محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں جاری انقلاب سے متعلق واقعات میں روزبروز تیزی آرہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کی کوشش ہے کہ خطے میں پھیلی جمہوریت نواز تحریکیںکس طرح سے ختم ہوجائیں یا ان کا رخ ان کی پسند کے مطابق ہوجائے۔مصر میں فروری 2011 میں حسنی مبارک حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں فوج کی سربراہی میں قائم ہوئی عبوری حکومت کے فیصلوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی اثر کودیکھتے ہوئے وہاںعوام نے ایک بارپھر قاہرہ کے مرکزی تحریر اسکوائر پر احتجاجی قبضہ کیا ہوا ہے اورگزشتہ ایک ہفتہ میں 40سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے مصر میں احتجاجی عوام کے خلاف فوجی کارروائی پر سرکاری طور پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے اور ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا ہے کہ اعلیٰ فوجی کونسل کی حکومت، انسانی حقوق کے معاملے میںحسنی مبارک حکومت سے بھی بدتر ہے ۔
مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی عوام کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ اور اس کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ ہونے لگا تھا ۔ مصر سے اسرائیل کو گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن پربھی کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ البتہ دوسری طرف عوام کے اسرائیل مخالف جذبات سامنے آنے سے امریکہ اوراسرائیل کی تشویش بڑھ گئی ۔
مصر کی موجودہ عبوری حکومت پر اسرائیل اور امریکہ کے جاری اثر کے چند ثبوت سامنے آئے ہیں۔ ابھی تقریباً ایک ماہ قبل ان کے اشاروں پر مصر کی حکومت کی مفاہمت کی بنیاد پر ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آ سکا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت ایک اسرائیلی فوجی کے بدلے ایک ہزار 27فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد مصر اور اسرائیل نے بھی باہمی طور پر کچھ قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ان واقعات سے ظاہرہے کہ دونوں ممالک کے ذمہ داران کے مصر کی عبوری حکومت سے غیر معمولی تعلقات قائم ہیں۔
حال ہی میں امریکہ کی انڈیا ناریاست سے شائع ہونے والی میگزین ”کلچر وارس“ کے ایڈیٹر ڈاکٹر مائکل جونس نے ایک ٹی وی انٹر ویو کے دوران کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ مصر میں فوجی حکومت کے ذریعہ پرامن احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کو اب بھی امریکہ کی جانب سے 130کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد جاری ہے ۔ اس رقم سے وہاں کے فوجی جنرلوں کو خریدا جا سکتا ہے تاکہ انقلاب سے پہلے جیسے حالات برقرار رکھے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس قسم کی سرگرمیاں بہت کم مدت کے لئے جاری رکھ سکتا ہے ۔ آخر کار امریکہ کو مصر میں عوامی حکومت کے قیام کو ہی حمایت دینی ہوگی۔
مذکورہ امریکی صحافی نے کہا ہے کہ آخر کار مصر میںعوامی حکومت کے قیام کے بعد ہی یہ طے ہوپائے گا کہ اس کے امریکہ سے تعلقات کی بنیاد کیا ہوگی ؟ کیا امریکہ سے ملنے والی مالی امداد کو اہمیت ملے گی یا عوام کے جذبات کی بنیاد پر حکومت فیصلے لے گی؟ مائیکل جونس نے کہا کہ جس طرح حسنی مبارک حکومت کو عوام کے احتجاج کی وجہ سے جانا پڑا تھا اسی طرح سے موجودہ فوجی حکومت کو بھی جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جذبات کو کسی بھی ہتھیار سے قابو نہیںکیاجا سکتا ۔ امریکی صحافی کاکہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں انقلاب لانا آسان ہے لیکن اس کے بعد داخلی جنگ سے بچنا بہت مشکل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ان ممالک میں عوام کے ذریعہ منتخب حکومتوں کا قیام نہیں ہوتا تب تک داخلی حالات کوقابو کرنا مشکل ہے ۔کسی بھی انقلاب کے بعد عوام کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔
شمال مغربی افریقہ کے ملک مراقش میں بھی امریکہ ‘ شاہ محمد ششم کی حکومت کی بقا کی کوشش کررہا ہے ۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت موجودہ شاہ محمد ششم ہی حکومت کا سربراہ رہے گا اور وہ ہی فوج کے سربراہ اور مذہبی رہنما کے طور پر باقی رہے گا ۔
ادھر یمن میں بھی انقلاب کے مقصد کوختم کرتے ہوئے امریکہ‘ اسرائیل اورسعودی عرب کسی بھی طرح سے علی عبداللہ صالح کی حکومت کی انقلابی طریقہ سے تبدیلی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ سعودی عرب کی مصحالحت کی بنیاد پر علی عبداللہ صالح ایک معاہدہ کے تحت حکومت کی ذمہ داری اپنے نائب صدر عبدالرابوہ منصور ہادی کو سونپنے کو تیار ہوگئے ہیں۔اس معاہدہ کے مطابق علی عبد اللہ صالح کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں شاہ عبداللہ کی موجودگی میںدستخط کئے گئے معاہدہ کے فوراً بعد یمن کی راجدھانی صنعا ، تائز اور بیضہ اور کئی دیگرشہروں میں عوام احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ صنعا میں حکومت کی فوج نے عوام پر گولی بھی چلائی۔
یمن کا حالیہ معاہدہ اگرعوام کی مرضی اور مطالبات کے مطابق ہوتا تو وہاں اس کی شدید مخالفت نہ ہوتی۔ بہرحال اسرائیل ، امریکہ ، سعودی عرب اور ان کے دیگر اتحادی ممالک نے یمن میں واقعات کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے۔
ادھر بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہیں، سعودی افواج کی حمایت یافتہ بحرینی حکومت نے 24نومبر کو ایک بار پھر راجدھانی مناما کے جنوب میں نویدرات اورابوصائبہ میں احتجاجیوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیاہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں بحرین کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجوںکے دوران طاقت کا استعمال کیا ہے ۔ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ دنوں 500صفحات پر مبنی رپورٹ شاہ حماد کے محل میں پیش کی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بحرین حکومت نے ہی یہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد شاہ حماد الخلیفہ نے کہا ہے کہ وہ ملک میں سبھی شہر یوںکو مطمئن کے لئے سیاسی اصلاحات نافذ کریںگے۔ یعنی اس رپورٹ پر رد عمل کے بہانے وہ عوام کو ایک بار پھر فریب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بحرین میں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ موجود ہے اور وہ خلیجی تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کویت ، اومان ، قطر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہے جو امریکہ سے ہر سال بڑی مقدار میں ہتھیار خریدتے ہیں۔
ایسے وقت میں جبکہ یمن اور بحرین میں عوامی انقلابات کو دبانے میں سعودی عرب براہ راست ملوث ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے مشرق خطے کے شہر قطیف اور عوامیہ میں گزشتہ بدھ کے روز ہزاروں افراد نے حکومت مخالف احتجاج میںحصہ لیا ۔ ایک اطلاع کے مطابق حکومت مخالفین نے ایک فوجی مسلح گاڑی پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اس کے ایک روز پہلے ہی فوج نے احتجاجیوں پر گولی چلائی تھی جس کے نتیجہ میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ادھر حا ل ہی میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے موجودہ اور سابقہ افسران نے اعتراف کیا ہے کہ ایران اور لبنان میں اس کا خفیہ نیٹ ورک کمزور ہوا ہے۔ رائٹر خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے کئی سی آئی اے ایجنٹوں کی نشاندہی کر کے گرفتار کیا ہے ۔ لبنان میں بھی حزب اللہ نے اپنے ہی کارکنوں میں سے دو ایسے افراد کی شناخت کی ہے جو سی آئی اے کے لئے کام کر رہے تھے۔ اس قسم کے واقعات سے بھی امریکہ خطے میں کمزور پڑا ہے۔
موجود ہ حالات میں مصر ، مراقش، یمن ، بحرین اور سعودی عرب میں ہونے والے واقعات سے یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک عوامی انقلابات کو اپنے حق میں موڑنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں ۔ دوسری طرف شام میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح سے وہاں حزب اللہ ، حماس اور ایران کی حامی بشار الاسد حکومت برطرف ہوجائے ۔
یعنی امریکہ اپنے ”قومی مفادات“ کی خاطر کچھ ممالک میں عوامی انقلاب کو دبا نے میں حکومتوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ شام میں کسی بھی طرح سے عوامی انقلاب برپا کرکے وہاں کی حکومت تبدیل کرانا چاہتا ہے۔
کچھ مواقع پر حکومتیں اپنی خواہشات کا اظہار براہ راست نہیں کیا کرتیں بلکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنے میڈیا کا سہارا لیتی ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کے سی این این، بی بی سی اور العربیہ ٹیلی ویژن چینلوں کو دیکھ کر ان حکومتوں کی خواہشات کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
خطے میں رونما ہونے والے واقعات سے یہ ظاہر ہے کہ مغربی طاقتیں اسرائیل کے تحفظ اور خطے کے قدرتی وسائل کے استحصال کو یقینی بنانے کے لئے عوامی اور جمہوری حکومتوں کے قیام کے خلاف ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انقلاب کے آئندہ مراحل کیسے طے ہوتے ہیں ۔
جس طرح سے تیونیشیا، مصر اور لیبیا میں عوامی رجحان سے مجبور ہو کر امریکہ کو اب سے پہلے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنا پڑی تھی ممکن ہے کہ اسے اپنے ”قومی مفادات“ کی پیش نظر بحرین، یمن اور سعودی عرب سے متعلق بھی اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)










