You are here: Home

آئی ایس آئی طالبان کی ہر طرح سے مدد کر رہی ہے:ناٹو رپورٹ

برقیہ چھاپیے

لندن : ناٹو کی دستاویزات کے مطابق پاکستان کی آئی ایس آئی افغانستان کے طالبان کی ، جو یہ قیاس کیے ہوئے ہیں کہ مغربی ملکوں کی فوج کے انخلا کے بعد ان کا بر سر اقتدار آنا یقینی ہے، خفیہ طور پر نہ صرف مدد کر رہی ہے بلکہ ہر قسم کی امداد بہم پہنچا رہی ہے۔طالبان کے حالات کے عنوان سے ناٹو کی اس رپورٹ میں جو افشا ہو گئی ہے اور جسے بی بی سی اور دی ٹائمز اخبار کے ہاتھ لگ گئی ہے، کہا گیا ہے کہ پاکستان اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی تمام سینیر طالبان لیڈروں کے ٹھکانوں سے واقف ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان، القاعدہ اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کا ٹھوس ثبوتوں کےساتھ انکشاف ہوا ہے۔یہ رپورٹ گرفتار شدہ طالبان سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے جسے گذشتہ ماہ افغانستان میں تعینات ناٹو کمانڈروں کو دے دیا گیا تھا۔ بی بی سی کی اطلاع کے مطابق یہ رپورٹطالبان اور القاعدہ کے گرفتار 4000 سے زائداراکین سے 27ہزار انٹرویوز کے دوران بہم پہنچائی گئی معلومات کے ذخیرے پر مبنی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے طالبان کی سینیر قیادت کےساتھ پاکستان کے تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ آئی ایس آئی افسران افغانستان سے غیر ملکی افواج کو پسپا کرنے اور جہاد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے رہتے ہیں اور ان کے لیے جاسوسی بھی کرتے ہیں۔ٹائمز اخبار نے رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ 2011میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سمیت کئی جھٹکے لگنے کے باوجود طالبان کی طاقت، محرک، مالی امداد اور اس کی جنگی صلاحیتیں اور تکنک میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ جوں کی توں ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کی اکثریت پہلے ہی سے یہ تسلیم کر چکی ہے کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔اگرچہ امریکی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی لیکن پاکستان اور افغانستان میں اس کے اثر و رسوخ سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کرچکی ہے۔پنٹاگون کے ترجمان جارج لٹل نے کہاکہ ہم نے رپورٹ نہیں دیکھی ہے اس لیے اس پر خاص طور سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ امریکہ کو بہت پہلے سے ہی آئی ایس آئی اور کچھ انتہا پسند نیٹ ورکس کےدرمیان تعلقات پر کافی تشویش تھی۔رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا 2011میں طالبان میں شمولیت میں کافی دلچسپی دیکھی جا رہی تھی حتیٰ کہ افغان حکومت میں شامل افراد بھی طالبان میںشامل ہونے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشتر معاملات میں افغان عوام موجودہ حکومت پر طالبان کی حکمرانی کو ترجیح دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو وہ بہت بد عنوان اور کرپٹ مانتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان غیر ملکی فوجوں کے انخلاسے پہلے ہی صدر حامد کرزئی کی حکومت کو بہت منظم انداز میں کمزور کرنے کی کوششوں اور مغربی ملکوں کے فوجیوں کی ہلاکت اور ان پر حملوں کے لیے طالبان کی معاونت کرنے میں مصروف ہے۔

Read In English

 

All categories