لندن : ملک بھر میں 106 میل کی رفتار سے چلنے والے مختصر مدت کے مگر انتہائی تباہ کن طوفان نے تباہی مچا تے ہوئے دو افراد کو ہلاک اور درجن بھر سے زائد دیگر کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں املاک کو زبردست نقصان پہنچایا۔ جگہ جگہ درخت گرنے سے سڑکیں بند جانے کے باعث ٹرانسپورٹ نظام بھی بری طرح متاثر ہوگیا۔طوفان کی اتنی شدت تھی کہ کئی مقامات پر گاڑیاںپلٹ گئیں۔ یہ طوفانی جھکڑ لندن سمیت کئی شہروں میں پیر کی شب شروع ہوئے جنہوں نے زبردست طوفان کی شکل اختیار کر لی اور پھر یہ طوفان منگل کی دوپہر تک جاری رہا۔ ٹرن برج ولز میں جا بجا درخت جڑ سے اکھڑ کر سڑکوں پر گر پڑے۔ ٹاو¿ن سنٹر میں کھڑی ایک وین پربھی درخت گر پڑا جس سے 50 سالہ ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا اسے وین کاٹ کر باہر نکالا گیا اور ٹوٹنگ کے سینٹ جارج ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ۔جبکہ اسی وین میں سوار واحد مسافر محفوظ رہا۔اور اسے کوئی چوٹ نہیں آئی ۔ ہلاکت کو دوسرا واقعہ انگلش نہر میں ہوا جہاں ایک کشتی کے ساحل سے ٹکرا جانے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے اس کشتی کو ساحلی محافظوں نے بر وقت بچاو¿ کا کام کرتے ہوئے ڈوبنے سے بچا لیا۔ طوفان اس غضب کا تھا کہ بیشتر علاقوں میں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ۔ جس سے دفاتر و تجارتی اداروں میں کام کاج بری طرح متاثر رہا۔ سرے میں ایپسم ریس کورس کے گرینڈ اسٹینڈ کی چھت کئی جگہ سے اڑ گئی۔طوفانی جھکڑوں سے سمندر میںبھی طغیانی آنے لگی ۔جس کی وجہ سے کینٹ میں ڈوور کی بندرگاہ کے علاوہ ایسکس اور کینٹ کے درمیان ایک پل بند کر دیا گیا ۔ ایڈنبرا، گلاسگو، انورنس، ایبرڈین اور سنٹرل بیلٹ میں چلنے والی ٹرینوں کی آمد ورفت بھی معطل کر دی گئی۔ ایڈنبراائرپورٹ پر ٹرمینل کے کچھ حصے کو شدید ہواو¿ں سے نقصان پہنچا۔گلاسگو اور ایڈنبرا ائرپورٹس سے کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ا سکاٹ لینڈ کے وزیر برائے نقل و حمل کیتھ براو¿ن نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ایمرجنسی سروسز کی طرف سے دی جانے والی وارننگ کا دھیان رکھیں۔ محکمہ پولیس نے بھی ٹرانسپورٹ مالکوں اور ڈرائیوروں سے کہا ہے کہ وہ بلاضرورت سفر نہ کریں۔ دس ہزار مکانوں کی بجلی چلی گئی۔ طوفانی ہواو¿ں کی وجہ سے ہیتھرو اور دیگر ایئرپورٹس سے پروازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔شمالی آئر لیہنڈ میں بھی کافی تباہی مچی یہاں کے ساحلی علاقے بیلی سن، کلورین، ایسٹ اینٹرم اور بینگر طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور کئی مقامات پر درخت سڑکوں پر گر پڑے۔40سے زائد فلڈ الرٹ جاری کیے گئے تھے لیکن یہ طوفان بلا خیز تھا جو بڑی تیزی سے آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان تھمنے سے پہلے جمعرات تک اپنی تباہکاریاں جاری رکھ سکتا ہے۔










