You are here: Home

عرب او رافریقی عوام عراق سے سبق لیں

برقیہ چھاپیے

محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
آخرکار امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے اس برس کے آخر تک عراق سے اپنی تمام افواج کی واپسی کا اعلان کر ہی دیا۔ عراق کے صدر جلال طالبانی‘ وزیر اعظم نوری المالکی اور دیگر سبھی اہم شخصیات نے ایک آواز ہو کر ملک میں امریکی افواج کے طے شدہ دسمبر2011تک کی موجودگی کی مدت میں توسیع سے انکار کر کے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ کی تمام کوششوں اورسازشوں کے باوجود عراق کے سبھی لوگ امریکی افواج کا مکمل انخلاءچاہتے ہیں۔ البتہ عراق میں حالیہ دنوں میں خودکش بم دھماکوں میں اضافہ قابل تشویش ہے۔ اب سے پہلے جب بھی عراقی حکمراں طبقے نے امریکی فوجی انخلاءپر زور دیاہے اس قسم کے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔
امریکہ نے2003 سے اب تک عراق میں 10کھر ب ڈالر خرچ کئے ہیں جن میں سے تقریباً ساڑھے 6ارب ڈالر لاپتہ ہیں ۔ اب تک تقریباً ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی عراق میں ہلاک ہو چکے ہیں ۔
21اکتوبر کو امریکی صدر براک اوبامہ نے عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ جارج بش کے زمانے میں 2008میں ہوئے معاہدہ کے تحت امریکہ کے سبھی فوجی عراق سے دسمبر2011تک وطن واپس ہو جائیںگی۔ واضح رہے کہ امریکہ نے اس سال اگست میں عراق میں تمام اپنے مسلح آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس وقت عراق میں 40ہزار امریکی افواج تربیت اور مشاورتی کاموں کے لئے موجود ہیں۔ دیگر سبھی ممالک نے اپنی افواج پہلے ہی عراق سے واپس بلا لی ہیں۔
البتہ 26اکتوبر کو ایک ٹیلی ویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے اس سال کے آخر تک امریکی افواج کے انخلاءکا اعلان ہونے کے باوجود امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے مبینہ طور پردہشت گردانہ مخالف سرگرمیوں اورخفیہ اطلاعات حاصل کرنے کی غرض سے عراق میں موجود رہنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔
امریکہ سے شائع ہونے والی ویب سائٹ دی ڈیلی بیسٹ نے امریکی حکام کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ سی آئی اے عراق میں مشترکہ خصوصی آپریشن کمانڈ اور رفوجی اداروں کے ساتھ برسوں سے جاری تعاون کو جاری رکھتے ہوئے عراق میں اپنی سرگرمیاں جار ی رکھے گی ۔ ان سرگرمیوں میں دور سے نظر رکھنے والے رموٹ سینسرز کی تعیناتی شامل ہے تاکہ امریکہ اور عراق کی مشترکہ دہشت گردی مخالف کمانڈو ٹیم کی مدد کی جا سکے ۔ اس کے علاوہ مقامی خفیہ ایجنسی کی مدد کرنا اورکہیں کہیں مقامی خفیہ ایجنسی سے الگ بھی اطلاعات حاصل کرنا سی آئی اے کی سرگرمیوں میں شامل ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیر دفاع لیون پنِٹا نے گزشتہ چند ماہ میں دسمبر 2011کے بعد بھی کچھ امریکی فوجیوں کو عراق میں رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ عراقی حکومت پر امریکہ یہ دباو¿ دے رہا تھا کہ وہ اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست کرے تاکہ امریکی فوجیوں کی عراق میں موجودگی کو توسیع دی جا سکے ۔ چند ہفتے پہلے عراق کی مختلف سیاسی جماعتوں اور حکومت میں شامل رہنماو¿ں کی میٹنگ میں یہ طے بھی ہوگیا تھا کہ وہ عراق میں کچھ امریکی فوجیوں کو توسیع دے سکتے ہیں لیکن انہیں کوئی قانونی استحقاق حاصل نہیں ہوگا ۔ یعنی اگر وہ کوئی جرم کریں گے تو ان کے خلاف عراقی قانون کے تحت عدالتی کارروائی کی جائیں گی۔ اس پر امریکی حکام راضی نہیں ہوئے اور آخرکار صدر براک اوبامہ کو عراق سے دسمبر 2011تک تمام فوجیں واپسی کا اعلان کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق عراق میں امریکی افواج اب تک دسمبر 2011میں انخلاءکے لئے ضروری تیاری نہیں کر رہے تھے۔ اب امریکی انتظامیہ کویت اور ترکی سے کچھ فوجی سازو سامان منتقل کرنے کے لئے مذاکرات کر رہی ہے ۔ کچھ علاقائی ممالک امریکی فوجی ہتھیار وں کو سستی قیمت پر خرید نے کی بات بھی کر رہے ہیں ۔ اب امریکہ ترکی کو یہ لالچ دے رہا ہے کہ اگر وہ امریکی ڈرون طیاروں، حساس رموٹ سنسرز اور عراق میں استعمال ہوئے ہتھیاروں کو اپنے یہا ںرکھنے کی اجازت دے دے تو وہ ترکی کی کردستان ورکرس پارٹی کے خلاف (عراقی سرحدوں میں) فوجی کارروائیوں میں اس کی مدد کرنے کو تیا رہے۔
واضح رہے کہ ترکی شمالی عراق کے کردستان علاقے سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میںفوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان ترکی مخالف کرد لڑاکوو¿ں کو مبینہ طور پر عراق کے کردستان کی خود مختار حکومت امداد دیتی رہی ہے ۔ شمالی عراق کے اربل شہر میں قائم کردستان کی حکومت کوامریکہ نہ صرف2003جنگ کے بعد سے بلکہ 1990میں صدام کے ذریعہ کویت پرحملے کے بعد سے ہی مدد دیتی رہی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اسوقت امریکہ نے عراقی کردستان میں پروازوں پر پابندی لگا رکھی تھی اور عراقی تیل کی آمدنی کا تیس فیصد حصہ ’تیل کے بدلے غذا‘ پروگرام کے تحت اس خطے کی حکومت کو اقوام متحدہ کے ذریعہ منتقل کیا جاتا تھا۔ اب بھی عراق کی مرکزی حکومت کے متوازی شمالی کردستان حکومت قائم کرانے میں امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔دوسری طرف امریکہ اسرائیل کو بھی بھرپور امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں امریکہ کے ذریعہ ترکی حکومت سے کی جانے والی درخواست کا فی دلچسپ ہے۔ یعنی وہ ایک طرف عراقی کردستان کو مدد جاری رکھے ہوے ہے اور دوسری طرف اب انہیں عناصر کے خلاف ترکی کی کارروائی میں تعاون کی بات کر رہا ہے۔
امریکہ کے ذریعہ عراق سے دسمبر 2011تک مکمل فوجی انخلاءکے اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لبنان میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اسے امریکہ کی تاریخی شکست اور عراق کی حقیقی جیت بتایا ہے ۔ 24اکتوبر کو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ عراق کی اس کامیابی کے پیچھے مزاحمتی گروپوںکی سرگرمیاں ہیں ۔ ان کے مطابق اگر امریکی افواج عراق میں خود کو محفوظ سمجھتیں تو وہ انخلا کے لئے کبھی تیارنہ ہوتیں۔
واضح رہے کہ عراق میں امریکہ کی افواج کی موجودگی کی توسیع کے خلاف سب سے زور دار انداز میں آواز اٹھانے والے صدر تحریک کے رہنما اور عالم دین مقتدیٰ صدر رہے ہیں۔ انہوں نے آخری بار 19اکتوبر کو عراق کے مقدس شہر نجف میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی افواج کے طے شدہ پروگرام کے تحت مکمل انخلا ءکا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاتھا کہ 31دسمبر 2011کے بعد فوجی تربیت کے بہانے بھی عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کو ’ منظم قبضہ‘ کے طور پر دیکھیں گے ۔ انہوں نے 2003سے اب تک امریکی فوجیوں کے ذریعہ لاکھوں عراقی بے گناہ شہریوں کا قتل کا معاوضہ ملنے اور اور امریکی افواج کے مکمل انخلاءسے پہلے امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا تھا۔
عراق سے امریکی انخلا کے فیصلے کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامن مہمان پرست نے کہا کہ خطے میں بیداری اور امریکہ مخالف نفرت میں اضافہ کے پیش نظر امریکی افواج کو نہ صرف عراق بلکہ خطے کے تمام ممالک سے انخلا کرنا چاہئے۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن کو انٹر ویو کے دوران کہا کہ امریکہ نے عراق سے انخلا کا فیصلہ عراقی عوام‘ حکومت اور مذہبی رہنما و¿ں کی مخالفت اور مزاحمت کے پیش نظر کیاہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ عراق سے کبھی واپس جانے کا فیصلہ نہ کرتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کے مختلف خطوں میں اشتعال پھیلاکر اپنی موجودگی کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس نے عراق اور افغانستان پر دہشت گردی مخالف جنگ کے بہانے جنگیں شروع کیں اور گزشتہ تقریباً 10برس سے ان ملکوں میں موجود ہے۔
امریکہ کو عراق میں ہرطرح سے ناکامی ملی ہے۔ عراقی حکومت نے اب سے بدتر حالات میں بھی امریکہ کے دباو¿ کو قبول نہیں کیا۔امریکی افواج کے عراق میں رہتے ہوئے بھی اسے عراق کے تیل پر قبضہ کرنے اور وہاں مستقل فوجی مراکز قائم کرنے کی اجازت نہ ملنا بین الاقوامی سیا ست میں غیر معمولی واقعہ ہے۔ 1991میں کویت سے عراقی قبضہ ختم کرانے کے بدلے میں جس طرح کویت حکومت نے اپنے تیل کے ذخائر امریکی کمپنیوں کو دے دئے تھے عراق سے بھی امریکہ یہی توقع رکھے ہوئے تھا۔ لیکن عراق نے تیل کے تمام سودے بین لاقوامی ٹینڈر کے ذریعہ دئے اور امریکہ کو کوئی ترجیح نہیں ملی۔
2اکتوبر کو عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا تھا کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکی افواج کو سال کے آخر تک انخلا مکمل کرنا ہے۔ اس سے پہلے30اگست کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے واضح طور پر ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق میں کوئی مستقل امریکی فوجی مرکز قائم نہیں ہوگا اور اس سال کے آخر تک تمام امریکی افواج کو واپس جانا ہوگا۔ نائب صدر طارق الھاشمی نے بھی کہا تھا کہ امریکی افواج کی ملک میں موجودگی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ خودمسئلہ ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد ملک میں حالات بہتر ہوں گے۔     میں نے عراق کو صدام حسین کے زمانے میں‘ جنگ کے دوران اور بعد میں بھی مختلف مواقع پر نزدیک سے مشاہدہ کیا ہے ۔ عراق میں 70فیصد سے زیادہ شیعہ آبادی ہے ۔ سنی حضرات ، کرد او رعیسائی بھی نجف کے علما خاص طور سے آیت اللہ سیستانی کی غیر معمولی عزت کرتے ہیں۔ آئین ساز کونسل کے انتخابات سے لے کراب تک ہوئے تمام انتخابات میں عوام کی کثر ت سے شرکت کے لئے آیت اللہ سیستانی نے اپیل جاری کی ہیں۔
نوری المالکی کو گزشتہ سال امریکہ نے وزیر اعظم نہ بننے دینے کی ناکام کوشش اسی لئے کی تھیںکہ امریکی انخلا کے طے شدہ پروگرام کے موقع پر اس کی پسندیدہ حکومت ہونی چاہئے لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ وزیر اعظم نوری المالکی کو ملک بھرکے مختلف طبقات کی حمایت کی وجہ سے پھر سے منتخب کیا گیا ہے ۔وہ مسلسل مذہبی رہنما آیت اللہ سید علی سیستانی کے رابطے میں ہیں۔
میں نے نجف میں آیت اللہ سیستانی کی خدمت میں بھی حاضر ی دی ہے۔ ان کی بے حد سادہ زندگی ، سیکڑوں سال پرانا چھوٹا سا مکان او رنہایت پر خلوص ماحول میں ملاقات۔ اگر کسی قوم کا رہبر دنیاکے تمام آرام و آسائش سے دور ہو اور خدا پر مکمل بھروسہ کرے تو وہ قوم دنیا کی سپر پاور تو دور کی بات سپر موسٹ پاور سے بھی خوفزدہ نہیں ہو سکتی۔ جس طرح سے ایران میں اسلامی انقلاب کے رہنماو¿ں نے بے خوف ہوکر اپنی خارجہ پالیسی طے کی تقریباً اسی طرح عراق کی حکومت بھی اسی راستے پر مذہبی رہنماو¿ں کی سرپرستی میں چل رہی ہے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ خطے میں امریکہ نواز حکومتوں کے خاتمے اورکمزور ہونے کے موجودہ دور میں عراق سے فوجی انخلا ءسے امریکہ مزید کمزور ہوگا ۔ عوامی انقلاب کے نتیجہ میں تیونیشیا، مصر اور لیبیا جیسے ممالک میں عامر حکمرانوں کے خاتمے کے بعد وہاں کی عوام کو عراق سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور غیر ممالک کے دباو¿سے آزاد رہ کر حکومتیں قائم کرنی چاہئیں تاکہ وہ عوامی مفادات کی بنیاد پر کام کرسکیں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

All categories