You are here: Home

لندن میں جگجیت سنگھ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا

برقیہ چھاپیے

لندن: یہاں گذشتہ دنوں لندن ویسٹ کے سلوگھ علاقہ میں واقع حویلی ریستوراں میں شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ کی یاد میں منعقد ایک فنکشن میں ان کے دوست احباب اور مداحوں نے زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ممتاز براڈ کاسٹر اور وائس آف کینیا یونین( ووکو)کے سکریٹری ، جنہوں نے اس عظیم گلو کار کے لیے ”ساون دا مہینہ“ سمیت کئی گیت لکھے تھے اس موسیقی بوکے کا انتظام کرنے میں زبردست تعاون دیا اور وائس آف کینیا کے دیگر اراکین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ان میں فنکشن کی صدارت کرنے والے چاچا صاحب سے مشہور پریتم چگر نے ووکوکی تاریخ کا تفصیل سے ذکر کیا اور ہندوستان سے آئے مہمان فنکار راج کمار جن کوووکوکے پیٹرن پال ریاٹ لائے تھے، کا تعارف کرایا۔ انہوں نے جگجیت کی کچھ یادگار غزلیں گائیں۔ کینیا کی ایک نئی دریافت گلو کارہ ریکھا نے بھی محفل کی رونق بڑھاتے ہوئے اپنی مدھر اور گداز آواز میں جگجیت کی غزلوں سے ایک سماں باندھ دیا۔ جگجیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہونے والوں میں مشہور موسیقار اور کمپوزر محمد قاسم، بی بی سی کی ایک فنکارہ دردانہ انصاری، رگھو بیر راہی اور موہن جٹلی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر جگجیت کے انتہائی قریبی دوست دیپک خزانچی بھی تشریف لائے تھے انہوں نے چار معاون گلوکاروں کے ہمراہ شبد گا کر پروگرام کا آغاز کیا۔دیپک ایم ممتاز موسیقار ہیں اور انتہائی با صلاحیت کمپوزر ہیں ان کی کئی البمیں بھی منظر عام، پر آچکی ہیں۔ دنیا بھر میں ہوئے کئی پروگراموں میں انہوں نے جگجیت کا گٹار پر ساتھ دیا ہے۔ ایک دوسرے مہمان بابی جٹلی تھے جو بہترین طبلہ نواز ہیں اور انہیں بھی کئی پروگراموں میں جگجیت کے ساتھ طبلہ بجانے کا اعزاز حاصل حاصل ہے۔دیدار سنگھ پردیسی نے بھی اس فنکشن میں اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی اور راجو نے اپنے والد اور پنکی کے ساتھ ”چرخہ میرا رنگ لا“ غزل گائی۔ایشین افئیرز کے پبلشر اور اردو تہذیب آن لائن ایڈیشن کے بانی چیرمین اجیت بھامبرا نے جگجیت سے اپنی دیرینہ دوستی اور گہرے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کے دلوں پر راج کیا کرتے تھے اور ان کی مسحور کن شخصیت اور انسانیت نوازی سے ہر شخص ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ وہ جس سے بھی ملتے تھے انتہائی عجز و انکساری سے ملتے تھے اور ملنے والا دم بخود رہ جاتا تھا کہ ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت جسے پوری دنیا بلا لحاظ مذہب و ملت شہنشاہ غزل تسلیم کرتی ہے اس قدر سادہ ہے کہ وہ خود کوہم جیسا ہی ایک معمولی شخص سمجھتا ہے۔مسٹر بھامبرا نے اپنی اس پہلی ملاقات کا ذکر کیا جو ان کی کینیا میں 60کی دہائی میں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ ان سے بحیثیت ایک انسان اور اس کے ٹیلنٹ دونوں سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں 1976تک ایک دوسرے کو بہت قریب سے نہیں جانتے تھے۔لیکن 1976میں جب ہم دونوں کی یو کے میں ملاقا ت ہوئی اور جگجیت نے ان کے نئے پنجابی اخبار سندیش انٹرنیشنل کا اجرا کیا تو محبتیں بڑھیں اور ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ مسٹر بھامبرا نے مزید کہا کہ جگجیت نے ان (بھامبرا) کی فلم سازی اور ادبی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی اور سرگرم حصہ لینا شروع کر دیا اور جامع ثقافت کے تخئیل کے ساتھ امن و اتحاد اور یکجہتی کے کاز کومشترکہ طور پر فروغ دینے کے لیے ان کی زبردست معاونت کی۔ مسٹر بھامبرا نے مزید کہا کہ کمپوزٹ کلچر کے خیالات کو فروغ دینے کے اپنے مشن کے ایک جزو کے طور پر جب 2003میں انہوں نے اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ شروع کی تو جگجیت نے صدق دلی کے ساتھ اسکے پہلے سرپرست کی حیثیت سے اس کی حمایت کی۔ جگجیت نے اسی کاز کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان اور برطانیہ میں منعقد کیے گئے سمیناروں کی بھی حوصلہ افزائی کی۔مسٹر بھامبرا نے کہا کہ دوسرے حضرارت ان سے زیادہ بہتر طریقہ سے جگجیت کی موسیقانہ صلاحیتوں کو پیش کر سکتے ہیں۔لیکن وہ جگجیت کو ایک ایسے ہند نژاد دوست اور ہم سفر کی حیثیت سے یاد رکھنا چاہتے ہیں جو حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ یک عالمی نظریہ رکھتا تھا۔خدا اسے جنتمیں جگہ دے جس کا کہ وہ مستحق ہے۔وہ بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کے ساتھ ساتھ بہت پیارا دوست تھا۔ جگجیت اپنے دوستوں اور ان کے گھر والوں کا ایس طرح خیال رکھتا تھا جیسا کوئی خود اپنا خیال رکھتا ہے۔اور1990میں جب اس کے جواں سال بیٹے کی سڑک حادثہ میں موت کا سانحہ عظیم ہوا تو اس نے نہ صرف جگجیت اور اس کی بیوی چترا کو گہرے صدمہ سے دوچار کر دیا بلکہ ہم سب کو اور اس کے دیگر تمام دوستوں کو بھی غم سے نڈھال کر دیا۔

Read In English

 

All categories