محمد احمد کاظمی
ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام ایک بار پھر دنیا بھر میں زیربحث ہے۔ 15صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ایران پرایٹمی ہتھیار بنانے کے مقصد سے کچھ سرگرمیاں انجام دینے کا الزام ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003سے شروع کی گئی سرگرمیوں کے دوران اندرون ملک ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن بنائے ہیں اور ان کے کچھ حصوں کے تجربات کئے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں ممکن ہے اب جاری ہوں ۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائرکٹر جنرل یو کیا امانونے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کا پرامن ہونا ثابت کرنے میں ایجنسی کا تعاون کرے ۔
ایران نے ان الزامات کو سیاسی بے بنیاد اور سیاسی اغراض پر مبنی بتاےا ہے ۔ صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کو چاہئے کہ وہ ایران جیسے ملکوں کے پرامن جوہری پروگرام کے بجائے امریکہ میں ہزاروںفوجی مراکز میں موجود ایٹم بموں کے موضوع پر رپورٹ تیار کرے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ دوسرے ملکوں کے وسائل برباد کر کے انہیں غریبی کے غار میں دھکیل کر اپنے یہاں خوشحالی لانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم کو امریکی ہاتھ کاٹنے کے لئے ایٹم بم کی ضرور ت نہیں ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام پر جاری تنازعہ کے پس منظر کو سمجھے بغیرحالیہ رپورٹ کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس سال جنوری سے شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کے نتیجہ میں تیونیشیا ، مصر اور حال ہی میں لیبیا میں حکومتوں کے زوال کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو دھمکیاں دینا بند کر رکھی تھیں۔ ان ملکوں میں حالانکہ عوامی حکومتوں کے قیام میں ابھی کچھ مدت لگے گی البتہ وہاں کی عوام نے کئی مواقع پر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات اور ان پر انحصار کے حق میںنہیں ہیں۔ مصر اور اردن کے عوام اسرائیل کے ساتھ موجودہ امن معاہدہ ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ کررہے ہیں۔ ادھر بحرین اور یمن میںعوامی انقلاب کو ناکام کرنے میں سعودی عرب کی’خدمات‘ سے غالباً امریکہ مطمئن ہے ۔ شام میں حکومت مخالف عناصر کو غیر ملکی امداد پہنچا کر حالات روز بروز خراب کئے جا رہے ہیں۔
میں مشرق وسطیٰ، خلیج فارس کے ممالک اور امریکہ کی خارجہ پالیسی پرلمبے عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ خطے میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات نہ صر ف ا س خطے کے مستقبل پر بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے اقتصادی نظام پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کی خوشحالی کی بنیاد کافی حد تک عرب ممالک کے قدرتی وسائل کے استحصال پر منحصر ہے۔
ادھر امریکہ کے نیویارک شہر سے شروع ہوئی’وال اسٹریٹ پرقبضہ کرو‘ تحریک نہ صرف امریکہ کے مختلف شہروں بلکہ یوروپی ممالک اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی پھیل چکی ہے۔ دنیا بھر میں امریکہ کی سرپرستی میں چلنے والے سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت ہورہی ہے۔تحریک میں شامل عوام کا اعتراض ہے کہ 99فیصد آبادی کی قسمت کا فیصلہ ایک فیصد سرمایہ دار کرتے ہیں اورحکومتوں کے فیصلوں کو متاثر کر کے عام لوگوں کا خون چوستے ہیں ۔ سرمایہ دار کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ عام شہری محض مزدور اور کلرک ہی رہے اور ان کی صنعت اور تجارت کو مضبوط کرتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میںنئی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے اور انہیں محض کسی ایک کام کی تربیت دے کر مزدور یا کلرک بنا دیا جاتا ہے۔ اب یہ چلن ہمارے ملک میںبھی آرہا ہے ۔
ایران کی ایٹمی تنصیبات بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کی مسلسل نگرانی میں ہیں۔ ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرداعی نے درجنوں باریہ اعتراف کیاتھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پوری طرح سے پر امن مقاصد کے لئے ہے ۔ ایران نے بھی بارہا کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی ایجنسی کو مطمئن کر سکتا ہے اور اس پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایران کے مطابق حالیہ رپورٹ میں کوئی نیا الزام نہیں ہے اور ان تمام نکات پر ایران نے پہلے ہی وضاحت کردی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی اسرائیل نے ایران کو جنگ کی دھمکی دینا شروع کر دی تھی ۔ مغربی میڈیا میں یہ بھی کہا جانے لگا تھا کہ اگر ایران نے ایٹم بم بنانے کی مشکوک سرگرمیاں جاری رکھیں تو امریکہ اور اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی تجویز پر غور کر سکتے ہیں۔البتہ اسرائیل کے وزیردفاع یہو د براک نے کہا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ اوگدور لبرمین کاکہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے ایران کے مرکزی بینک اور اس کی تیل اور گیس کی صنعتوں کے خلاف معذور کرنے والی شدید پابندیاںلگانے کی ضرورت ہے ۔
امریکہ نے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ایران تازہ الزامات کا اطمینان بخش جواب دینے میں نا کام رہتا ہے تو وہ مختلف قسم کی یکطرفہ پابندیاں نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔اب سے پہلے بھی امریکہ نے ایران حکومت کی مختلف ایجنسیوں، اقتصادی تنظیموں‘جہازرانی کمپنیوں اور کچھ افراد پر پابندیاں نافذ کی ہوئی ہیں۔
امریکہ نے ایران کے خلاف حالیہ رپورٹ جاری کرنے کے لئے لمبے عرصے سے سفارتی کو ششیں جاری رکھی تھیں۔ ویکی لیکس کے انکشاف کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے صدر دفتر ویانا سے امریکی سفارتخانے نے اکتوبر 2009میں واشنگٹن میں واقع وز ارت خارجہ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایجنسی کے ڈائرکٹر جنرل یوکیا امانو کا امریکہ سے تال میل ہے۔ اس پیغام کے مطابق امانو نے کئی بار (امریکی) سفیر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ گروپ 77 ممالک کو کچھ رعایتیں دیں گے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی پروگرام کی تفتیش سے متعلق ایجنسی کے اعلیٰ عہدہ داروں کی تقرری سمیت تمام اہم فیصلے لینے سے پہلے امریکہ کے دربار میں حاضری دیتے ہیں ۔ واضح رہے کہ 8نومبر کو رپورٹ جاری کرنے سے پہلے بھی امانو نے امریکہ کا دورہ کیاہے۔ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف الزامات کا سلسلہ 2004 میںاس وقت شروع ہوا تھا جب ایک مشتبہ شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک لیپ ٹاپ فراہم کیا تھا جس میں مبینہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام کی خفیہ معلومات سے متعلق انگریزی کے سیکڑوں صفحات موجود تھے۔ ان مبینہ دستاویزات کے مطابق ایران شہاب تین میزائل کے ذریعہ استعمال کرنے کی غرض سے ایٹم بم بنانا چاہتا ہے ۔ بعد میں امریکہ کی انٹر پریس سروس اور نیویارک ٹائمس نے نیو امریکہ فاو¿نڈیشن کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ مذکورہ لیپ ٹاپ کے ذریعہ ملے تمام دستاویزات بے بنیاد او رغلط ہیں۔
2007میں ایران کے سابق نائب وزیر دفاع جنرل علی رضا اصغری کو ترکی میں یرغمال بنا لیا گیا تھا ۔ ایران کا کہنا ہے کہ انہیں استنبول سے سی آئی اے اور موساد یرغمال کرکے ترکی میں امریکی فوجی مرکز انکریک لے گئی تھیں۔ بعد میں 28دسمبر 2010کو اسرائیل کی خبر رساں ایجنسی وائی نیٹ نیوز نے خبر دی تھی کہ اسرائیل کی ایالن جیل میں ایک قیدی نے خودکشی کرلی ہے ۔ اس واقعہ کے بعد اسرائیل کی وزارت دفاع میں اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ وہ قیدی جنرل اصغری تھے اور ان کا قتل کیا گیا تھا۔ چند برس قبل اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے تہران میں بھی کچھ ایٹمی سائنسدانوں کا قتل کیا تھا۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس سلسلے میں کافی ثبوت موجود ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ رپورٹ کا مقصد ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قابو میں رکھنا ہے ۔ اب حال یہ ہے کہ جس ملک میں بھی جابر اور آمر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھتی ہے وہاں کی عوام ایران کو نمونہ کے طور پر دیکھتی ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران اسلامی انقلاب کے بعد تین دہائیوں سے بھی زیادہ مدت تک امریکہ کے انحصار کے بغیر ترقی حاصل کر سکتا ہے تو انکا ملک ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ حال میں ایران نے سفارتی سرگرمیوں کے ذریعہ مصر ، تیونیشیااور لیبیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان سبھی ممالک نے ایرانی حکام کا غیر معمولی خیر مقدم کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ مغربی ملکوں کی سرپرستی کے بغیر حاصل کی گئی ترقی کے تجربات ان ممالک کو دینے کے لئے تیار ہے ۔ ایران کے رہنما بار بار کہہ رہے ہیں کہ خطے کے انقلابی عوام کو دشمن کی سازشوں سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے ایسانہ ہوکہ ان کی تمام قربانیاں ضائع ہوجائیں ۔ اب سے پہلے عراق میں ایران کے بڑھتے سیاسی اثر پر بھی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے تشویش ظاہر کی ہے۔ لبنان میں ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر حزب اللہ کی مرضی کے بغیر اب حکومت کی تشکیل نا ممکن ہو چکی ہے۔
ایٹمی توانائی سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ موجودہ صورتحال میں ایران کوجنگ کی دھمکیاں دے کر خاموش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ ایران کے خلاف کشیدہ ماحول تیار کیا جارہا ہے ۔ ایران مخالف حالیہ رپورٹ کے بعدامریکہ اورفرانس نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ روس نے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ ممالک نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں بھی لگادیں تب بھی ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔ بوشہر پلانٹ میںبجلی کی پیداوار شروع ہو چکی ہے ۔ ایران نے یورینیم کی 20فیصد تک افزودگی کی اہلیت بھی حاصل کر لی ہے۔ ایران سے آئے رد عمل سے یہ ظاہر ہے کہ انہیں سخت حالات میں بھی ترقی حاصل کرنے کا ہنر اچھی طرح آتا ہے۔ دوسری طرف جنگ کی دھمکیاں دینے والے امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک روز بروز اقتصادی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ گذشتہ تین برسوں میںامریکہ میں ساڑھے تین سو بینک اور تجارتی ادارے بند ہونے کے بعد اب یوروپی ممالک شدید بحران میں مبتلا ہیں۔ یونان اور اٹلی میں بحران کی شدت سے حکومتیں حل چکی ہیں ۔ ان حالات میں ایران کے خلاف الزام تراشی کا امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھر میں سر مایہ دارانہ نظام کس تیزی سے متزلزل ہوتا ہے۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)










