You are here: Home

شاہی شادی کے لئے برطانیہ میں بھاری جوش

برقیہ چھاپیے

کرشن بھاٹیہ
ایک تھا راجہ ایک تھی رانی۔ ان کی شادی کی نہ جانے کتنی ہی کہانیاں ہم سب نے بچپن میں بڑی دلچسپی کے ساتھ سنی ہوں گی۔ ان قصوںکی بنیاد پر ہم نے من ہی من تصورات اور خوابوں کے کتنے محل سجائے ہوںگے۔ ہندوستان میں راجے اور رانیاں تو اب رہی نہیں۔ بس رہ گئی ہیں ان کی کہانیاں ۔ لیکن دنیا میں اب بھی کچھ ممالک ہیں جہاں راجے رانیوں کی روایت چل رہی ہے۔ ان میں سے ایسا ہی ملک انگلینڈ بھی ہے جس کے اگلے راجہ اور رانی کی شادی ہونے والی ہے۔ شادی سے متعلقہ تیاریوں کے چرچے آج کل خوب زوروں پر ہیں۔ ٹی وی اخبارات اور میگزینیں سبھی بھری ہوئی ہیں۔ ہر روز شادی کی تصویریں طرح طرح کے تحائف پر ان کی تصویریں ٹورسٹوں کے لئے ہر طرف خصوصی دلچسپیاں ہیں۔
کوئی معمولی سی شادی بھی ہوتو اس کی بھاری گہماگہمی ہوتی ہی ہے یہ تو پھر شاہی شادی ’ رائل ویڈنگ‘ ہے۔ شہزادہ چارلس اور مرحومہ شہزادی ڈائنا کے بڑے بیٹے اور مہارانی ایلزبتھ کے سب سے بڑے پوتے پرنس ولیم اپنی محبوبہ کیٹ مڈلٹن کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ رہے ہیں۔ تمام ممالک میں تو ایک انوکھی خوشیوں سے بھرا جوش خروش اور جنون تو ہے ہی۔ شادی کے جشنوں کے نظارے دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ لندن پہنچ رہے۔
آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہو گیا
پرنس ولیم 28بر س کے ہیں اور کیٹ ان سے ایک سال بڑی 29برس کی ہے۔ جب دونوں یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے تو نہ جانے کب آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہو گیا اور پھر لگنی شروع ہو گئیں ان کی خفیہ پیار کی کلاسیں ۔ یہ سلسلہ کچھ دیر تو چپ چاپ چلتا رہا لیکن کہاں چھپتے ہیں عشق دمشک ، میڈیا کو تو چاہئے کچھ نہ کچھ چٹ پٹا مسالہ۔ ٹی وی اور اخبارات میں چھانے لگے ولیم اور کیٹ کے فوٹو اور چھپنے لگے ان کے پریم پیار کے قصے وکہانیاں۔ 10برس سے چل رہے ان کے رومانس میں کئی اتار چڑھاآئے۔ درمیان میں معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ دونوں کافی نزدیک آگئے اور پھر بچھڑبھی گئے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب پرنس ولیم کے بارے میں کئی خبریں چھپیں کہ وہ فلاں لڑکی سے مل رہے ہیں اور فلاں کے ساتھ ان کی نزدیکی ہے لیکن ولیم اور کیٹ کی پیار کی آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی۔ میل ملاپ پھر سے شروع ہوا۔ دونوں اکٹھے رہنے لگے اور غیر ملکوں میں چھٹیاں بھی ایک ساتھ ہی گزاریں۔ لیکن شادی کے بارے میں بالکل خاموشی ہی رہی۔ شہزادہ ولیم کی شادی ایک ایسا موضوع ہے جس میں برطانیہ کے عوام کی تو گہری دلچسپی ہے ہی تمام دنیا کی دلچسپی بھی اس معاملے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ ولیم برطانیہ کے ہونے والے بادشاہ ہیں۔ ویسے گدی کے جانشین بننے والے تو ہیں مہارانی ایلز بیتھ کے بڑے لڑکے پرنس چارلس۔ جب سے وہ 18برس کے ہوئے تب سے وقتاً فوقتاً کئی طرح کے اندازے لگائے جاتے رہے ہیں کہ مہارانی اپنے بیٹے کے حق میں اب تخت چھوڑ دیں گی اور اگر اب بھی نہیں چھوڑا تو پھر فلاں تاریخ تک یا فلاں موقع پر تو پرنس چارلس کا بادشاہ بن جانا تقریباً یقینی ہی ہے۔ لیکن یہ تمام اندازے اب تک بالکل غلط نکلے ہیں۔ اور مہارانی ایلز بیتھ 1952سے لیکر ابھی تک پوری شان و شوکت کے ساتھ راج سنگھاسن پر ڈٹی بیٹھی ہیں۔شہزادی ڈائنا سے پرنس چارلس کی شادی کے بعد تو کچھ ایسا لگا کہ مہا رانی ایلز بیتھ راج گدی بیٹے کو سونپ کر اب ریٹائر ہو جائیں گی۔ پرنس چارلس نے بننا تھا بادشاہ اور ڈائنا نے رانی لیکن ایسا ہوا نہیں ۔ کہتے ہیں اس کی وجہ تھی ساس اور بہو کا آپسی تناو¿۔ شاہی کنبہ کا ماحول اتنا بگڑا کہ چارلس اور ڈائنا کے رشتے میں بھی دراڑیں آگئیں۔ ڈائنا کا شک تھا کہ چارلس اور اس کے بیچ کوئی تیسرا شخص ہے۔ چارلس کے تعلقات کسی دوسری عورت سے بھی ہیں وہ عورت نکلی چارلس کی پرانی دوست کیمیلا۔ اس معاملے کو لیکر چارلس اور ڈائنا ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے اور کشمکش اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان کے پیار کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ ڈائنا چل نکلی ایک ایسی راہ پر جو راج گھرانہ کے لئے کافی بدنامی کی وجہ بنی۔ اورکئی مردوں کے ساتھ اس کے تعلقات کے رشتے کافی مشہور ہوئے۔ لندن کے دنیا میں مشہور ’ ہیرڈس‘ کے اس وقت کے مالک مصر کے رہنے والے ایک مسلمان ارب پتی کے بیٹے کے ساتھ پیرس میں ایک کار حادثے میں ڈائنا کی موت کے کچھ برس بعد چارلس نے کیمیلا سے شادی کر لی۔ حالانکہ کئی حلقوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی کیونکہ اس کا یہ قدم انگلینڈ کی صدیوں پرانی روایات کی خلاف ورزی تھا۔
راج سنگھاسن پر کون بیٹھے گا با پ یا بیٹا؟
ان تمام طوفانی ہنگاموں کے درمیان بادشاہ کے خواب دل ہی دل میں سجائے چارلس بوڑھے ہوگئے اور ان کے راج سنگھاسن پر بیٹھنے کے امکانات دھندلے پڑ گئے۔ ان دوران ان کے بیٹے ولیم اور ہیری جوان ہو گئے۔ اس طرح انگلینڈ کے تخت اور تاج کے وار ثان کی نئی نسل تیار ہو گئی لیکن پھر بھی مہارانی ایلز بیتھ کی اچانک موت یا ان کی طرف سے گدی چھوڑنے کی حالت میں راج سنگھاسن میں بیٹھنے کا پہلا حق اب بھی پرنس چارلس کا ہی ہے۔ پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ایسی حالت پیدا ہوئی تو پرنس چارلس اپنی جگہ اپنے بیٹے ولیم کو گدی پر بٹھادیں گے۔ ولیم بنیںگے بادشاہ اور کیٹ مہارانی ۔ لیکن کیا کیمیلا ایسا ہونے دیں گی؟
شادی محلوں میں رہنے والوں کی دشمنی ، مقابلے بازی ، حسد، پھوٹ، تعصب، بغاوت ، خون و قتل کے قصے کہانیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مہارانی ایلزبیتھ کا ابھی کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا گدی چھوڑنے کا۔ 2002میں اپنی تاج پوشی کی ڈائمنڈ جبلی کے موقع پر انہو ںنے کہا تھا کہ میں پورے دم خم کے ساتھ ملک کی خدمت کرتے رہنا چاہتی ہوں۔
معمولی خاندان کی لڑکی بنے گی شاہی بہو :
انگلینڈ کے شاہی تخت کا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے۔ اس کے موجودہ جانشینوں کی فہرست کافی لمبی ہے ان میں سے گدی کے سب سے پہلے حقدار پرنس چارلس ہیں۔ اگر کسی وجہ سے بادشاہ نہیں بن پاتے ہیں تو ان کے بعد سنگھاسن پر بیٹھنے کا حق پہلے پرنس ولیم کا۔ ان کی بیگم بنیں گی مہارانی ۔ یہ ملک صدیوں سے چلی آرہی اپنی رویات میں جکڑا ہوا ہے اور ان پر بڑی عقیدت سے عمل کیا جاتا ہے ۔ کیٹ مہارانی کے طور پر بکنگھم پیلس میں قدم رکھنے والی ایسی پہلی شاہی بہو ہوںگی جس کا تعلق کسی شاہی گھرانے سے نہیں ہے۔ ایک معمولی گھرانے میں پیدا ہو کر پرورش پانے والی دلکش خط و خال والی کیٹ جوانی اور حسن کا مجسمہ ہے۔ عادت اور رویہ میں سادگی آنکھوں میں چمک ، گلابی گالوں پر گہرے ڈمپل ، ہوٹنوں پر تھرکتی مسکراہٹ ۔ اس کی دلکش شخصیت کی کچھ انوکھی خوبیاں ہیں۔ ( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے )

 

All categories