You are here: Home

عراق سے امریکی انخلاءتاریخ ساز واقعہ

برقیہ چھاپیے

محمداحمد کاظمی
مشرق وسطیٰ‘ شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں دوسیاسی نظریات کے درمیان جنگ جاری ہے ۔ ایک طرف اسرائیل اورامریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کو بچانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہوکر خطے میں حریت پسند تحریکیں جاری ہیں۔ان ممالک کی عوام کو یقین ہو چکا ہے کہ اگر ایران گزشتہ 32برسوں سے ’ لا شرقیہ، لا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ‘ کے اصول پر چلتے ہوئے نہ صرف غیرمعمولی ترقی حاصل کر سکتا ہے بلکہ آزاد اور خود مختار پالیسی پر بھی گامزن رہ سکتا ہے تو ان کے ممالک بھی ضرور ایسا کر سکتے ہیں۔
خطے میں آئے حریت پسند انقلاب کے ساتھ ساتھ عراق میں بھی ایک خاموش لیکن بڑا انقلاب رونما ہورہا ہے ۔ کیا تاریخ میں عراق کے علاوہ کسی بھی ملک میں قابض ہونے کے بعد امریکی افواج نے طے شدہ پروگرام کے تحت انخلاءکیا ہے؟ دنیا کی تاریخ میں عراق ایسی پہلی مثال ہوگا جہاں سے قابض افواج کو وہاں کے رہنماو¿ں کے سیاسی تدبر اور سوجھ بوجھ کی وجہ سے انخلاءپرمجبور کیا گیا ہے۔
7دسمبر کو ایک امریکی خبر رساں ادارہ کے ذریعہ جاری رپورٹ کے مطابق امریکہ کے اکثر فوجی عراق چھوڑ کر امریکہ جانے سے پہلے کویت پہنچ چکے ہیں۔ باقی رہے 4000امریکی فوجی بھی آئندہ چند روز میں عراق چھوڑ دیںگے۔ صدر اوبامہ کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق 25دسمبر کو حضرت عیسیٰ مسیح کی یوم پیدائش کی چھٹیوں تک سبھی امریکی فوجی عراق کی سرزمین کو خیرباد کہہ دیں گے۔
میں نے 2003میں جنگ کے دوران اور اس کے بعد بھی عراق کے متعدد سفر کئے ہیں ۔ میرا شروع سے ہی یہ تجزیہ رہا ہے کہ عراق کے آئندہ سیاسی منظرنامہ میں کسی بھی حالت میں ملک کی آبادی کی 70فیصدشیعہ اکثریت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی سیاست میں عراق کے مذہبی شہر نجف میں مقیم آیت اللہ سیستانی اور دیگر علما ءکی غیر معمولی اہمیت رہے گی۔ ملک کی اکثریت آیت اللہ سیستانی کی مقلدہے اوروہاں کے سماج میںان کا احترام کرنامذہبی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے بغداد میں قائم ہونے والی کوئی بھی حکومت مذہبی رہنماو¿ں کی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں رہ سکتی ۔ مذہب اور سیاست کے اس تال میل کو مغربی طاقتیں محض یہ کہہ کر کمزور نہیں کر سکتیں کہ مذہب اور سیاست الگ الگ ہیں ۔ عراق میں یہ مغربی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
میرا یہ تجزیہ طویل اور گہرے مشاہدات کا نتیجہ ہے ۔میں نے عراق میں بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنماوں سے تفصیلی ملاقاتیں کرکے ملک کی نبض سمجھنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ خاص طور سے ہند نژاد آیت اللہ شیخ بشیر نجفی کے ساتھ نجف میں کئی ملاقاتوں کے دوران کافی اہم نکات کو سمجھا ہے ۔ جس وقت صدام حکومت کے خاتمے کے بعد انتخابات سے پہلے آئین ساز کمیٹی کا انتخاب ہورہا تھااس وقت آیت اللہ سیستانی کی سرپرستی والی جماعتوں کی جانب سے جن افرا د کو کمیٹی میں منتخب کرانا تھا ان کے نام آخر ی لمحے تک کسی کومعلوم نہیں تھے تاکہ امریکی خفیہ ایجنٹ ان تک نہ پہنچ سکیں۔ پہلے انتخابات سے لے کر آج تک آیت اللہ سیستانی نے عوام کو انتخابات میں حق رائے دہی کے استعمال کرنے کی اپیلیں کی ہیں۔ اس اپیل کو عوام نے ہر موقع پر تقریباً فتویٰ جیسی اہمیت دی ہے۔
میں نے عراق میں اہلسنت اور عیسائی لوگوں کو بھی یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ شیعہ حضرات آیت اللہ سیستانی کی سبھی امور میں تقلید کرتے ہیں جبکہ ہم بھی سیاسی امور میں انہیں کے مقلدہیں ۔
ایک بار مجھے آیت اللہ سیستانی کے گھر کچھ ہندوستانی زائرین کے گروپ کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ ایک چھوٹا‘ پرانا اور سادہ سا مکان جس میں کوئی فرنیچر موجود نہیں ہے اسی میں آیت اللہ سستانی رہتے ہیں اور اسی مکان میں مہمانوں سے ملتے ہیں۔ ایک کمرہ میںمہمانوں کو چائے پلائی گئی اور دوسرے کمرہ میں زمین پر ہی بیٹھ کر وہ مہمانوں سے ملے ۔ اتفاق سے جس روز نجف میں ملاقات ہوئی وہ 15اگست (ہندوستان کی یوم آزادی) کا موقع تھا ۔ انہوں نے ہندوستانی زائرین اورملک کے باشندوں کو اس موقع پر مبارکباد پیش کی اور ہندوستانی سماج میں مذہبی رواداری کی ستائش کی ۔
2003سے اب تک نجف کے علماءکا عراقی حکومت کے فیصلوں پر واضح اثر نظرآتا ہے ۔ ملک میں بڑی تعداد میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود عراقی پارلیمنٹ نے نہ تو امریکہ کو تیل کے ذخائر دینے کی اجازت دی اورنہ ہی امریکہ کو ملک میں مستقل فوجی مراکز قائم کرنے دیے۔ تیل کے معاملے میں عراق نے بین الاقوامی سطح پر کھلے طور پر ٹنڈر طلب کئے تھے ۔
چند ماہ قبل تک امریکہ کی کوشش تھی کہ دسمبر 2011کے بعد بھی کسی طرح سے کم از کم 10ہزار امریکی فوجیوں کو عراق میں رہنے کی اجازت مل جائے۔ عراقی حکام نے امریکہ کو اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد بھی جب امریکہ اس پر اسرار کرتا رہا تو عراقی حکومت نے کہا کہ چند ہزار امریکی فوجی تربیت دینے کے لئے باقی رہ سکتے ہیں لیکن شرط یہ رہے گی کہ امریکی فوجیوں کو عراق فوجی مراکز میں جا کر تربیت دینی ہوگی۔ انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام کے سفر کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر امریکی فوجی سے عراق میں کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو اس کے خلاف عراقی قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ یعنی امریکی فوج کو کسی قسم کے خصوصی اختیارات نہیں ہوں گے اور نہ ہی انہیں کوئی استحقاق دیا جائے گا۔ اس پر امریکی حکومت راضی نہیں ہوئی اور اب 2008میں ہوئے معاہدہ کے تحت دسمبر کے آخر تک عراق سے تمام امریکی افواج کو انخلاءمکمل کرنا ہے ۔ حال ہی میں 30نومبر کو امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن غیر اعلان شدہ عراق کے دورہ پر آئے تھے ۔ اس موقع پر راجدھانی بغداد اور جنوبی عراق کے نجف او ربصرہ شہروں میں جو بائڈن کے دورہ کے خلاف بڑے احتجاج ہوئے۔احتجاجیوں نے ’ بائڈن عراق سے باہر جاو¿‘ اور ’ امریکہ کو نہیں ‘ کے نعرہ لگائے ۔ اس موقع پر عراقیوں کو شک تھا کہ امریکہ کے نائب صدر آخری بار عراقی حکمرانوں کو یہ سمجھا نے کے لئے آئے ہیں کہ وہ کچھ امریکی فوجیوں کو عراق میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ بغداد کے شیعہ اکثریتی صدر شہر میں احتجاجیوں کا الزام تھا کہ امریکی نائب صدر عراقی سیاسی جماعتوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے لئے آئے ہیں ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امریکہ جلد انخلاءمکمل کرے اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت بند کرے۔ ان امریکہ مخالف احتجاجوں میں اراکین پارلیمنٹ، علما ءاور مقامی انتظامیہ کے ذمہ داران نے بھی حصہ لیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی امریکی نائب صدر جوبائیڈن عراق میں آئے ہیں تبھی عراق پر کچھ نہ کچھ مصیبت آئی ہے ۔
حال ہی میں بغداد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے نزدیک ایک بم حملے میں 2افراد ہلاک اور ایک رکن پارلیمنٹ سمیت 7افراد زخمی ہوئے تھے ۔ 28نومبر کو ہوئے اس حملے کے بعد ایک رکن پارلیمنٹ عطا الدوری نے الزام لگایا ہے کہ اس حملے میںامریکی فوجی ملوث تھے ۔ انکے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ امریکہ کے انخلاءکے بعد عراقی پولیس اورفوج ملک میں امن برقرار نہیں رکھ سکتی۔
لندن میں مقیم مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر زید العیسیٰ نے بھی ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو کے دوران کہا ہے کہ جب بھی امریکی افواج کے عراق سے انخلاءکی بات ہوتی ہے تبھی عراق میں بم دھماکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق امریکہ کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے القاعدہ اور سابق بعث پارٹی کے اراکین ان دھماکوں میں ملوث ہوتے ہیں۔
دریں اثنا عراق اور افغانستان میں حال ہی میں ہوئے خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد قبائلی اور مذہبی کشیدگی پیدا کرنا اور خطے کے ممالک میں عدم استحکام پھیلانا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر عوام سے صبر وتحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ کچھ غیر ممالک امن اوراستحکام کو نقصان پہنچا نے کے لئے مسلکی اور قبائلی کشیدگی پھیلانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یوم عاشورہ کے موقع پر ہوئے خودکش دھماکوں میںافغانستان میں تقریباً 70افراد اور عراق میں 33افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس سے پہلے 15اگست 2011کو بھی 17عراقی شہروں میں ہوئے خود کش حملوں میں 60افراد ہلاک ہوئے تھے۔
موجودہ حالات اور اس کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے اب یہ طے ہے کہ دسمبر2011کے آخر تک تمام ا مریکی فوجی عراق سے انخلاءمکمل کر لیں گے۔ البتہ بغداد کے گرین زون میں واقع دنیا میں سب سے بڑی امریکی سفارتخانہ بہر حال باقی رہے گا۔ ممکن ہے کچھ غیر ملکی سیکورٹی کمپنیوں کے بہانے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ ا بھی عراق میں سرگرم رہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عراقی علمائ‘ حکومت اور عوام غیر ملکی سازشوں سے کس حدتک بیدار رہتے ہوئے انہیں ناکام کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ عراق کو غیر ملکی سازشوں سے بچانے کے لئے غیر معمولی بیدار رہنا ہوگا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سفارتخانوں کے ذریعہ کی جانے والی غیر ملکی شرارتیں بہت گہری ہوتی ہیں۔

(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے پر رابطہ کر سکتے ہیں)

 

All categories