بعد انٹرنےشنل کرکٹ سے رےٹائرمےنٹ کا اعلان کر دےا۔پاکستان کی جانب سے صرف اےک ٹےسٹ،چار ونڈے اور تےن ٹوئنٹی۰۲ کھےلنے والے ۴۲ سالہ حےدر کا اللہ پر پورا بھروسہ ہے۔ان کامزید کہنا ہے کہ بے گناہی ثابت کرنا اللہ کا کام ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے کےوںکہ ان کے خاندان کو بھی دھمکےاں مل رہی ہےں۔ دبئی کے حکام نے ذوالقرنین حیدر کے دبئی سے لندن جانے والی پرواز پرِ روانہ ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ کی انتظامیہ کو مطلع کیا تھا کہ وہ لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سخت ضابطوں کے باوجوددبئی حکام کی اطلاع سے پہلے دبئی میں موجود کرکٹ ٹیم کے اہلکاروں کو ذوالقرنین کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا کہ وہ ہوٹل سے کہاں غائب ہو گئے ہیں۔اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے غائب ہونے والے وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے اپنے بھائی عقیل حیدرکو یہ پیغام دیا تھا کہ ’پریشان نہ ہونا میں محفوظ ہوں۔انہوں نے فیس بک پر اپنے صفحے پر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ پاکستانی ٹیم چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ انہیں آخری ون ڈے ہارنے کے بارے میں دھمکی آمیز پیغام ملا ہے۔عقیل حیدر نے بتایا کہ ان کی ذوالقرنین حیدر سے اتوار کی رات گیارہ بجے آخری مرتبہ بات ہوئی تھی لیکن انہوں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی تاہم بعد میں انہیں جو ایس ایم ایس ملا ہے اس میں ذوالقرنین نے کہا کہ وہ محفوظ ہے اورگھروالے پریشان نہ ہوں۔ذوالقرنین کی فیملی کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر لاہور میں ان کے گھر پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے دباﺅ پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل اور دنیش کنیریا کو ورلڈ کپ 2011ءکیلئے ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی دباﺅ کے تحت رواں ماہ کے آخر میں ورلڈ کپ کیلئے اعلان کی جانے والی 30 رکنی ٹیم میں دونوں کھلاڑی شامل نہیں ہوں گے۔ آئی سی سی کے دباﺅ پر دانش کنیریا کو میچ فکسنگ کے الزامات سے بری ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شرکت کیلئے پی سی بی نے عین وقت پر کراچی سے دوبئی جانے سے روک دیا تھا جبکہ کامران اکمل جن پر سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد میچ فکسنگ کے الزامات عائد کئے جا رہے تھے اس ٹیسٹ میچ کو آئی سی سی میچ فکسنگ سے کلیئر قرار دے چکی ہے۔ کامران اکمل جواپینڈکس کے معمولی آپریشن کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں ان کو سلیکٹرز نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کیلئے شامل کرنے پر غور تک نہیں کیا۔پی سی بی کے ذمہ دار حکام کامران اکمل اور دانش کنیریا کو جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہ کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کررہے تاہم پی سی بی ذرائع کے مطابق پی سی بی نے آئی سی سی کے بے پناہ دباﺅ اور معطلی سے بچنے کیلئے ''آپریشن کلین اپ'' کا فیصلہ کیا ہے اور جن کھلاڑیوں پر معمولی شبہات بھی ہوں گے ان کو نہیں کھلایا جائے گا۔اس سے قبل پاکستانی کھلاڑےوں پر موبائل فون کا آزادی کے ساتھ استعمال کے الزامات بھی لگتے رہے ہےں۔جبکہ تےن کھلاڑےوں سلمان بٹ،محمد عامراور محمد آصف کی معطلی کے خلاف اپےلےں مسترد کی جا چکی ہےں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اینٹی کرپشن یونٹ نے متحدہ عرب امارات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نگرانی کرنے کا بھی فےصلہ کےا تھا، کھلاڑیوں کے فون کالز کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کو باریک بینی سے مانیٹر کیا گےا۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اس حوالے سے کھلاڑیوں کو لیکچر بھی دیا تھا تاکہ ان کو اس بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ میچ والے دن موبائل فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے پر پابندی تھی۔

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories