لندن: برطانیہ میں ایک 23سالہ ہندوستانی طالبعلم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ گریٹر مانچسٹر پولس کے مطابق دو مقامی گوروں نے لنکا شائر یونیورسٹی میں مائیکرو الیکٹرانکس کے طالبعلم کو مانچسٹر میں اس وقت گولی ماردی جب وہ اپنے 9دیگر ہندوستانی ساتھیوں کے ہمراہ کرسمس منانے مانچسٹر آیا تھا۔اس طالبعلم کی شناخت ہو گئی ہے اس کا نام انوج بیدوی بتایا جاتا ہے۔ پولس نے اس کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوفناک اور غیر اشتعالی حملہ تھا اور وہ تفتیش میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرے گی۔چیفسپرنٹنڈنٹ کیون ملیگون نے کہا کہ یہ ایک اندوہناک سانحہ ہے اور انہیں سات سمندر دور اس بچے کے گھر والوں کی طرف سے بہت فکر ہے کہ ان کے دل پر کیا گزرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی برادری میں یہ زبردست تشویش کا باعث ہے اور وہ متوفی کے گھر والوں اور ہندوستانی برادری کو یقین دلاتے ہیں کہ پولس نے وسیع پیمانے پر تفتیش شروع کر دی ہے اور جب تک قاتلوں کو پکڑ نہیں لیا جاتا پولس چین سے نہیں بیٹھے گی۔یہ معلوم کیے جانے پر کہ کیا کیا اس قتل میں نسلی محرک کارفرما ہے مولی گون نے کہا کہ پولس ہر ممکنہ پہلو پر تفتیش کر رہی ہے۔بیدوی جس وقت اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ ایک تفریحی مقام پر ٹہل رہا تھا کہ ایک شخص وہاں نمودار ہوا اور اس نے بیدوی کو ایک ہاتھ کی دوری سے گولی مارنے سے پہلے اس گروپ کو روکا اور کچھ بات کی۔ میلگون نے کہا کہ یہ کوئی 20،22سال کا گورا نوجوان تھا۔ انہوں نے اس قاتل سے کہا کہ وہ جتنی جلد ہو سکے خود سپردگی کر دے۔ ہندوستان میںبیدوی کے گھر والوں کو اس سانحہ سے مطلع کر دیا گیا ہے۔ایک دیگر واقعہ میںلندن میں بعد از کرسمس سیل کے پہلے روز خریدار کے لیے آنے والے ہزاروں افراد کی موجودگی میں دن دھاڑے ایک ہند نژاد کمسن کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا۔ جنوبی لندن کے رہنے والے 18سالہ کمسن لڑکے کو آکسفورڈ اسٹریٹ میں فٹ لاکر اسٹور میں خنجر گھونپا گیا ۔ پولس نے کہا کہ یہ بتانا کہ خنجر زنی کی اس واردات میں کون سا محرک کارفرما تھاقبل از وقت ہوگا۔اس سلسلہ میں 10گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ واردارت کے فوراً بعد کئی ڈپارٹمنٹل اسٹورز بند کرا دیے گئے۔ قریب میں ہی واقع ڈزنی اسٹور کے ایک ملازم نے کہا کہ اس واقعہ سے وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس بات کا کوئی امکان نہٰں ہے کہ اسٹور دن میں دوبارہ کھل سکے گا۔واردات کے فوراً لندن ایر ایمبولنس اور لندن ایمبولنس سروس طلب کر لی گئی لیکن اس نوجوان کو موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔ سینیر تفتیشی افسر سراغرساں چیف انسپکٹر مارک ڈیون نے کہا کہ جائے حادثہ سے کئی ہتھیار بر آمد ہوئے ہیں لیکن وہ قطعیت سے یہ نہیں بتا سکتے کہ اس میںآلہ قتل بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے افسران تفتیش میں لگے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے دو گروہوں میں تکرار ہو ئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی افراد کو اس معاملہ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔










