بیونس آئرس: برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان 1982کی فاک لینڈ جنگ کے بعد سے اب تک کے سب سے خراب اور کشیدہ تعلقات کے سائے میں ڈیوک آف کیمبرج جزائر فاک لینڈ پہنچ گئے۔ ان کی فاک لینڈآمد نے پہلے ہی سے پھیلی کشیدگی میں اور بھی اضافہ کر دیاہے۔شہزادہ ولیمز اپنے رائل ایر فورس کے سرچ اینڈ ریسکیو اسکواڈرن کے ساتھ جیسے ہی چھہ ہفتہ کے لیے فاک لینڈ پہنچے تو ارجنٹینا کے نائب صدر امادو باو¿دونے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ شہزادہ ولیمز کی فاک لینڈ میں موجودگی در اسل اسکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک سے توجہ بھٹکانے کے لیے دلیری اور اکڑ دکھانے کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہزادہ ولیمز کا یہ دورہ محض اس وجہ سے ہو رہا ہے تاکہ اس وقت برطانیہ بے روزگاری اور کساد بازاری سے لے کر اسکاٹ لینڈ کی علاحدگی پسندی تک جس طرح کے داخلی اور پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے ان کی جانب سے عوام کی توجہ بھٹکائی جا سکے۔کیونکہ یہ وہ اقدام ہے جس کی جانب میدیا اپنی پوری توجہ مرکوز کر دے گا۔ رائل نیوی کے انتہائی طاقتور بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد سے برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان کشیدگی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ارجنٹینا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شہزادہ ولیمز ایک فاتح کی حیثیت سے وہاں پہنچے ہیں جبکہ بحریہ ذرائع نے ارجنٹینا کو انتباہ دیا ہے کہ اگر اس نے حملہ کی کوشش بھی کی تو اس کی ساری فضائیہ بھسم کر دی جائے گی۔




