محمداحمد کاظمی
حال ہی میں نئی دہلی میں اسرائیل سفارتکار کی کار میں دھماکہ ہندستانی سیاست میں ایک نیا موڑ ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے جس کے بارے میں پاکستان کی آئی ایس آئی اور اس سے متعلق تنظیموں کے ملوث ہونے کی بات نہیں کہی جا رہی۔حملہ راجدھانی کے محفوظ ترین علاقہ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے چند سو میٹر کی دوری پر ہوا ہے جس سے ہمارے حفاظتی نظام کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہونے موقع کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس حملے کا الزام فوری طور پر ایران اور لبنان کی حیریت پسند تحریک حزب اللہ پرلگادیا ۔ البتہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ یہ حملہ تربیت یافتہ دہشت گرد کا کارنامہ ہے کسی بھی تنظیم یا ملک پر الزام نہیں لگا یا۔ ان کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور ابھی کوئی نتیجہ نہیں نالا جا سکتا ۔
حملے کے ایک ہفتہ بعد تک امریکہ نے بھی اس حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سفارتکار کی کار میں دھماکہ کے دوسرے روز ہی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے ہندوستانی خفیہ ایجنسی کے حکام کونئی دہلی میں میٹنگ کے دوران حملے میں ملوث مشتبہ افراد کی فہرست بھی سونپ دی ہے ۔ یعنی اسرائیلی وزیر اعظم کا فوری طور پر ایران اورحزب اللہ کے خلاف الزام لگانا اور موساد کے حکام کی جانب سے کچھ مشتبہ افرا د کی فہرست سونپنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں حملہ سے متعلق امکانات کی یقینی یا غیر یقینی طور پر پیشگی اطلاع تھی ۔
تازہ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اسرائیل کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ہندستان اور جارجیا میں اسررائیلی سفارتی مشن پر حملوں میں ان کے گروپ کا ہاتھ ہے۔
نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتکار کی کار پر ہوئے حملے کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامن مہمان پرست نے کہا ہے کہ اسرائیل اسے نفسیاتی جنگ کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ ایران کے نئی دہلی میں سفیر نے بھی اسرائیلی الزام کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی حکام کو اس کی تحقیق کرنا چاہئے۔ ایران کے وزیر دفاع احمد وحید ی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے دنیا میں بہت سے دشمن موجود ہیں اور ان واقعات میںکچھ مختلف گروپ ملوث ہو سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور مغربی ممالک نے ایران کے خلاف یکطرفہ طور پراقتصادی پابندیاں نافذ کی ہیں جس کے تحت ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ کسی بھی کاروبار اور ایران سے تیل خرید نے پر پابندی لگا ئی گئی ہے۔ یوروپی ممالک نے بھی امریکہ کہ کہنے پر ایران سے جولائی 2012سے تیل خریداری پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ ادھر ایران نے اس پابندی کا جولائی تک انتظار کیے بغیر فرانس اور برطانیہ کو اپنی طرف سے تیل فروخت بند کر دیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں ممکن ہے کہ ایران کچھ اور یورپی ممالک کو بھی تیل فروخت کرنا بند کر دے۔
امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک نے اقوام متحدہ میں بھی نئی پابندیوں کے لئے قرار داد پاس کرانے کی کوشش کی لیکن روس اور چین وغیرہ کی مخالفت کی وجہ سے قرار داد پاس نہیں ہو سکی ۔
اس اثنا میں ہندوستان کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا پابند ہے امریکہ یا کسی بھی ملک کے فیصلے کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے ۔ہندوستان کے وزیرمالیات پرنب مکھرجی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران جیسے اہم ملک سے تیل کی خریداری پر اچانک روک نہیں لگائی جا سکتی ۔امریکہ کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں پر یہ شرط بھی لگا ئی جا رہی ہے کہ وہ امریکہ یا ایران میں سے کاروبار کے لئے کسی ایک کا انتخاب کریں۔
ہندستان میں ایران کے سفیر مہدی نبی زادہ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دور ان یہ اعلان کیا تھا کہ ہندوستان اور ایران کے حکام نے تیل کی ادائیگی کا مسئلہ باہمی سطح پر حل کر لیاہے ۔ ایران سے خریدے گئے تیل کی رقم کا کچھ حصہ ہندوستانی کمپنیاں ہندوستانی بینکوں میں ہی ادا کردیں گی جسے ایرانی تاجر ہندوستانی اشیا خریدنے میں استعمال کر لیں گے۔ تیل کی ادائیگی کا باقی حصہ کچھ بین الاقوامی بینکوں کے ذریعہ ایران کو ادا کیا جائے گا۔ نئے نظام کے تحت ہندوستا ن کی جانب سے ایران کو برآمدات میں اضافے کا بھی امکان ہے ۔ اسی لئے ہندوستانی تاجروں کا ایک وفد فروری میں ہی ایران جان رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میںاسرائیل کی سفارتکار کی کارمیںکئے گئے دھماکے میں ایران پر الزام لگا کر اسرائیل چاہتا ہے کہ ہندوستان ایران کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم نہ کرے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کو دہشت گردی حامی ملک کے طور پر ظاہرکرکے اسے بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیا جائے ۔ یعنی اس طرح ہند-ایران تعلقات کو پٹری سے اتار دیا جائے ۔
کسی بھی حادثہ کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری پہلے سے طے شدہ دشمن کے سر پرڈالنے کا سلسلہ کافی پرانا ہے ۔ 2001میں امریکہ میںہوئے دہشت گردانہ حملوں کے فوراً بعد جس طرح سے امریکہ نے القاعدہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ بھی ایسی ہی ایک مثال تھی ۔ امریکہ میں 2001کے حملوں کی تفتیش کے دوران کچھ بے باک صحافیوں نے اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا کہ 11ستمبر کو نیویارک کے ٹریڈ ٹاورس میںکام کرنے والے 3000یہودی افراد غائب تھے۔ لیکن یہودی ہاتھوں میں چلنے والے میڈیا نے اس خبر کو ایسا دبا یا کہ اس پر نہ کوئی بحث ہونے دی اور نہ ہی خبر کے اس پہلو کی مزید تفصیلات سامنے آنے دیں ۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی نظام میں موجود یہودی لابی نے ہی یہ حملے کرائے تھے تاکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ شدت اختیار کر جا سکے۔
اس کے بعد فروری 2005میں لبنان کے وزیر اعظم رفیق حریری کے قافلے پربیروت میں حملہ کر کے انہیں اور پچاس دیگر افراد کوہلاک کر دیا گیا ۔ اس کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری شام اور حزب اللہ پر ڈال دی گئی تھی۔ اس واقعہ کی تفتیش کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے ثالث مقرر کیا گیا ۔ اس دوران مغربی ممالک کی طرف سے حزب اللہ مخالف پروپیگنڈہ جاری رہا۔اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے سے محض چند روز پہلے ہی حزب اللہ کے جنرل سکریٹری حسن نصر اللہ نے فروری2010میں بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ویڈیو ثبوت پیشکر دیے۔ اس پریس کانفرنس کو المنار ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا ۔ اس کے بعد حزب اللہ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور اب حالت یہ ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کی حمایت کے بغیر حکومت تشکیل نہیں دی جا سکتی۔
ابھی نئی دہلی کے حملے اور جارجیا کی راجدھانی میں ناکام حملے کے بعد ایران پر الزامات لگا کر دباو¿ کی سیاست چل ہی رہی تھی کہ ایران نے 15فروری بدھ کے روز دو بڑے کام کردیئے ۔ ایک طرف تو اس نے 6یوروپی ممالک کو تیل کی فروخت بند کرنے کے ممکنہ فیصلے کا اعلان کر دیا اور دوسری طرف داخلی طور پر اعلی سطحی کی افزودہ یورینیم کی چھڑیں تہران ری ایکٹر میں استعمال کرنا شروع کر دیں۔
ایرانی حکومت نے 19 فروری کو تہران کے معروف میدان آزادی میں اسرائیل اور امریکہ کے6 خفیہ ڈرون طیاروں کی نمائش بھی لگا دی جنہیں ایرانی افواج نے مار گرایا ہے ۔ ان میں سے ایک امریکی ڈرون کو ایرانی سائنسدانوں نے فضا میں اس کے کمپیوٹر کو ہیک کر کے محفوظ اتار ا تھا ۔
اب ایران نے فرانس اور برطانیہ کو تیل فروخت بند کرنے کا با قائدہ اعلان کر دیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالی بحران میں مبتلا یوروپی ممالک امریکہ کے کہنے پر عمل کرنے پر شرمندگی میں بغلیں جھانکنے پر مجبور ہیں۔
ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے دباو¿ میں نہیں آئے گا اور یہ کہ اس کے سائنسداں اپنا جوہری پروگرام چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران کے موجودہ رخ کو دیکھتے ہوے اب امریکہ‘ اسرائیل اور برطانیہ کے ذمہ داران نے کہنا شروع کیا ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ کرنا بڑی غلطی ہوگا۔ میں تقریباً گزشتہ 30برسوں سے یہ دیکھ رہا ہوں کہ ایران کو دھمکیاں دے کر خوفزدہ کرنے کی مسلسل کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ جب وہ دباو¿ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو مذاکرات کی بات کرنے لگتے ہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ 1980سے 1988تک ایران نے نہ صرف عراق بلکہ اس کی حمایت کرنے والی دنیا کی اکثر طاقتوں سے کامیابی کے ساتھ سامنا کیا تھا۔ اس جنگ کے بعد ایران نے دشمن سے گھرے ہوے ہونے کے احساس کے ساتھ جو دفاعی ترقیات حاصل کی ہیں وہ اس خطے میں کسی بھی ملک نے حاصل نہیں کیں۔
ایران کے معاملات کے تجزیہ نگار کی حیثیت میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہاں اکثریت شیعہ آبادی ہونے کی وجہ سے ولی فیقہہ اور دیگر علماءکی جو حیثیت ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ہے۔شیعہ عقیدہ میں مرجع یعنی ولی فقیہہ کی تقلید کرنا لازمی ہے ۔وہ ولی فقیہہ کو امام مہدی کا نمائندہ تصور کرتے ہیں رہبر اعظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار کہا ہے کہ جوہری ہتھیار بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کا باعث ہیں اس لئے اس کا بنانا حرام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت محض پر امن مقاصد کے جوہری پروگرام پر عمل پیرا ہے۔
اسرائیل کے ذریعہ سفارتکار کی کارپرحملے میں ایران اور حزب اللہ کے ملوث ہونے کا الزام لگانے کے باوجودوزیرداخلہ پی چدمبر م اور وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے اس حملے میں کسی بھی شخص‘ تنظیم یا ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت نہ ملنے کی بات کہہ کر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ہندوستانی حکومت ایران کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کو اہمیت دیتی ہے اور وہ کسی بھی تیسرے ملک کی جانب سے بے بنیاد الزامات کی وجہ سے جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق 15فروری بدھ کے روز ساو¿تھ بلاک میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی ہے جس میں ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے پہلی مارچ 2012سے اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے لئے ہندوستان پر ممکنہ دباو¿ کی صورت میںلائحہ عمل طے کیا گیا ہے ۔ وزارت خارجہ میں امریکی معاملات کے ذمہ دار مشترکہ سکریٹری جاوید اشرف نے پالیسی سازوں کے ساتھ ملاقات کر کے امریکہ کے لئے جواب تیار کیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات جاری رکھے جائیں گے اور اس سلسلہ میں کسی تیسرے فریق کی مرضی نہیں چلے گی ۔ اس فیصلے کے بارے میں امریکہ میں ہندوستانی سفیر محترمہ نروپما راو¿ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ہندوستان کی جانب سے اسرائیلی سفارتکار کی کار میں دھماکے کے سلسلہ میںمحتاط رویہ اختیار کرنے اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں سے متعلق حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ابھی ہمارے حکام اپنے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں اور وہ غیر ملکی اثر میں نہیں ہیں۔ ممکن ہے ہمارے پالیسی سازوں نے یہ پہلے ہی محسوس کر لیا ہو کہ اگر امریکہ سے متاثر ہوکر انہوں نے بھی ایران کے خلاف پابندیاں نافذ کردیں تو ایسا نہ ہو کہ معاشی بحران کا ہم بھی شکار ہوجائیں۔ کچھ یوروپی ملکوں میں ایران کی جانب سے تیل کی فروخت بند کرنے کے فیصلے سے جو جھٹکا محسوس کیا گیا ہے اس کے نتائج چند روز میں ہی سامنے آجائیں گے۔ مجھے یقین ہے اب آنے والے کچھ دنوں میں ایران مخالف بیان بازی بھی کم ہوگی۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)




