ڈاکٹر رمندر سنگھ
پڈسی، لیڈز (یو کے)
پنجاب 1960میں میرے برطانیہ روانہ ہونے کے وقت کی نسبت آج اقتصادی طور پر کہیں زیادہ خوشحال ہے اور پنجابی عوام کا طرز زندگی اس وقت کی بہ نسبت آج بہت زیادہ ماڈرن نظر آتا ہے۔اور بلا شبہ نصف صدی سے زیادہ مدت کے بعد ایسا ہونا فطری بات تھی۔ تاہم عام آدمی بڑھتی مذہب پرستی اور مذہب سے لگاﺅ کے باوجود سماجی و سیاسی حالات اور قرض کے بوجھ کی وجہ سے بہت پریشان، ناخوش اور غیر مطمئن نظر آتا ہے۔
پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں پر مشتمل دو آبہ خطہ کی خوشحالی کا تمام تر انحصار غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی ) کے اس سرمایہ پرہے جو وہ مختلف شکل میں خرچ کر رہے ہیں۔ وہ بیرون ملک کمائی گئی رقم کا ایک کثیر حصہ تعطیلات گذارنے کے جدید قسم کے وسیع و عریض فیملی ہولیڈے ہومز تعمیر کرانے پرخرچ کر رہے ہیں جو سال میں 10مہینے بالکل خالی پڑے رہتے ہیں۔ اور جب وہاں کوئی نہیں قیام نہیں کرتا تووہ ان جدید مکانات کی حفاظت اور اس کی دیکھ بھال کے لئے لوگوں کو پیسہ دیتے ہیں۔ جس سے کئی افراد کو روزگار مہیا ہو جاتا ہے۔ یہ محض اس وجہ سے ہے کہ بیرون ملک آباد پہلی نسل کے لوگ پابندی سے بکثرت پنجاب آتے جاتے رہتے ہیں۔ان کی وقفہ وقفہ سے آمد سے ٹیکسی چلانے والوں اور گھریلو خدمات انجام دینے والوں کو مناسب روزگار مل جاتا ہے اور ان کی آمدنی اچھی خاصی ہو جاتی ہے۔ تقریباً پورے سال خطہ میں واقع تمام شہروں اور قصبوں کے بازار غیر مقیم ہندوستانی خواتین خریداروں سے بھرے رہتے ہیں جہاں وہ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی بڑیبڑی دکانوں سے زیورات و ملبوسات کی خریداری پر لاکھوں پونڈزا ور ڈالرز خرچ کر دیتی ہیں۔اس کے علاوہ اپنے آبائی گاﺅں اور قصبوں میں مذہبی اداروں کے قیام، سماجی بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور دیگر فلاحی خدمات پر بھی این آر آئی بہت بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ان سرگرمیوں میں مقامی آبادی اپنے طور پر خود حصہ لینے یا ہاتھ بٹانے سے زیادہ غیر مقیم ہندوستانیوں سے زبردست توقعات وابستہ کئے رہتی ہے۔
اب زمینوں کی خریداری اور ان کو قابل کاشت بنانے یا ان کو اور بہتر کرنے اور دیگر پیداواری سیکٹروں میں غیر مقیم ہندوستانیوں کی سرمایہ کاری کے دن ہوا ہو گئے۔ نوجوان نسل کے غیر مقیم ہندوستانیوں کی پنجاب میں اپنے آبا و اجداد کی جائیداد و املاک میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پنجاب میں ان کے رشتہ داروں سے ان کی رشتہ داریاں و تعلقات دم توڑتے جارہے ہیں اور ایسا نہیں لگتا کہ وہ لوگ بھی اسی طرح کثرت سے پنجاب آتے رہیں گے جیسے ان کے والدین اور دادا پر داد ا آیا کرتے تھے۔ لہٰذا کسی وقت بھی موجودہ خوشحالی کا یہ بلبلہ پھٹ گیا تو اس پر کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے حیرت ہے کہ کسی کو بھی مستقبل کے اس مسئلہ کا کوئی ادراک نہیں ہے یہاں تک کہ کوئی اس پر بحث کرنے یا تبادلہ خیال کرنے میں بھی دلچسپی نہیں لیتا۔
اس بار جب میں پنجاب آیا تو شائد زندگی میں پہلی بار مجھے پولس کا تب سامنا کرنا پڑا جب میری بہن کے گھر میں اس وقت ڈکیتی پڑی جب میری بہن اور اس کا شوہر اپنے بیٹے سے ملنے آسٹریلیا گئے ہوئے تھے۔لیکن میرے خیال و یقین کے برعکس پولس بڑی مددگار، مستعد اور شائستہ ثابت ہوئی اور اس نے مٹھی گرم کئے بغیر میرے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ حالانکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ پولس کو کچھ دے دلا کر ہی کام لیا جا سکتا ہے خواہ وہ ڈکیتی اور چوری کا ہی کوئی معاملہ کیوں نہ ہو۔میرے تمام شناساﺅں نے یہی کہا کہ یہ تمہاری پوزیشن اور حیثیت ہی ہے جس کی وجہ سے پولس کا سلوک اتنا اچھا اور ہمدردانہ و معاونت والا تھا اور وہ اتنی تیزی سے حرکت میں آئی ۔ لیکن عام بات چیت میں دونوں پولس افسروں نے اس پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ ممبران اسمبلی، ممبران پارلیمنٹ ، کابینی وزیروں اور وزیر اعلیٰ کی غیر ضروری ذاتی سیکورٹی ہے اور وہ پولس فورس کو اپنے تصرف میں اتنا زیادہ رکھتے ہیںکہ اس کی وجہ سے پولس والوں کو اپنے اصل فرائض منصبی نبھانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہر سیاست داں اپنے اطراف تحفظ پر مامور پولس نفری کی تعداد کے ذریعہ عام آدمی کی نظروں میں اپنی جھوٹی شان و شوکت کی خاطر اپنی طاقت،ختیارات اور اسٹیٹس دکھانا چاہتا ہے۔
ہماری خاندانی زمین کے بٹوارے کے لئے بھیمجھے ایک سرکاری دستاویز لینے کے لئے نواشہر میں ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس جانا پڑا ۔ جہاں مجھے دو باتوں نے حیرت میں ڈال دیا ۔ بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ مجھے ایک جھٹکا لگا تو غلط نہ ہوگا۔ ایک تو یہ کہ میں نے وہاں غلاظت کا ایک ڈھیر دیکھا اور لوگ وہاں ایک دیوار ی طرف رخ کر کے پیشاب کر رہے تھے اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے روزانہ سینیئر سرکاری افسران اور مجسٹریٹ پیدل اپنے دفتر جاتے ہیں۔ ان کی اس معاملہ سے بے خبری اور بے فکری آلودگی کے خلاف جد و جہد کرنے کی سیاسی اور انتظامی ریا کاری ظاہر کرتی ہے۔ دوسری بات جس سے کافی دھچکا پہنچا وہ کرپشنکا تھا جس کا کہ بول بالا ہے ۔ کرپشن کھلا، بلا روک ٹوک اور بے تحاشہ ہے۔ مبینہ طور پر گاﺅں پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک ہر ایڈمنسٹریٹر رشوت لیتا ہے۔ ہر کام کے لئے رشوت کی شکل میں ایک غیر سرکاری فیس مقرر ہوتی ہے۔ دلال صرف یہی معلوم کرتے نظر آتے ہیں: کتنا دو گے؟ سیاسی نعروں سے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی کیونکہ سیاستداں اپنی معتبریت کھو چکے ہیں۔ ایک ثقافتی اور سیاسی انقلاب ہی اس تعفن زدہ اور بوسیدہ نظر آنے والے ریاستی ڈھانچہ میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ کوئی انقلاب؟ یہ محض خواب اور تخئیل ہے۔










