You are here: Home

افغانستان میں امریکی چہرہ بے نقاب

برقیہ چھاپیے

محمداحمد کاظمی
عراق کی ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی حرکتوں کی تصویریں ابھی بین الاقوامی برادری کے ذہنوں میں تازہ ہی تھیں کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ذریعہ شہریوں کی لاشوں پرپیشاب کرتے ہوئے دکھانے والی ویڈیو نے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔امریکی فوجی کی نظر میں عام افغان شہری کے یہ حیثیت ہے کہ وہ نہ صرف زندہ قیدیوں کے ساتھ کابل کے بگرام ہوائی اڈے کے نزدیک جیل میں ان کو غیر انسانی تکالیف پہنچاتے ہیں بلکہ ان کی لاشوں کی بھی غیر انسانی طریقوں سے بے حرمتی کرتے ہیں ۔ امریکہ نے ان کو طالبان کی لاشیں بتایا ہے۔گزشتہ دنوں جنوبی افغانستان کے ہلمند صوبے میں تین افغان شہریوں کی لاشوں پر چار امریکی فوجیوں کے ذریعہ پیشاب کرتے ہوئے ایک ویڈیو انٹر نیٹ کی یوٹیوب ویب سائٹ پر مہیا کی گئی ہے ۔اس ویڈیو میں امریکی فوجی افغان شہریوں کی لاشوں پر پیشاب کرتے وقت ہنستے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس ویڈیو کے عام ہونے پرافغان صدر حامد کرزئی نے شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس اوقعہ میں ملوث فوجیوں کو سخت سزائیں دی جائیں ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق چاروں امریکی فوجیوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ لیکن ابھی تک انہیںگرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ امریکہ کے وزیر دفاع نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔اس واقعہ کی دنیا بھر میں شدید مذمت ہورہی ہے۔ ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قندھار کے ایک شہری جمال کریمی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جنوبی افغانستان میں اس سے کہیں زیادہ مظالم کے واقعات کے بارے میں جانتا ہے اور وہاں کے مقامی لوگ اکثر ان واقعات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ میڈیا ان واقعات کو اہمیت نہیں دیتا ۔ جمال کریمی قندھار میں ایک دوکاندار ہے ۔ امریکہ کی وزارت دفاع یعنی پینٹاگن کے ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی چھان بین جاری ہے ۔ ان کے مطابق اس واقعہ میںملوث امریکی فوجی اہلکار مارچ سے اگست 2011کے درمیان افغانستان کے ہلمند صوبے میں تعینات تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ہی امریکی حکام نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات کہی ہے اورطالبان نے بھی حال ہی میں مسئلہ افغانستان پر مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لئے قطر کی راجدھانی دوحہ میں ایک رابطہ دفتر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ عرب ممالک میں گزشتہ تقریباً10برسوں سے قطر امریکہ کا بہت نزدیکی ملک سمجھا جاتا ہے۔عراق 2003جنگ کا فوجی ہیڈ کوارٹر بھی قطر میں ہی قائم کیا گیا تھا۔ امریکی ایجنڈے پر خطے میں مبینہ طور پر مسلسل کام کرنے والا الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل بھی 1996 میں قطر کی راجدھانی دوحہ میںہی قائم کیا گیا تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ، ابوساب زرقاوی اورطالبان کے رہنما ملا عمر اور دیگر رہنماو¿ں کے تمام ویڈیو اورآڈیو پیغامات صرف الجزیرہ ٹی وی چینل کو ہی ’موصول‘ ہوتے رہے ہیں۔ کئی ماہرین اس پر شبہ بھی ظاہر کرتے رہے ہیں ۔میڈیا اور فلموں سے تعلق رکھنے والے افراد تو اس حد تک شک کرتے ہیں کہ میک اپ کر کے اسٹوڈیو میں رکارڈ کئے گئے پیغامات کو ہی اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے بیانات بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ بہر حال امریکی حکام اور ان کے اتحادی ممالک جب ضرورت ہوتی ہے جنگ کا اعلان کرتے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں تو مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ افغانستان میں مسلسل مل رہی ناکامیوں کے بعد طالبان سے مذاکرات کی پیشکش اسی لائحہ عمل کا حصہ ہے ۔ ظاہر ہے قطر میں مذاکرات کے لئے دفتر کھولنے والے طالبان کے رہنما امریکہ اور ان کے اتحادی عرب ممالک کی پسند کے ہی ”رہنما‘ ہیں۔ امریکی فوجیوں کے ذریعہ لاشوں کی بے حرمتی کی حالیہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مغربی میڈیا نے طالبان کے ایک بیان کو اہمیت دی ہے جس میںاس واقعہ کی مذمت تو کی گئی ہے البتہ کہا گیا ہے وہ امریکہ کے ذریعہ مذاکرات کے عمل کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ ان کے مطابق اس قسم کے مظالم میںحملہ آور فوج میں سے بہت کم افراد ملوث ہوتے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ مغربی میڈیا نے کس قسم کے طالبان کو اہمیت دی ہے۔ ابوغریب جیل میں امریکی فوجیوں نے عراقی قیدیوں کو کس قدر غیر اخلاقی طریقوں سے اذیتیں دی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ان واقعات کے بعد جیل کے سربراہ کا سزاکے طور پر ایک رینک کم کر دیا گیا ۔ فوجیوں کو 10برس کی سزا ہوئی جبکہ کچھ دیگرفوجیوں کو کم سزائیں دی گئی تھیں۔افغانستان میں مسلسل مل رہی ناکامیوں کے بعد امریکی فوجیوں کے ذریعہ افغان شہریوں کی لاشوں کی بے حرمتی سے پیدا ہوئی صورتحال میں میرا تجزیہ ہے کہ ملک میںامریکہ کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں عراق سے انخلا ء کے بعد امریکہ نے کچھ فوجیوں اور ہتھیاروں کو افغانستان میں منتقل کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب افغانستان میںان کے لئے حالات مزید سخت ہوں گے۔ اگر عراق کے رہنماو¿ں اور حکومت کے ذریعہ اختیار کئے گئے لائحہ عمل اور تجربات سے افغانستان کی حکومت بھی سبق لے تو ممکن ہے کہ امریکہ سے انہیں بھی جلد ہی چھٹکارا مل جائے۔ البتہ اصل مشکل یہ ہے کہ طالبان کا نظریاتی سرچشمہ جہاں سے ملتا ہے وہاں امریکہ کا غیر معمولی اثر موجود ہے۔ البتہ اگر افغان عوام کو آزاد انہ طور پر اپنی رائے رکھنے کا موقع ملے تووہ ضرور ایران اور عراق کے ذریعہ اختیار کی گئی آزادانہ خارجہ پالیسی کے حق میں رائے دیں گے۔ بہرحال یہ امر قابل غور ہے کہ امریکہ کی دوغلی اورظالم پرست خارجہ پالیسی کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں نفرت کا سامنا ہے اور ملک میں حکومت اور عوام اقتصادی بدحالی کی وجہ سے کشیدگی اور انتشار کا شکار ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کا غیر انسانی چہرہ روز بروز دنیا کے سامنے عیاں ہورہا ہے
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

All categories