You are here: Home

ایران-برطانیہ سفارتی جنگ

برقیہ چھاپیے

محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
ایران کی راجدھانی تہران میںطلبہ کے ذریعہ برطانیہ کے سفارتخانہ پر احتجاج کے دوران عمارت میں داخل ہوکر برطانوی پرچم کو نذر آتش کرنا اور شدید نعرہ بازی کرنا خطے کااہم واقعہ ہے ۔ اس واقعہ سے ایک رروز قبل ہی ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) نے ملک کے جوہری پروگرام کے خلاف برطانیہ کے ذریعہ نافذ کیگئی حالیہ پابندیوں کے رد عمل کے طور پر اس سے سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔طلبا کے احتجاج کے فوراً بعد برطانیہ نے لندن میں ایران کے سفارتخانہ کو بند کرکے ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ جرمنی، فرانس اور نیدر لینڈ نے بھی تہران سے اپنے سفیروں کو صلاح مشورہ کے لئے واپس بلایا ہے۔ دیگر مغربی ممالک نے بھی اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ اب تک کے ردّ عمل سے ظاہرہے کہ مغربی ممالک اس واقعہ کے بہانے ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں تیز کریں گے۔
امریکہ کے ایوان صدر وہائٹ ہاو¿س سے جاری بیان میں تہران میں برطانوی سفارتخانہ پرہوئے” حملے “ کی ’شدید ترین الفاظ‘ میں مذمت کی گئی ہے اور ایرانی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ملک میں دیگر سفارتخانوں پر اس قسم کے واقعات نہ ہونے دیں۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف برطانوی سفارتخانے پر حملہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی برادری پر حملہ ہے ۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ برطانوی سفارتخانہ پر حملہ پوری طرح سے ناقابل قبول جارحیت ہے۔
تہران میں ہوئے اس واقعہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 4نومبر1979 کو تہران میںامریکی سفارتخانہ پر طلبا کے حملے کی یاد تازہ کردی ہے۔ یہ ا سلامی انقلاب ہی تھا جس کی وجہ سے امریکہ نواز شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا ۔ امریکہ پر انقلابی رہنماو¿ں کا الزام تھا کہ شاہ کے ذریعہ ملک میں کئے گئے تمام مظالم کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ رہا ہے ۔ اس واقعہ میں طلباءنے امریکی سفارتخانہ پرقبضہ کرکے 52امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا جنہیں الجزائر معاہدہ کے تحت 20جنوری 1981کو رہا کیا گیا تھا ۔ امریکہ نے اپنے سفارتکاروں کوفوجی کارروائی کے ذریعہ بھی آزاد کرانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔24اپریل 1980کو ایگل کلا آپریشن کے دوران تبس کے ریگستان میں دو امریکی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا کر گر گئے تھے۔ اس حادثہ میں 8امریکی فوجی اور ایک ایرانی شہری ہلاک ہوا تھا۔ جس رو ز ایران نے الجزائرمعاہدہ کے تحت یرغمال امریکی سفارت کاروں کو رہا کیا تھا اسی روز امریکہ میں رونالڈ ریگن نے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
ادھر برطانیہ کے ذریعہ لندن میں ایرانی سفارتخانہ کو بند کرنے اور اپنے سفارتکاروں کو تہران سے واپس بلانے کے فیصلہ کا ایران کی 25یونیورسٹیوں کی طلبا یونینوں نے خیر مقدم کیا ہے ۔طلبا کی تنظیموں نے اس موقع پر جلد ہی ایک بڑا جشن منانے کا اعلان کیا ہے ۔ان یونیورسٹیوں کی طلباءیونینوںکے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں برطانوی سفارتخانہ پر ہوا احتجاج ایرانی قوم کی طویل مدتی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکرعلی لاریجانی نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جا نب سے اس واقعہ کی مذمت کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عجلت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ برطانوی سفارتخانہ پر طلباءکے احتجاج کے دوسرے ہی روز پارلیمنٹ اسپیکر نے مجلس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کی غلط پالیسیوںکے خلاف مشتعل طلباءنے برطانوی سفارتخانہ کے سامنے مظاہرہ کیاہے اوران میں سے کچھ طلباءسفارتخانہ میںداخل ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ طلباءکے غصہ کی وجہ برطانیہ کی گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ایران مخالف پالیسیاں رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب نے امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھ کاٹ دئے ہیں ۔ مجلس اسپیکر نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت برطانیہ اور امریکہ کے ایران مخالف جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1980میں لندن میں ایرانی سفارتخانہ پر انقلاب کے مخالفین کے ذریعہ کئے گئے حملے کے بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے کوئی خاص کارروائی نہیں کی تھی ۔ حتیٰ کہ برطانوی حکومت نے بھی اس واقعہ کی مذمت نہیں کی تھی۔ ایرانی سفارتخانہ پر ہوئے اس حملے میں دو افراد شہید ہوگئے تھے اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے ۔ علی لاریجانی نے بحالی امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی سفارتخانہ کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی ۔ البتہ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ اس واقعہ کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع پرستی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی مجلس نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنے کی تجویز پاس کی تھی ۔ مجلس کی جانب سے یہ تجویز صدرجمہوریہ محموداحمدی نژاد کو پیش کر دی گئی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں برطانیہ کے خلاف غم وغصہ پہلے سے ہی موجود تھا۔
میں نے گزشتہ چند برسوں میں ایران میں مختلف مواقع پر برطانیہ کے خلاف غصہ میںاضافہ محسوس کیا ہے ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 1989میںشیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی کے فتویٰ کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کافی حد تک متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت دونوں حکومتوں نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا ۔
ایران کے صدارتی انتخابات میںاحمدی نژاد کے کامیاب ہونے پربھی برطانوی اور دیگر مغربی میڈیا نے حسین موسوی اورمہدی کروبی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ احمدی نژاد ووٹوں کی گنتی میںخورد برد کے نتیجہ میں کامیاب ہوئے ہیں۔ امریکہ ، اسرائیل اور ان کے علاقائی اتحادی یہ جانتے ہیں کہ محموداحمدی نژاد کااسرائیل کے بارے میں نظریہ انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے اس نظریہ کے مطابق ہے کہ اگر مسلمانوں میں اتحاد ہوا ور سبھی مسلمان اسرائیل پر ایک ایک بالٹی بھی پانی ڈالیںتو اسرائیل غرق ہوجائے ۔ وہ امریکہ کو بھی سپر پاور نہیں مانتے اور ہرسال اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ان مبینہ طاقتوں کی دوغلی پالیسیوںکی حقیقت بیان کرتے ہیں ۔
تہران میں ہوے حالیہ واقعہ کے بعد امریکہ کی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا بیان کافی دلچسپ ہے ۔ جب بھی امریکہ یا ان کے اتحادی ملک پر کوئی سیاسی مشکل آتی ہے تووہ ایسے بین الاقوامی برادری کا مسئلہ بتاتے ہےں تاکہ وہ اپنے دشمن کے خلاف بین الاقوامی برادری کو استعمال کر سکیں۔ انہوں نے اسی مقصد کو نظر میںرکھتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میںبرطانوی سفارتخانہ پر حملہ حقیقت میں بین الاقوامی برادری پر حملہ ہے ۔ اب سے پہلے بھی افغانستان اور عراق پرجنگ تھوپنے سے پہلے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اسے بین الاقوامی برادری کا مسئلہ بتایا تھا۔
اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے واقعات کو نزدیک سے دیکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تہران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکی سفارتخانہ بند نہ ہوا ہوتا تو شاید ایران اور انقلاب اتنی ترقی حاصل نہ کر پاتا۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جھوٹ یہ ہے کہ تقریباً سبھی ممالک دوسرے ممالک میںاپنے سفارتخانوں میں کچھ افراد خفیہ محکمہ کے غیر اعلان شدہ طور پر رکھتے ہیں ۔ ظاہر ہے جب کسی ملک کی حکومت کی جڑیںہلانی ہوں تواس قسم کے افراد زیادہ تعداد میں متعین کئے جاتے ہیں ۔ دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں میں عملے کی غیر معمولی تعداد اسکی ’سوپر پاور‘ بننے کی خواہش کو پورا کرنے کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکہ کے علاقائی اتحادی سعودی عرب کی حمایت یافتہ شدت پسند تنظیموں نے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے مختلف سفارتخانوں پر کئی حملے کئے ہیں۔ افغنستان کے مزار شریف شہر میں طالبان کے حملے میں کئی ایرانی سفارتکار مارے گئے تھے ۔ لاہور پاکستان میں بھی ایرانی کلچرل کونسلر کی کم سن بیٹی کو بھی شدت پسند افراد نے قتل کیا تھا۔ ان مواقع پر امریکہ ، برطانیہ ، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے خاموشی اختیار کی ۔
بہرحال کسی بھی ملک کے سفارتی عملہ اور سفارتخانوں پرحملے ہونا غلط ہیں۔ تہران میں ہوا حالیہ واقعہ عوامی غصے کا مظہر تھا۔ وہاں کی عوام سمجھتی ہے کہ مغربی ممالک ان کی ترقی کے خلاف ہیں اسی وجہ سے وہ انکے پر امن جوہری پروگرام کی مخالفت کر رہے ہیں۔کیا اس واقعہ کے بعدمغربی ممالک دوسرے ممالک سے متعلق اپنے نظریات پر از سرنو غور کرینگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی ممالک کے واقعات کو برابری کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ اگر سبھی ممالک دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کریں اور دوسروں کی خود مختاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر مبنی پالیسی پر عمل کریں تو دنیا میں ایسے واقعات نہ دوہرائے جایئں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

All categories