ایم جے اکبر
وکی لیکس کے بانی جولین اسانجے کسی بھی طاقتور دوست کے بد ترین دشمن ہو جاتے ہیں تو وہ اعلیٰ کاز کے لیے ایسا کرتے ہیں۔جس دور میں انفارمیشن ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جارہی ہوا اس سے اس طرح کی بے لگام ذہانتیں بیحد متاثر ہوتی ہیں۔آپ میدان جنگ میں ہمیشہ اقتدار ہتھیاتو سکتے ہیں جیسا کہ ان لاتعداد جنگجوو¿وں کے کارناموں سے ظاہر ہے جن کے چاپلوسوں کی طرف سے لکھے تعریفی ترانوں کو ہم تاریخ کا نام دیتے ہیں لیکن اقتدار میں برقرار رہنا ایک بڑی ٹیڑھی کھیر ہے اور بڑا پیچیدہ فن ہے۔ اسانجے کا کہنا ہے کہ اسٹالین اگر آج زندہ ہوتا تو انٹرنیٹ سے محبت کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔کیونکہ کسی ڈکٹیٹر کے لیے وہ سب سے محفوظ تاریخی دستاویز کے لیے سب سے محفوظ ہو سکتا تھا ۔اطلاعات کو مسخ ہونے سے بچانے یا پوشیدہ رکھنے کے لیے بہت سلیقہ سے انہیں محفوظ رکھا پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سابق سوویت یونین میں سب سے بڑی لائبریری کے جی بی کی ہی تھی۔
جمہوریت کسی بادشاہ او ربچے کے درمیان ٹکراو¿ جیسی ہوتی ہے۔ بادشاہ کا ننگا پن ایک مرتبہ جگ ظاہر ہو جائے تو وہ بچ نہیںسکتا۔ ڈکٹیٹروں کی فطری موت یا خوشگوار انجام شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔ بچے کو اذیت گاہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ جہاں بادشاہ کے جاسوس اس کے دانت اکھاڑ دیتے ہیں اور اس کے جسمانی اعضا کو بجلی کے جھٹکے دیتے ہیں تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ حسنی مبارک یا معمر القذافی نہ صرف یونیفارم میں ہیں بلکہ سینے پر تمغے بھی سجائے ہیں۔ جس عرب بچے نے ایسی نوٹنکی کرنے والے حکمرانوں کو ننگا کیا اسے خوفناک قیمت چکانی پڑی۔ ایسا ہونا ناگزیر ہی تھا کہ عرب انقلاب کروٹ لیتے چاہے وہ بہار کی شکل میں ہوں یا خزاں کی شکل میں ۔ کئی نسلوں سے جمع ہوئے غم و غصے نے لیبیا کی سڑکوں پر خون کی قربانی لینی ہی تھی۔ اسانجے کے مخالفوں نے بھی اونچے آدرشوں یعنی جنگ کے دوران حکومت کی مشینری کی حفاظت کی آڑ لی۔ اسانجے اور ان کے حریفوں کے درمیان ٹکراو¿ کے اخلاق کا دونوں ہی فریقوں کے ورکروں کی نیک کرداری سے کوئی سرو کار نہیں ۔ حکومتیں انہی واقعات کی تشہیر کرتی ہیں جن سے ان کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور عام طور پر ہر ایسے کام کی چھپا جاتی ہیں جن سے ان کی ساکھ مجروح ہو۔ اسانجے نے جو کچھ کیا اس کے لئے ہمیں اس کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہاں پر میں اپنی چھوٹی سی خامی کا اعتراف کرنا چاہوںگا۔ میں نے اسانجے کی مرضی کے خلاف کینن گیٹ کیطرف سے شائع ان کی ’ ان آفیشیل سوانح حیات‘ کا جائز ہ نہیں لیا ہے۔ البتہ اس پر دوسروں کے نظریات نظر سے گذرے ہیں۔ لیکن جس طرح باورچی کے پکوان کا ایک لقمہ چکھنے یا اس کی خوشبو سے ہی اس کے ذائقے کا علم ہو جاتا ہے اسی طرح تبصرہ نگاروں نے چکھ کر مجھے جو بد ذائقہ دیا ہے اس کے مد نظر میں اس کتاب کو زیادہ قیمتی اور پڑھنے کے قابل تخلیق نہیں مانتا۔ تعریفوں کے پل اور اشتہار بازی نے اسانجے کا عکس ان کی اوقات سے بہت بڑا بنا دیا ہے۔ وہ اپنے آپ میں ہی کسی اونچے آدرش سے برابری کرنے لگ گئے ہیں۔ اسانجے اب اس بچے جیسے نہیں لگتے جس نے ایک سوپر پاور کو بے نقاب کیا اور چلتا بنااور اب وہ باقی زندگی کرسی پر بیٹھ کر آرام کرتے گذارنا چاہتا ہے۔ اس کتاب کا پراجیکٹ گذشتہ برس دسمبر میں ان کے پبلشر کے اشتراک سے شروع ہوا تھا اور ایک بھاری رقم سے اس معاہدہ کو مضبوط کیا گیا۔ جب اس کے لئے اپنے دیے گئے انٹرویوز پر مشتمل پہلا مسودہ لکھا جا چکا تو اسانجے نے جون میں معاہدہ توڑ دیا۔ تب اسانجے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے اسے حق بجانب قرار دیا تھا کہ پوری سوانح حیات کا قلمبند کرانا جسم فروشی جیسا ہی ہے۔ لوگوں کا عکس ابھار نے کے لئے اس طری کی بہت چمک دمک اور دکھاوے والی محاورے بازی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں دو چار الفاظ اور جوڑ دیں۔ تو بغیر کسی بات کے اشتہاربازی کرنے کا مسئلہ تیار ہو جاتا ہے۔ اسانجے جیسے لوگوں کی سبھی کہانیاں اجتماعی زنا بالجبر جیسی ہیں۔ تمام جائزے دماغی عیاشی تھے اور تمام تاریخ بدکرداری ہے۔ صرف 15سیکنڈ کی شہرت کے لئے ہمیشہ پبلشروں کو خوش رکھنے کے لئے اس طرح کا کوڑا کرکٹ لوگ لکھتے ہی رہتے ہیں۔ اسانجے اب سوانح حیات اور عوامی رابطے کی پریس ریلیز میں فرق ثابت کرنے والی حالت میں بھی نہیں رہے۔ اس کی وکالت کرنے والے بلا شبہ یہ دلیل دیں گے پینٹا گن کو چیلنج دینے کی ہمت دکھانے کے لئے انسان کو اپنی اوقات بارے کچھ بھرم میں پڑا ہونا ہی چاہئے۔ اسانجے ایک مشہور ’ ہیرو‘ ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ہے کہ کہ کیا وہ ان دستاویزات کو چوری کر کے اسانجے کو پہنچانے والے امریکی فوجی بریڈے میٹنگ سے بھی بڑا ہیرو ہے اور آج یہ میگزینوں کے صفحہ اول کی زینت بننے کے بجائے کسی نامعلوم کال کوٹھری میں بند ہے۔ اسانجے کی ’ غیر آفیشیل‘ سوانح حیات میں ایک ایک بہت ہی دل کو چھولینے والا لمحہ آتا ہے۔ 1996میں اسانجے پر کینیڈین دور مواصلات سسٹم میں نقب زنی کرنے کے الزام میں آسٹریلیا میں مقدمہ چلا۔ جب وہ اپنا بیان درج کرانے کے لئے کھڑا ہو تو اس نے اپنے سامنے اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی کو پایا جو سلطانی گواہ بن گیا تھا۔ اسانجے نے لکھا اس آدمی کی آنکھوں میں غداری کی جھلک کوکبھی نہیں بھولوں گا کیونکہ وہ غدار ایساظاہر کرنے کی نوٹنکی کر رہا تھا جیسے اسے سچائی سے عشق ہو۔ میں یہ سوچ کر کر حیران ہوں کہ جیل میں عمر قید بھگت رہا امریکی سپاہی بھی اگر اسانجے کواپنے سامنے پائے تو وہ بھی اس کی آنکھوں میں ویسی ہی غداری کی جھلک دیکھے گا۔

اصلی ’ ہیرو ‘ اسانجے نہیں امریکی فوجی بریڈلے میننگ ہے 








