You are here: Home

ہند و ایران عالمی سیاست کے مظبوط ستون

برقیہ چھاپیے

محمداحمد کاظمی
بین الاقوامی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کے نتیجہ میں کچھ ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی کے باعث اکثر ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی پرنظر ثانی کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ نئے حالات میں ترکی نے فرانس پرپابندیاں عائد کرنے کی بات کہی ہے جبکہ پاکستان اپنے امریکہ سے رشتوں پراز سر نو غور کررہاہے ۔عراق نے امریکہ کی افواج کو ملک چھوڑنے پرمجبور کر دیا اور ایرا ن نے امریکہ کے جدیدترین بغیر پائلٹ والے جاسوسی طیارہ ڈرون کو اپنی سرزمین پراتارلیاہے۔
ایشیا میں ایران اور ہندوستان دو اہم ممالک ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہزاروں برس سے تعلقات رہے ہیں اور یہاں کی عوام تہذیبی اور ثقافتی طور سے کافی نزدیک ہیں ۔ بین الاقوامی امو ر اورخطے کے اہم مسائل سے متعلق دونوں ملکوں کی حکومتیں کافی حد تک باہمی تبادلہ خیال کرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایران کے سابق وزیر داخلہ اور وہاں کے مذہبی رہنما رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے ہندوستان کا تقریباً ایک ہفتہ طویل دورہ کیا ۔ اس سفر کے دوران علی اکبر ولایتی نے کئی جلسوں میں شرکت کے علاوہ نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری اور وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
علی اکبر ولایتی کے دورہ کی تفصیل بتانے سے پہلے قارئین کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ایران کے نظام میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای مذہبی رہنما کے ساتھ ولی فقیہہ کی حیثیت سے حکومت کے سرپرست بھی ہیں۔ حکومت ہر بڑے فیصلے میںآیت اللہ خامنہ ای کی رائے حاصل کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔ وہ اسلامی انقلاب کے بانی مرحوم رہنما آیت اللہ امام خمینی کے جانشین ہیں ۔ میری نظرمیںاسلامی انقلاب کی بقاءاور مضبوطی دینے کے پیش نظر مرحوم آیت اللہ خمینی نے انقلاب کے بعد ولی فقیہہ کے نظام کو قائم کیاتھا۔ شیعہ مسلک میں ولی فقیہہ مرجع تقلیدہوتا ہے۔ دنیا بھر میںمراجع تقلید ایک وقت میںایک سے زیادہ علما ہو سکتے ہیں ۔اس وقت دنیامیں سب سے زیادہ اہم مراجع تقلید میں سے عراق میں آیت اللہ سید علی سیستانی اور ایران میں آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای سر فہرست ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی کچھ مراجع تقلید ہیں لیکن دنیا کے اکثر شیعہ انہیں دو مراجع کے مقلد ہیں ۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بین الاقوامی امور میں مشاور ہیں ۔ وہ اسلامی انقلاب کے بعد 16برس تک ایران کے وزیر خارجہ کے عہدہ پر فائز رہے تھے۔
علی اکبر ولایتی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقد نہج البلاغہ کانفرنس میں شرکت کے لئے خاص طور پر تشریف لائے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نئی دہلی میں علماءاوردانشوروں سے ملاقات کی اور مسلمانوں کے مسائل سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کی ۔ سفر کے آخر میں ایرانی رہنما نے اخباری نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں کافی اہم نکات پر اظہار خیال کیا ۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میںہندوستانی پالیسی کو مثبت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے ایران کو بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرنے پر زور دیا ہے ۔ ایران اسی پالیسی پر عمل کررہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی اس سلسلہ میںپالیسی مثبت ہے۔
انہوںنے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی پرالزام لگایا ہے کہ وہ امریکہ کی بے بنیاد شکایات کی بنیاد پر ایران کے خلاف سرگرم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیایہ منطق پر مبنی ہے کہ ایک رکن ملک امریکہ ایران پر جوہری عدم پھیلاو¿ معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام لگائے؟ انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے جو غیر منطقی الزامات ایران کے خلاف لگائے جارہے ہیں ممکن ہے کہ مستقبل میں ہندوستان کو بھی ایسے الزامات کا سامناکرناپڑے ۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ایران بین الاقوامی معاہدہوںکی حدود میں ہی رہ کر جوہری توانائی پروگرام چلا رہا ہے
ایران کے رہبر معظم آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے امریکہ پرالزام لگایا کہ وہ لیبیا کی طرح شام میں بھی حالات پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ ایران کا کہنا ہے کہ شام میںامریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سیاسی خلفشار پیدا کرکے صدر بشا رالاسد کی حکومت کو برطرف کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خطے میں اپنے ناجائز عزائم حاصل کر سکے۔
واضح رہے کہ عرب ممالک میں شام واحدملک ہے جس نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے اکسانے پر اس وقت عراق کے صدر صدام کے ذریعہ شروع کی گئی 8سالہ جنگ کے دوران ایران کی حمایت کی تھی ۔ شام ہی واحد عرب ملک ہے جو لبنان کی تحریک حزب اللہ اور فلسطین کی تحریک حماس کی حمایت کرتا ہے ۔ اس قت امریکہ ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک شام میں بشارالاسد حکومت کو برطرف کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ وہ ایران کو تنہا کر سکیں ۔ دمشق میں امریکی سفیر نے بھی کھلے عام حکومت مخالفین کی حمایت کی ہے۔ شام کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادی ممالک ترکی ‘ سعودی عرب اور کچھ دیگر ممالک کے ذریعہ بشار الاسد کے مخالفین کی حمایت کر رہا ہے ۔ مغربی اور عرب میڈیا بھی شام کی موجودہ حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں مصروف ہے۔
ایران کے سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے دوران دیگرموضوعات کے علاوہ مسئلہ افغانستان کے حل سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔ اخباری نمائندوں سے ملاقات کے دوران علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران، پاکستان ، ہندوستان اور کچھ مرکزی ایشائی ممالک مل کر افغانستان کے مختلف گروپوں کے درمیان مفاہمت کرا سکتے ہیں تاکہ مسئلہ افغانستان حل ہو سکے ۔ انہوں نے کہاکہ افغان عوام کواپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ خودکرنا چاہئے اور علاقائی ممالک ان مراحل میں تعاون کر سکتے ہیں ۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین لاقوامی افواج کو جلد یاد یر میں افغانستان سے انخلاءکرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر امریکی افواج افغانستان میں طویل مدت تک رہتی ہیں توان کا انجام ویتنام جیسا ہوگا۔
میں نے گذشتہ تقریبا تیس برس کے دوران ایران اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کے نشیب و فراز کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان موجود اتحاد کو ایران مثبت نظریہ سے دیکھتا ہے ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ہندوستان میں مسلکی تشدد کے واقعات میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کے امام سید عبداللہ بخاری مرحوم کی ایرانی حکومت نے ملک کے سربراہ جیسی کئی بار میزبانی کی ہے۔
آج ہندوستان میں اسلامی انقلاب سے نہ صرف مسلمان بلکہ اکثریت متاثر ہے ۔و ہ امام خمینی کی جانب سے کی جانے والی اتحاد کی کوششوں ، شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ اور سوویت یونین کے سابق صدر گوربا چیف کو دی گئی اسلام کی دعوت کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے اکسانے پر صدام سے ایران کے خلاف جنگ نہ شروع کرائی جاتی اور سعودی عرب اور مصر کے علماءاور حکومتوں کی جانب سے بھی ایران کی جانب سے اتحاد کی دعوت کا مثبت جواب دیا جاتا تو آج دنیا میں مسلمان اتنے زلیل و خوار نہ ہوتے بلکہ مسلمانوں کی غیر معمولی اہمیت ہوتی۔
بین الاقوامی سطح پر تیزی سے بدلتے حالات میں جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک کا اقتصادی نظام غیر معمولی طور پرکمزور ہے ‘ ایران کے ولی فقیہہ آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا دورہ ہندوستان کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ افغانستان کے مسئلہ کے حل سے متعلق ہندوستان اور ایران کی جانب سے علاقائی کوششوں پر اتفاق رائے بھی کافی اہم ہے۔ ہندوستان کے جوہری توانائی پروگرام سے متعلق شہری اور فوجی مراکز کی نشاندہی اور کسی بھی جوہری حادثہ کی صورت میں مالی امداد کے موضوع پر اب تک ہندوستان اور امریکہ کے اختلافات سامنے آ چکے ہیں ۔ ایران کی جانب سے ہندوستان کو قبل از وقت متنبہ کیا جانا کافی اہم ہے۔     
امریکہ نے اب تک کئی بار یہ ثابت کیاہے کہ اس کا کوئی بھی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہے ۔ اسے محض خود غرضی کی بنیاد پر صرف اپنے ’قومی مفادات‘ کا تحفظ کرناہے چاہے اس کے لیے اسے کتنے بھی دوست اور دشمن بدلنے پڑیں۔اگربدلتے حالات میں ہندوستان اور ایران مل کر کام کریں تو ممکن ہے کہ ہمارے بین الاقوامی سطح پر وقار میں اضافہ ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان اور ایران خطے میں علاقائی طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہوں تاکہ باہمی اور بین الاقوامی امور میں تال میل کے ساتھ اہم کردار ادا کر سکیں ۔ ماہرین کو امیدہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے جلد ہونے والے ایران دور ہ سے حالات مزید بہتر ہوں گے۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

All categories