You are here: Home

انگلینڈ میں کثیر النسل فسادات

برقیہ چھاپیے

سبھاش چوپڑا،لندن
انگلینڈ میں اگست میں ہوئے پہلے انگلینڈ میں کثیر النسل فسادات فسادات نے ان خیالات و تصورات کو غلط ثابت کر دیا جو 1980میں لندن کے بریکسٹن اور ٹوٹنہیم علاقوں میں ہوئے فسادات کے بعد پیدا ہو گئے تھے۔ ان فسادات کی زد میں غرب الہند نژاد سیاہ فام باشندے تھے جو انگلینڈ کے سخت نظم و ضبط اور پولس کی سختی کا مقابلہ نہیںکر سکتے تھے۔ لیکن اس بار جو فسادات ہوئے اس نے کم از کم تارکین وطن کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کی سیاست کا خاتمہ کر دیا ۔ اس بار گوری چمڑی، سیاہ فام اور ایشیائی نژاد باشندے مل کر قتل و غارت گری اور لوٹ پاٹ میں مصروف تھے کبھی وہ گروہ کی شکل میں آتے تھے تو کبھی موقع جان کر بر محل لوٹ مار کر لیا کرتے تھے۔کئی گروہ ایسے تھے جو انتہائی چالاکی و ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوئیٹر، فیس بک اور بلیک بیری سے پیغامات ارسال کرکے پولس سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ پولس جمیعت ، جسے پہلی تین راتوں کے دوران بہت معمولی تعداد میں استعمال کیا گیا، یہ دیکھ کربوکھلا جاتی تھی کہ بیک وقت متعدد مقامات پر تشدد بھڑک اٹھا ہے۔جس کی وجہ سے وہ صورت حال پر جلد قابو نہیں پا سکی۔ جب تک میٹرو پولس جسے عرف عام میں میٹ بھی کہا جاتا ہے ملک کے دیگر حصوں سے اضافی فورس منگواتی کافی نقصان ہو چکا تھا۔وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور دیگر لیڈران جو مختلف مقامات پر تعطیلات منانے گئے ہوئے تھے اپنی تعطیلات منسوخ کر کے لندن واپس آگئے(تاکہ ان کا موازنہ اس نیرو سے نہ کیا جائے جو روم جل رہا تھا اور خود بانسری بجا رہا تھا)۔ پولس کی تعداد میں اضافہ ہوتے ہی فسادیوں پر کنٹرول پانا آسان ہوتا چلا گیا لیکن اس سے ایک اور تنازعہ پیدا ہو گیاکہ فسادات کی روک تھام کرنے کا سہرا پولس اور سیاسی لیڈران اپنے اپنے سر باندھنا چاہتے تھے۔وزیر اعظم نے اپنے کابینی رفقا کی مکمل حمایت کے ساتھ پولس کی تعریف کرکے اس سارے جھگڑے کو بالکل ہی ختم کر دیا۔اس کے باوجود وزیر اعظم اور پولس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے خاص طور پر گروہوں سے متعلق امریکی پولس ماہرین کو بلانے کے کیمرون کے فیصلہ کی وجہ سے یہ اختلافات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ کیونکہ اس اقدام سے برطانوی پولس افسران بہت طیش میں ہیں جو کیمرون کے اس اقدام کو اپنی توہین سمجھ رہے ہیں۔انگریزوں کے زخموں پر اس وقت اور بھی نمک پاشی ہو گئی جب ایران و شام کے رہنماﺅں نے ان حالات کو دیکھ کر حکومت برطانیہ سے کہا کہ دوسروں کو نصیحت کرنے او رجمہوریت کا درس دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنے گھر کی اصلاح کریں۔سب زیادہ گہرا گھاﺅ اسکاٹ لینڈ نے دیا۔ اسکاٹ لینڈ کے اول وزیر اعظم ایلکس سالمنڈ نے انگلینڈ کے سادات کو برطانیہ فسادات کہنے پر بی بی سی کو تنبیہ کی اورکافی برا بھلا کہا ۔سالمنڈ نے کہا کہ یہ فسادات صرف اور صرف انگلینڈ میں ہوئے ہیں اور اسکاٹ لینڈ کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ بی بی سی اور گارجین جیسے کچھ اخبارات فوراً سدھر گئے اور انہوں نے ان جھگڑوں کاانگلش فسادات کے عنوان اور حوالے سے ذکر کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ان دھماکہ خیز حالات کو دنیا بھر نے تیلی ویژن پر دیکھا جس سے برطانیہ کی، اوہ غلطی ہو گئی،انگلینڈکی ساکھ دنیا بھر میں متاثر ہو گئی اور وہ بھی خاص طور پر ایسے موقع پر جبکہ آئندہ سال لندن میں اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔انگلینڈ کی ایک اتھیلیٹ لڑکی کو، جسے اولمپک کا سفیر بتایا جاتا ہے ،مبینہ طور پر پولس پر پتھراﺅ کرتا دیکھا گیا ہے جو کہ ملک کے کھیلوں کی امیج پر کاری وار ہے۔اس لڑکی کی ماں کو یہ دیکھ کر ایسا صدمہ ہوا اور ایسی شرمسار ہوئی کہ اس نے خود ہی پولس کو فون کر کے بیٹی کی مخبری کر دی اورکہا کہ مجھے وہی کرنا پڑا جو صحیح تھا۔ایک اور 11سالہ سفید چمڑی والے فسادی بچے کی ماں نے اپنے بیٹے کی مخبری کی۔ یہاں تک کہ افغانستان سے واپس آنے والے ایک نوجوان سپاہی بھی لٹیروں کی اس فہرست میں شامل تھا جن کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے اور اس فہرست میں مزید نام شامل ہونا متوقع ہیں۔ جن کی تعداد 3000سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔تیزی کے ساتھ سزائیں سنانے کے لئے ججوں نے 24گھنٹے سماعت شروع کر دی ہے۔ان فسادات میں برمنگھم کے تین پاکستانی نژاد بھائیوں سمیت 5افراد کی ہلاکت کے علاوہ کروڑوں پو نڈ کا مالینقصان بھی ہوا ہے۔سیاسی لیڈران اور تجزیہ کار ان فسادات کے اسباب و عوامل اور ان کے سدباب کے معاملہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں بہت مشکل محسوس کر رہےہیں۔وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی ٹوری پارٹی کے زیادہ تر اراکین ان فسادات کو مجرمانہ نوعیت کے اور معمولی قسم کے قرار دینے پر مصر ہیںجنہیں سختی سے کچلنا چاہئے۔ایک پارلیمانی جانچ کمیٹی کی تشکیل کا حکم دے دیا گیا ہے۔ دوسروں کو اس سلسلہ میں کوئی یقین نہیں ہے ۔ اپوزیشن لیبر لیڈر ملی بینڈ فسادات کی جانچ کے لئے ایک بڑا کمیشن تشکیل دینے کے حق میں ہیں۔اب بھی اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فسادات بے روزگاری، بے راہ روی کے علاوہ تعلیم اور ملازمتوں کے فقدان کی وجہ سے ہوئے ہیں۔لیکن ان میں سبھی بے روزگار نہیں ہیں اور سبھی کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ ان فسادات کے دوران لوٹ مار میں اگر ایک طرف پرائمری اسکول کا ایک ٹیچر پکڑا گیا تو دوسری جانب ایک لکھ پتی کی بیٹی بھی فسادات میں شامل تھی۔ بلا شبہ ان میں سے کچھ تفریح طبع کے لئے شامل ہوئے تھے۔ لیکن اس بات سے رو گردانی خود غرضی ہو گی کہ ان فسادیوں میں سے اکثریت غریب طبقہ کی تھی جن کو اچھی تعلیم نہیں مل سکی اور اتنا کم تعلیمیافتہ ہیں کہ انہیں ملازمت بھی نہیں مل سکتی۔بی بی سی ریڈیو 4پر انٹرویو دیتے ہوئے ایک لیبر ایم پی نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں اور ناامیدوں کے لئے کام کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ان کے ٹوری ہم منصب کا کہنا ہے کہ گھروں اور اسکولوں میںڈسپلن پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے بھی ملازمتوں کی ضرورت پر اتفاق کیا ۔ٹوری حکومت وزیر اعظم کیمرون اور ان کے کابینی رفیقوں کی جرائم کو برداشت نہ کرنے اور جرائم پیشہ گروہوں کے سرغنوں کی زندگی اجیرن کرنے کے فلسفہ میں یقین رکھتی ہے۔ غنڈوں کے دروازے پر پولس کی روزانہ دستک ایک نیا سخت اقدام محسوس ہو رہی ہے۔ایک مشہور ناول نگار ہری موہن ناتھ کونزرو نے ،جو کشمیری پنڈت ہونے کی وجہ سے نیم ہندوستانی بھی کہے جاتے ہیں،اپنے ایک اخباری مضمون میں لکھتے ہوئے حالات پر بڑی درشت نظر ڈالی ہے ۔ انہوں نے ان فسادات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ حالیہ اقتصادی انحطاط میں اچھے حالات کے خاتمہ کی علامت ہیں۔ اب لوگ آپ اپنی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ خوف و لالچ ہمارا ہماری حرص و طمع کو اور بڑھاتی ہیں۔یہ سچ ہے کہ بچے چوری کے لئے دکانوں کی کھڑکیاں توڑ رہے ہیں۔ یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ممبران پارلیمنٹ اپنے اخراجات میں خورد برد کر رہے ہیں، پولس افسران رشوت لے رہے ہیں صھافیوں نے فون ہیکنگ شروع کر دی ہے ۔غریب لوگ امیر اور قانون نافذ کرنے والے افسروں سے نفرت کرتے ہیں اور امیر غریبوںسے، جو انہیں ڈراتے ہیں ،نفرت کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ان فسادات نے ناداروں اور مالداروں کے درمیان خلیج ظاہر کر دی ہے۔ یہ ہندوستان کے اڑیسہ، چھتیس گڑھ اور دیگر علاقوں میں تشدد برپا کرنے والے ان غریب قبائلیوں کی طرح ہی ہیں جنہیں ماﺅ نواز کہا جاتا ہے۔

Read In English

 

All categories