You are here: Sports اب کھلاڑی بی سی سی آئی کے نہیں بلکہ بورڈ کھلاڑیوں کا تابع ہے Home

اب کھلاڑی بی سی سی آئی کے نہیں بلکہ بورڈ کھلاڑیوں کا تابع ہے

برقیہ چھاپیے

سید اجمل حسین
ایک دور تھا جب ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی کرکٹ بورڈ کے تابع ہوا کرتے تھے اور انٹرنیشنل کرکٹ میں ہی نہیںبلکہ ڈومسٹک کرکٹ کے لئے بھی صوبائی ٹیم میں شامل رہنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے رہتے تھے۔مسلسل رنجی ٹرافی کھیلتے کھیلتے تھک جانے کے باوجود ہاٹ ویدر کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے کلبوں کی طرف سے بھی بڑے ذوق و شوق سے کھیلا کرتے تھے اور وہ بھی ایسے میدانوں پر جہاں ڈریسنگ روم نام کی کوئی شے نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی آرام دہ صوفے و کرسیاں ہوتی تھیں۔یہاں تک کہ بورڈ کی نظر میں بڑے سے بڑے کھلاڑی کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی تھی ۔ تھوڑی سی خراب پرفارمنس بھی بورڈ کو ہضم نہیںہوتی تھی ۔ جس کی وجہ سے لالہ امرناتھ، منصور علی خان پٹوڈی، اجیت واڈیکر، بشن سنگھ بیدی، سلیم درانی، مہندر امرناتھ، کیرتی آزاد، ارون لال، لکشمن سیوا راما کرشنن ، ارشد ایوب ، سید صبا کریم، سندیپ پاٹل اور برجیش پٹیل سمیت کئی ایسے سابق ٹیسٹ کرکٹرز ہیں جنہیں بارہا بورڈ کے عتاب کا شکار بننا پڑا۔اس وقت کسی کھلاڑی کی مجال تک نہ تھی کہ وہ آرام کی درخواست تو دور کی بات انتہائی مجبوری میں بھی رخصت کے لئے بورڈ سے رجوع کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا تھا۔ پہلے کسی کھلاڑی کی ریٹائرمنٹ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اسے ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے سے برسوں پہلے ہی ریٹائر کر دیا جاتا تھالیکن آج صورت حال یہ ہےکہ ٹیم انڈیا چاہے جتنے میچ ہار جائے بورڈ کسی کھلاڑی کو ڈراپ ہی نہیں اس سے یا ٹیم منجمنٹ سے باز پرس تک کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اور تمام کھلاڑی اپنی دستیابی سریز اور میچ کی نوعیت کے مطابق اور ر یٹائرمنٹ کی عمر اپنی مرضی سے طے کرتے ہیںکیونکہ اب ہر کھلاڑی کا اسپانسر اس کے لئیے سپر بنا رہتا ہے اور کیوں نہ رہے اس پر اسپانسر نے کروڑوں روپے خرچ کئے ہوتے ہیں اور ایک بڑا حصہ بورڈ کو بھی ملتا ہے۔حالانکہ ایک دور یہ بھی تھا کہ ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا بڑے دل گردے کا کام ہوا کرتا تھا کیونکہ وہاں کی فاسٹ پچیں اور فاسٹ بولرز کے آگے تمام ہندوستانی کھلاڑی خود کو بونا قد سمجھتے تھے اور خوف کے مارے سریز شروع ہونے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود کوئی کھلاڑی سلیکشن سے پہلے نہ تو آرام کی درخواست دیتا تھا اور نہ ہی سلیکشن کے بعد اچانک بیمار پڑ کر جانے سے انکار کرتا تھا۔ لیکن آج کھلاڑیوں کے آگے بورڈ اس قدر مجبور و بے بس ہے کہ کھلاڑیوں نے ملک پر متعلقہ کلب کو ترجیح دینی شروع کر دی اس کو ذرہ برابر احساس نہیں ہوا یکے بعد دیگرے کھلاڑی خود کو ان فٹ ظاہر کرکے دورہ پر جانے سے اظہار معژذوری کرتے رہے اور بورڈ اور سلیکشن کمیٹی سفارشی کھلاڑیوں یا پھر پسند نا پسند کے فارمولے سے متبادل نام کا اعلان کسی غور و خوض کے بغیر اس طرح کرنے لگی جیسے یہ سب پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت ہو رہا ہو ۔ جس کرکٹ سریز سے ملک کے وقار میں چار چاند لگتے ہیں اس سے انہیں گریز ہے اور جس کرکٹ سے صرف اور صرف ان کی ذات کو، سٹے بازوں کو اور فرنچائزی و اسپانسروں کو مالی فائدہ پہنچتا ہے جانوروں کی طرح نیلامی کے باوجود کلب کرکٹ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آئی پی ایل کے میچ کھیلتے ہوئے کوئی سینیر کھلاڑی نہیں تھکا اور نہ ہی زخمی ہوا لیکن ویسٹ انڈیز کے دورے کے لئے پہلے سینیر کھلاڑیوں نے ویسٹ انڈیز جانے سے انکار کیا اور پھر سلیکشن کے بعد مزید دو کھلاڑیوں نے خود کو ان فٹ اور بیمارظاہر کر کے نام واپس لے لیا اور بورڈ ٹکر ٹکر دیکھتا رہا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر ایک ایسی ٹیم روانہ ہوئی ہے جو بھلے ہی ایک دو میچ جیت جائے لیکن سریز نہیں جیت سکتی۔ اور گذشتہ دورے میں 2-1سے سریز جیتنے کا جو نفسیاتی فائدہ اس وقت ٹیم انڈیا کو حاصل ہے اس کا بھی اسے کوئی فائدہ نہیں مل پائے گا۔حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ اس وقت ہندوستانی ٹیم اپنی مضبوط بیٹنگ لائن کی مدد سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی بننے بگڑنے کی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر اپنا ریکارڈ بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے میچوں کی عالمی کرکٹ رینکنگ میں بھی سری لنکا اور ساﺅتھ افریقہ کو اپنے سے بہت پیچھے چھوڑ کر آسٹریلیا کی نمبرون کی پوزیشن کو چیلنج کرتا لیکن نئے کپتان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم سے اس کی توقع رکھنا عبث ہے کیونکہ محض جوں سال اور جوشیلا ہونا ہی کسی کرکٹ سریز کی جیت کی ضمانت نہیں ہے۔ لیکن کرکٹ بورڈ کو ہی اس کا احساس نہیں ہے ۔ ورلڈ کپ ختم ہوتے ہی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ایسے اشارے دئے تھے کہ مسلس کرکٹ کی وجہ سے سینیر کھلاڑی اتنا تھک چکے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانا مشکل ہے لیکن بورڈ کے کسی عہدیدار یہاں تک کہ میڈیا نے بھی یہ نہیں کہاکہ اگر ایسی بات ہے تو آئی پی ایل میں بھی کیوںکھیل رہے ہیں۔ جبکہ بورڈ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ آئی پی ایل کھیلنے کے بجائے ویسٹ انڈیز دورے کے لئے آرام کریں لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا سبھی کو معلوم ہے۔آئی پی ایل نے ثابت کیا ہو یا نہیں سینیر کھلاڑیوں نے بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کی پشت پناہی سے ضرور ثابت کر دیا کہ کرکٹ کے معاملے میں ملک نہیں بلکہ کلب اور بورڈ یا سلیکشن کمیٹی نہیں بلکہ ان کے فرنچائزی بڑے ہیں۔

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories